افسانہ

بچھو پھوپی

جب پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو وہ رحمان بھائی کے پہلے منزلے کی کھڑکی میں بیٹھی لمبی لمبی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھیں۔ یہ کھڑکی ہمارے صحن میں کھلتی تھی اور قانونا اسے بند رکھا جاتا تھا کیوں کہ پردے والی بی بیوں کا سامنا ہونے کا ڈر تھا۔ رحمان بھائی رنڈیوں کے جمعدار تھے، کوئی ...

مزید پڑھیے

گھونگھٹ

سفید چاندنی بچھے تخت پر بگلے کے پروں سے زیادہ سفید بالوں والی دادی بالکل سنگ مرمر کا بھدا سا ڈھیر معلوم ہوتی تھیں۔ جیسے ان کے جسم میں خون کی ایک بوند نہ ہو۔ ان کی ہلکی سرمئی آنکھوں کی پتلیوں تک پر سفیدی رینگ آئی تھی اور جب وہ اپنی بے نورآنکھیں کھولتیں تو ایسا معلوم ہوتا، سب روزن ...

مزید پڑھیے

ساس

سورج کچھ ایسے زاویہ پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا کہ چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی گرمی اور روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی، اور اے لو وہ پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادھم اور ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے ...

مزید پڑھیے

ہندوستان چھوڑ دو

‏’’صاحب مرگیا‘‘، جینت رام نے بازار سے سودے کے ساتھ یہ خبر لاکر دی۔۔۔ ‏ ‏’’صاحب! کون صاحب؟‘‘ ‏ ‏’’وہ کانڑیا صاحب تھانا۔‘‘ ‏ ‏’’او کانا صاحب۔ جیکسن۔۔۔ چہ، بے چارا۔‘‘ میں نے کھڑکی میں سے جھانک کر ‏دیکھا۔ کائی لگی پرانی جگہ جگہ سے کھونڈی بتیسی کی طرح منہدم ہوتی ...

مزید پڑھیے

دو ہاتھ

’’رام اوتار خاکروب کی ماں کو تو پیٹ بھرنے کے لئے دو ہاتھوں کی ضرورت تھی۔ دنیا خواہ کچھ بھی کہے۔‘‘ رام اوتار لام پر سے واپس آ رہا تھا۔ بوڑھی مہترانی ابا میاں سے چٹھی پڑھوانے آئی تھی۔ رام اوتار کو چھٹی مل گئی۔ جنگ ختم ہو گئی تھی نا! اس لئے رام اوتار تین سال بعد واپس آ رہا تھا، ...

مزید پڑھیے

بہو بیٹیاں

یہ میری سب سے بڑی بھابی ہیں۔ میرے سب سے بڑے بھائی کی سب سے بڑی بیوی۔ اس سے میرا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ میرے بھائی کی خدا نہ کرے بہت سی بیویاں ہیں۔ ویسے اگر آپ اس طرح سے ابھر کر سوال کریں تو میرے بھائی کی کوئی بیوی نہیں، وہ اب تک کنوارا ہے۔ اس کی روح کنواری ہے۔ ویسے دنیا کی نظروں ...

مزید پڑھیے

ننھی کی نانی

ننھی کی نانی کا ماں باپ کانام تو اللہ جانے کیا تھا۔ لوگوں نے کبھی انہیں اس نام سےیاد نہ کیا۔ جب چھوٹی سی گلیوں میں ناک سڑسڑاتی پھرتی تھیں تو بفاطن کی لونڈیا کے نام سے پکاری گئیں۔ پھر کچھ دن ’’بشیرے کی بہو‘‘ کہلائیں پھر ’’بسم اللہ کی ماں‘‘ کےلقب سے یاد کی جانےلگیں۔ اور جب بسم ...

مزید پڑھیے

بھابی

بھابی بیاہ کر آئی تھی تو مشکل سے پندرہ برس کی ہوگی۔ بڑھوار بھی تو پوری نہیں ہوئی تھی۔ بھیا کی صورت سے ایسی لرزتی تھی جیسے قصائی سے گائے مگر سال بھر کے اندر ہی وہ تو جیسے منہ بند کلی سے کھل کر پھول بن گئی جسم بھر گیا۔ بال گھمیرے ہوگئے۔ آنکھوں میں ہرنوں جیسی وحشت دور ہوکر غرور اور ...

مزید پڑھیے

بیڑیاں

’’تو یہ ہیں تمہاری قبر آپا۔۔۔ لا حول و لا قوۃ وحید نے اچھا بھلا لمبا سگریٹ پھینک کر دوسرا سلگا لیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو جمیلہ اس سے بری طرح لڑتی اسے یہی برا لگتا تھا کہ سگریٹ سلگالی جائے اور پی نہ جائے بلکہ باتیں کی جائیں۔ جب سلگائی ہے تو پیو۔ دھواں بناکر اڑا دینے سےفائدہ۔ مفت ...

مزید پڑھیے

مغالطہ

اس چھوٹے سے شہرکے لئے یہ بہت بڑا واقعہ تھا ۔جس نے سنا،دوسروں تک یہ خبرپہنچانے میں نہایت تیزی اورتندہی سے کام لیا ۔ نوشاد کوجب اس واقعے کا علم ہوا،اس کا پورا وجود دہل گیا۔ایک عجیب سناٹا،خوف،سراسیمگی اور ہیبت سے وہ لرز اٹھا ۔ پھراچانک اس کے دماغ میں، ایک کوندا سالپکا اور وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 154 سے 233