افسانہ

دھوپ کی تلاش

جیسے کوہ قاف کی کوئی ناراض اور پاگل سی پری اپنے داہنے ہاتھ میں جادو کی چھڑی گھماتی ہوئی زمین پر اتری ہو اور غصے سے چیخ کر بولی ہو’’سروناش ‘‘ ! بالکل ایسا ہی اگلی صبح ہوا تھا۔ اپنے اپنے کاموں پر جانے کے لئے حسب معمول سو کر اٹھنے والے لوگ مقررہ وقت پر ہی اٹھے تھے مگر یہ دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

دائرے میں گھرا آدمی

بھیڑ کے دائرے میں ڈمرو لیے چکر کاٹتے ہوئے اسے آج بھی لگتا ہے کہ تنے ہوئے رسے پر اپنے چندن جیسے جسم کا توازن برقرار کیے مالتی دونوں ہاتھوں میں ربن کی رنگینیاں بکھیرتی اس کی طرف آرہی ہے۔ حالانکہ وقت کا تھپیڑا اس کی عمر کا ایک بڑا حصہ کتر کر لے گیا ہے لیکن وہ کسی بھی شو میں مالتی ...

مزید پڑھیے

نیا نروان

وہ اچانک گھر سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ لمبےلمبے قدم بڑھاتا ہوا۔ سڑک پر ایک دو بجلی کے کھمبے نکلے اور چھوٹے بچے کی آواز نے پیچھا کیا،’’پاپا۔۔۔پاپا۔۔۔‘‘ اس کے قدم اور بھی تیز ہوگئے۔ لیکن آواز نے پیچھا نہ چھوڑا تو دھیمے پڑگئے۔ پلٹ کر وہ بیوی سے سختی سے بولا جو بیٹے کو چھاتی پر رکھے ...

مزید پڑھیے

چھپکلی

کار سے اترتی مسز ڈالمیا کے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ ہلچل مچائے ہوئے تھی۔۔۔ کلب کے فینسی ڈریس مقالہ میں پہلا انعام حاصل کرناہی ہوگا۔۔۔کسی بھی طرح ۔۔۔صرف ایک ہی دن رہ گیا ہے۔۔۔ اور اب تک کوئی نایاب آئیڈیا گرفت میں نہیں آیا، کام بننے والا نہیں ہے شاید۔ پہلا انعام۔۔۔ جس کے بدلے میں ...

مزید پڑھیے

اللہ میاں کے نام

اللہ میاں۔۔۔۔ میں رجو، بشیر کی بیوہ۔ پتہ ہے محلے کا مولوی آج جمعے میں کہہ رہا تھا کہ آپ شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں، آپ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر بھی ہیں۔ اللہ میاں کیا یہ سچ ہے؟ اس مولوی کی بات کا تو مجھے کوئی اعتبار نہیں۔ فضل بھائی کی لڑکی تو اس کی وجہ سے مر گئی اور وہ ...

مزید پڑھیے

کلیشے

تم کون ہو؟ اندھیری رات میں فٹ پاتھ پر ایک ضعیف مگر بدہیت آدمی سے اس کے ساتھ ہی لیٹے دوسرے شخص نے پوچھا۔ سڑک کنارے آتی، جاتی گاڑیوں کی روشنی میں وہ بہت دیر سے اس بوڑھے کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھے کی سرخ آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی مگر چہرے سے وحشت ٹپکنے کا احساس بھی ہوتا تھا۔ سفید اور ...

مزید پڑھیے

خدا کا جنم

31 اگست، آج خدا کی برسی ہے۔ آج سے ٹھیک پچیس سال پہلے میں نے خدا کو مار دیا تھا اور ہر سال خدا کی برسی بڑی دھوم دھام سے مناتا ہوں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ برسی کس کی ہے؟ کوئی نہیں جاتنا، معلوم صرف مجھے ہے کہ خدا کو میں نے مارا تھا۔ چھ سال کی عمر میں ایک دفعہ مجھے گلی کے ایک کونے سے ...

مزید پڑھیے

ایک شوہر کی خاطر

اور یہ سب کچھ بس ذرا سی بات پر ہوا۔۔۔ مصیبت آتی ہے تو کہہ کر نہیں آتی۔۔۔ پتہ نہیں وہ کون سی گھڑی تھی کہ ریل میں قدم رکھا اچھی بھلی زندگی مصیبت ہوگئی۔ بات یہ ہوئی کہ اگلے نومبر میں جودھ پور سے بمبئی آرہی تھی سب نے کہا۔۔۔ ’’دیکھو پچھتاؤگی مت جاؤ۔۔۔‘‘ مگر جب چیونٹی کے پر نکلتے ...

مزید پڑھیے

مغل بچہ

وہ مرتے مرگیا مگر مغلیہ شہنشاہیت کی ضد کو بر قرار رکھا۔ فتح پور سیکری کے سنسان کھنڈروں میں گوری دادی کا مکان پرانے سوکھے زخم کی طرح کھٹکتا تھا۔ کگیا اینٹ کا دو منزلہ گھٹا گھٹا سا مکان ایک مار کھائے روٹھے ہوئے بچے کی طرح لگتا تھا۔ دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا وقت کا بھونچال اس کی ...

مزید پڑھیے

بھول بھلیاں

’’لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ۔ کویک مارچ!‘‘ اڑا اڑادھم! فوج کی فوج کرسیوں اور میزوں کی خندق اور کھائیوں میں دب گئی اور غل پڑا۔ ’’کیا اندھیر ہے۔ ساری کرسیوں کا چورا کیے دیتے ہیں۔ بیٹی رفیعہ ذرا ماریو تو ان مارے پیٹوں کو۔‘‘ چچی ننھی کو دودھ پلارہی تھیں۔ میرا ہنسی کےمارے براحال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 153 سے 233