نیا نروان
وہ اچانک گھر سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ لمبےلمبے قدم بڑھاتا ہوا۔ سڑک پر ایک دو بجلی کے کھمبے نکلے اور چھوٹے بچے کی آواز نے پیچھا کیا،’’پاپا۔۔۔پاپا۔۔۔‘‘ اس کے قدم اور بھی تیز ہوگئے۔ لیکن آواز نے پیچھا نہ چھوڑا تو دھیمے پڑگئے۔ پلٹ کر وہ بیوی سے سختی سے بولا جو بیٹے کو چھاتی پر رکھے دوڑی چلی آرہی تھی،’’تم لوگ لوٹ جاؤ، میں نہیں واپس آؤں گا۔‘‘
نکڑ پر ایک رکشا شمال کی طرف بھاگتا دکھا۔ اس میں کوئی سوار تھا۔ اس نے زور سے آواز دی،’’رکشا۔۔۔‘‘ وہ جلدی سے اسی میں لد کر بھاگ جانا چاہتا تھا کہ بیوی پیچھا نہ کرسکے لیکن رکشا نہیں رکا۔ نکڑ پر اب بیوی بھی آچکی تھی۔ اس نے سوچ لیا میں ایسا ہی رکشا لوں گا جس پر ایک سواری ہو،تا کہ یہ نہ چڑھ سکے۔۔۔ اور وہ رکشا بھی آگیا۔ وہ جنوب کی طرف جانے والا تھا۔ وہ لپک کر اس میں بیٹھ گیا۔ رکشا چل پڑا تو بیوی اس کے پیچھے دوڑ پڑی۔بیٹا’’پاپا، پاپا‘‘ کی رٹ لگائے تھا۔ کچھ دور جاکر رکشے والا ٹھہر سا گیا، تو وہ اور ماں بیٹا بالکل قریب آگئے۔ وہ زور سے بولا،’’جاؤ، تم لوگ ! لوٹ جاؤ۔۔۔‘‘
رکشا آگے بڑھ گیا۔ اس نے بیوی کے آنسو نہیں دیکھے اور منہ پھیر لیا۔ ڈر تھا وہ دوسرا رکشا پکڑ کر اس کا پیچھا کرنے لگے گی۔ ایک دو کھمبے نکل گئے تو پھر اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ اب وہ اوجھل ہوگئی تھی۔پھر اس نے ہر موڑ پر پلٹ کر دیکھا۔ بھیڑ میں کوئی اپنا نہیں تھا۔ بیٹے کی آواز اب صرف یادیں تھیں۔ بیوی کا چہرہ جیسے سایہ۔ اس کے دل میں چبھن سی ہونے لگی۔
رکشا اسٹینڈ پر آکر رک گیا،’’کہاں جاؤگے ساب!‘‘ وہ خاموشی سے اترگیا۔ اس کا ہاتھ پینٹ کی جیب میں گیا پھر رکشے والے کی ہتھیلی پر اور پھر وہ مایوس سا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ آنکھیں اسی راہ پر لگی تھیں۔ دور دور تک اب کوئی سایہ نہ تھا، نہ کوئی پکار۔
یہ تو ہونا ہی تھا۔ اس نے خود کو تسلی دی۔ وہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے بھاگنے کو ہے۔ اسے ایک عجیب سی مایوسی نے گھیر لیا تھا۔ اپنے کام میں جی لگتا نہ بیوی میں کوئی دلچسپی اور نہ بچے کے کھیل اچھے لگتے۔شروع سے ہی وہ اپنے آپ میں مگن تھا۔ اس کا کوئی دوست تھا نہ کوئی محفل۔ گھر میں بھی والدین، بھائی بہنوں سے سارا سارا دن بات نہیں کرتا۔ کوئی دس بار بلاتا تو بڑی مشکل سے ہاں، ہوں کرتا۔ سب جانتے تھے کہ اس کے نزدیک تو بول بھی مول بکا کرتا ہے۔ سب نے اسے چلتی پھرتی مورتی کی طرح ایڈجسٹ کرلیا تھا۔ وہ سب ایسے رشتے دار تھے جن پر اس کی خاموشی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ وہ مہلک عادت اس کی فطرت بن گئی۔ ایسی فطرت کہ جسے اب بدلا نہیں جاسکتا۔ اس نے پھر نگاہ دوڑائی۔۔۔سڑک پر بھیڑ تھی اور کوئی نہیں تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس چھوڑی۔ سوچا، ’’اسے افسوس ہے۔‘‘
ہے۔۔۔ تو۔۔۔ لیکن یہاں سے نکلتے ہی دور ہوجائے گا۔ جگہ چھوٹتے ہی اس کا موہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ ایک بس آکر رکی۔ دوسری سواریوں کے ساتھ وہ بھی بس میں چڑھ گیا۔ ایک سیٹ پر بیٹھ کر گیٹ کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ لوگ آتو نہیں رہے۔ بس چل دی تو اس نے پھر ایک گہری سانس لی۔۔۔ ایک کنارہ چھوٹ گیا۔ وہ آنکھیں موند کر بیٹھ گیا۔ سوچا نہیں تھا کہاں جانا ہے۔ بھاگنا ہے، بس بھاگنا ہے، رہنا نہیں ہے۔ رہنا نہیں ہے کیونکہ ڈسٹرب نہیں ہونا ہے۔ اسے اپنی تنہائی عزیز ہے۔ اس کے خیالوں میں خلل پڑتا ہے تو وہ پاگل سا ہوجاتا ہے۔ اسے جنم سے ہی لگتا رہا ہے کہ وہ ایک ایسی پتنگ ہے جو ہوا کے زور سے اڑتو یہاں رہی ہے، لیکن اس کی ڈور کہیں اور جڑی ہے۔
بچپن میں بھی اور پھر پڑھائی کے دنوں میں بھی اس کی محوگی قابل تعریف تھی، جو نہ کھیل کے لیے تھی، نہ کتابوں کے لیے بلکہ اپنے خیالوں کے لیے تھی۔ وہ کھیل شروع کرتے ہی نہ جانے کہاں کھوجاتا اور کتاب لے کر بیٹھتے ہی مراقبے میں چلا جاتا۔ چھت پر گھنٹوں اکیلے کھڑا رہتا، پیروں میں چینٹیاں بھر جاتیں تو جاگتا۔ گھروالے اس کے علاج کی سوچتے لیکن ڈاکٹرز اور آخر میں ایک ماہر نفسیات نے صاف صاف سمجھا دیا کہ اس کا دماغ ایک دم درست ہے، وہ جینیس ہے۔۔۔ کبھی کچھ کرگزرے گا، اس میں زبرست محوگی ہے۔
تب سے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ بس ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ کھڑکی کی جانب بیٹھا ہے، باہر آسمان اور دھرتی ایک دوسرے پر نچھاور ہو رہے ہیں۔ یہ کرشمہ وہ بچپن سے دیکھتا آرہا ہے۔ اس نے کسی گیت میں سنا تھا،’’عورت زمین ہے اور مرد آسمان، آسمان جھکتا ضرور دکھتا ہے، زمین پر اترتا سا نظر آتا ہے لیکن وہ حقیقت نہیں ہے۔ آسمان زمین سے بندھ کر نہیں رہ سکتا، زمین پر اتر بھی نہیں سکتا۔ زمین تو خود ہی اس کے مہاشنیہ میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔‘‘
اسے پھر بیوی کا چہرہ دکھ گیا۔ بات کیا ہوئی جو وہ اس طرح چلا آیا۔ اسے کوئی وجہ نہیں سمجھ میں آرہی تھی۔ سارے واقعے میں اسے اس کا کوئی قصور نہیں ملا۔ وہ تو جب سے ملی ہے، اس پر قربان ہے۔ خاموشی سے سارے کام کرتی ہے، خاموش بیٹھی رہتی ہے، بالکل ڈسٹرب نہیں کرتی۔ اس کی ہر خواہش بھانپ کر پوری کرتی رہی ہے۔۔۔ اور تبھی لگا کہ! دراصل اس کا ہونا اور اس کے بعد بیٹے کا ہوجانا۔۔۔ اسے اپنے اوپر ایک جال سا کھنچتا لگ رہا تھا۔ اس کی آتما بندھن میں پڑتی جارہی تھی۔ نوکری کی وجہ سے بھی وہ بہت بندھن محسوس کرتا تھا۔ پہلے تو ایک چیلنج مان کر وہ نوکری کے لیے بڑھا تھا، لیکن جب مل گئی تو گلے میں پھانس سی پڑگئی۔ اسے اپنے روزمرہ کے معمولات بدلنے پڑے۔ بلاوجہ ہی وہ مصروف ہوگیا۔ صرف تھوڑے سے پیسوں کی خاطر۔ پیسہ جس سے کہ زندگی بسر ہوتی تھی، سہولیات ملتی تھیں، سماج میں ایک ساکھ بنتی تھی اور اسی کی خاطر انسان کا اعلیٰ ترین اینٹ، پتھر، لوہا لنگڑ، کباڑ پرنچھاور ہوجاتا۔ اس کی ساری ذہانت میں یہاں آکر زنگ لگ جاتا۔
۔۔۔اور ایسے ہی دوسرا جال بھی اس نے خود بن لیا۔ اسے لگا کہ سب کی بیویاں ہوتی ہیں، کچھ ایک کی معشوقائیں بھی۔ تو شوق شوق میں اس نے ایک کوشش کرڈالی۔ وہ اس کے کولیگ کی بہن تھی۔ تازہ تازہ بی اے کیا تھا۔ کولیگ کا سارا خاندان پہلے سے ہی اسے پسند کرتا تھا۔ لڑکی بھی کرتی تھی یا نہیں، وہ نہیں جانتا لیکن اس کے ساتھ اس کی ملاقاتیں بڑھ رہی تھیں۔ وہ دونوں عمر کی ایسی دہلیز پر تھے جس کے اس پار نجات اور اس پار بندھن تھا۔ وہ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کی طرف کھینچ رہے تھے۔ یہ کھنچاؤ وہ محسوس تو کر رہے تھے لیکن اس سے کترانے کی بجائے دن بدن اسی طرف آتے جارہے تھے۔
وہ چھوٹی چھوٹی ملاقاتیں۔۔۔ ریستوران کی، پارکوں کی، پارٹیوں کی، انہیں گہرائی تک جوڑتی گئیں۔ اسے لگنے لگا کہ جو رنگ باہر بکھرے تھے اور اسے نہ جانے کب سے کھینچ رہے تھے، وہ سب اندر سمٹ آئے ہیں۔ ایک میٹھی دھن جواب تک دور بجتی رہی تھی، اب اس سے ملن ہونے پر جل ترنگ سی اندر ہی بج اٹھتی ہے۔۔۔ غرض یہ کہ جو کچھ باہر تھا اور جس کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا وہ قریب ہے اور حاصل ہے اور اندر آتا جارہا ہے۔ وہ خودکوشاں ہوگیا۔
اب اکثر تنہائی میں اسےلگتا کہ اس کی صاف ستھری ہتھیلیوں میں کسی کبوتر کی طرح گھونسلا بنالے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھپ جائے یا سیاہ بالوں میں خلا سے لوٹے تھکے ہارے پرندوں کی طرح گہری نیند سوجائے۔ یہی ہے دوسرا کنارہ جس کے لیے بھٹکتا تھا۔ اس کے پتنگ کی ڈور اسی معصوم کی آنکھوں میں ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہ سرنگ ہے جو اس کے دل تک اترجاتی ہے۔ اور دل میں وہ خزانہ ہے جسے اسے پانا ہے۔ وہاں طمانیت ہے، مسرت ہے، اس سفر کا اختتامی نکتہ ہے۔ آخری پڑاؤ۔
کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ نہ ادھر نہ ادھر۔ لڑکا خوب صورت اور اسمارٹ تھا اور نوکری پیشہ۔ پان سگریٹ تک سے دور۔ لڑکی حسین تھی۔ پڑھی لکھی، سیدھی سادی اور امور خانہ داری میں ماہر۔ اس کی آنکھوں میں کشش تھی اور آواز مصری کی ڈلی۔۔۔ لہٰذا اس نے اسے بڑی آسانی سے پالیا۔ باقاعدہ شادی کے بندھن میں بندھ کر بیوی بنالیا۔ اب کلّیت اس کی مٹی میں آگئی تھی۔ اس کے اندر جل ترنگ بے روک بج اٹھا تھا۔
’’اپنےاحساسات بیان کرو۔۔۔‘‘اس نے آہستہ سے کہا۔
شرم اس کی مسکراہٹ بن کر ابھر آئی۔ بڑی مشکل سے پلکیں اٹھیں۔ پھر کانپتی سی دھیمی آواز میں ایک ذومعنی گیت گانے لگیں،’’میں تو کب سے کھڑی اس پار کہ انکھیاں تھک گئیں پنتھ نہار۔۔۔‘‘ اسے لگا یہی ہے وہ پکار جو عرصے سے اس پار سے آرہی ہے۔ اس کارواں رواں بیدار ہوگیا۔ آگے کی لائن پر وہ جذباتی ہوکر اس کی آغوش میں گرپڑا۔ جیسے ملن کی عرصے سے منتظر گھڑی پاس کھڑی تھی۔۔۔ چانک کی طرح اپنے ہونٹ کھولے ہوئے۔
دن ہوا ہونے لگے اور راتیں ڈوبنے لگیں۔ زندگی ایک بہتی ندی بن گئی،جس میں آسمان کے دونوں کنارے اتر آئے۔ اب نہ کوئی بھٹکن تھی، نہ لاابالی، نہ تشنگی۔ اب تو بات بات میں ڈسٹرب نہیں ہوتا تھا۔ اب وہ زیادہ تنہائی نہیں تلاش کرتا تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق لگتا تھا۔ لیکن اندر ہی اندر کوئی پھوڑا پک رہا تھا۔ ایک عجیب سا تناؤ رہتا۔ دھواں، بارش تو کبھی تاریکی، راستوں پر لوگ پر چھائیوں سے بھاگتے دکھتے۔اس تبدیلی کو اس کی بیوی نہیں جانتی تھی۔ وہ تو عام بیویوں کی طرح اس اس سے چیزوں کی، گھومنے کی اور سوسائٹی مینٹین کرنے کے تقاضے کرتی رہتی اور اسے چڑ سی ہوتی رہتی لیکن اندر ہی اندر گھٹتا رہتا۔
پھر ایک دن یہ ہوا کہ لتا منگیشکر کو بھارت رتن کا خطاب دے دیا گیا۔ اس دن ٹی وی پر اچانک اس نے پھر وہی گیت سنا۔۔۔ اور دھک سے رہ گیا۔ اس گیت کاایک ایک لفظ اس کے اندر اترتا چلا گیا، جس نے آج تک نکلنے کا نام نہیں لیا اور اس ایک سطر نے تو اس کے اندر طوفان ہی برپا کردیا،’’میں ندیا، پھر بھی میں پیاسی۔۔۔‘‘
جیسے اس نے اپنی پیاس کو اور اندر کی آسودہ حالی کو ڈھونڈ لیا تھا اور مایوس ہوا تھا کہ وہ کیسےدوہرے وہم کا شکار ہوگیا۔ ایک خاک سے بنا جسم دوسرے خاک سے بنے جسم کی آسودگی کا ذریعہ کیسے ہوسکتا ہے۔ خاکی جسم کی آسودگی بھلا کیسے ممکن ہے؟ اب اس کا جی اچٹ گیا تھا۔ وہ بیمار سا دکھنے لگا۔ وہ بیمار سا رہنے لگا۔ اس کی بیوی بہت پریشان تھی۔ اسے اس پر رحم آتا۔ اسے اس کی ناسمجھی پر ترس آتا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ ترس آنا بھی بند ہوگیا۔ کیونکہ وہ پھر سے اپنے آپ میں غرق رہنے لگا تھا۔ اسی دوران وہ بیٹے کا باپ بھی ہوگیا لیکن اس پر بھی اس کا کوئی ردعمل نہ ہوا۔ باہر سے لگتا کہ سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن اندر ہی اندر وہ بہت کھوکھلا ہوا جارہا تھا۔
اب دن کاٹنے کو دوڑتے تھے اور راتیں مارنے کو۔ اس کی مایوسی سے بیوی تناؤ میں تھی۔ آنکھیں ڈبڈبائی رہتیں اور بیوی کے اس منحوس چہرے سے اسے چڑسی ہوتی تھی۔ اسے دفتر بھی برا لگتا اور گھر بار بھی۔ تنہائی تلاش کرتا۔ کبھی ندی کنارے، کبھی پہاڑے کے پیچھے۔۔۔ بیوی اپاہچ سی پیچھا کرتی چلی آتی تو وہ اور غصےمیں آجاتا۔ اتنا لاتعلق، اس قدر اجنبی کہ اس کی رلائی پھوٹ پڑتی۔
بہت دنوں تک کوئی راستہ نہیں سوجھا تو ایک دن وہ اس کے بوڑھے والد کے گھر گئی اور روتے ہوئے سارا حال بیان کیا۔ وہ بیٹے کی عادتوں سے واقف تھے، پھر بھی بہو کی تکلیف جان کر دکھ ہوا۔ وہ ایک تجویز لے کر آئی تھی۔ اس نے زور دے کر کہا،’’ابا جی! آپ چلیے۔‘‘ والد نے کہا،’’بیٹی! میں کمزور آدمی۔۔۔ اب اسے کیا راہ پر لاؤں گا۔۔۔ وہ تو شروع سے برباد تھا۔ میں تو اس کی شادی بھی نہ کرتا۔ جانتا تھا کسی معصوم کی آہ مجھ پر پڑے گی۔۔۔ لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ تم لوگوں نے خود ہی قدم بڑھا کر اپنا ارادہ ظاہر کیا تو۔۔۔ ہم لوگوں نے بھی سوچا کہ اب وہ بدل رہا ہے، اس کی بھی دنیا بس جائے گی۔۔۔ ہر والدین یہی چاہتے ہیں لیکن ہونی۔۔۔‘‘ باپ نے آنکھیں پونچھیں۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے پھر زور دیا،’’لیکن آپ چلیے۔۔۔ میں اکیلی کب تک۔۔۔‘‘ وہ رونے لگی۔ اور پھر دو ایک دن بعد بوڑھا باپ اپنا تھوڑا ساسامان لے کر اس کے گھر اڈہ جمانے آگیا۔
اس کی تیوری چڑھ گئی۔ اسے عجیب سا لگا۔ بیٹے کے ہونے کو تو وہ برداشت کرگیا تھا لیکن زندگی میں باپ کی پھر سے آمد کو وہ برداشت نہ کرسکا۔اسے لگا کہ وہ اب تو پوری طرح گھر گیا ہے۔ دوسیڑھیوں کے درمیان کی سیڑھی بن کر رہ گیا۔ باپ سارے پہلو، بھلا برا، دنیاوی ذمہ داریاں وغیرہ سمجھاتے رہے، جب کہ وہ سب کچھ جانتا تھا، پہلے سے ہی جانتا تھا۔
اور اسے معلوم تھا کہ جس نے تاج محل بنوایا اور جن لوگوں نے فتوحات کے جھنڈے لہرائے۔۔۔ وہ سب گمراہ تھے۔ خواب میں کتنی بھی محنت کرو سب بے کار ہوتا ہے لیکن وہ اپنے خیالات کا کبھی اظہار نہیں کرتا تھا۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا۔ یہاں کوئی ساجھے داری یا آدان پردان وہ نہیں چاہتا تھا۔ وہ تو خود ہی اس تلاش میں رہتا تھا کہ یہ کرشمہ آخر ہے کیا۔ اسے بہت خوشی ہوتی کہ جب وہ پوری کائنات کی سیر پر ہوتا۔۔۔ کہ جب پوری کائنات اس کے اندر اترتی رہتی۔۔۔ اور کوئی ٹچ کردیتا تو اس کی سمادھی ٹوٹ جاتی۔ اس کا جی بے چین ہوجاتا۔
اب ایسے میں نوکری کرنا اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانا بہت دشوار لگ رہا تھا۔ اس کی کھوپڑی پر ایک پہاڑ سا رکھا تھا۔ وہ اسے اتار پھینکنا چاہتا تھا لیکن دن بہ دن اور گہری کھائی میں دھنستا جارہا تھا۔ اس کے اندر تک ایک تاریکی ا تر رہی تھی جس کے ہاتھ میں کوئی روشنی نہ تھی۔باپ کے آنے کے بعد بھی وہ صبح کا گیا شام کو لوٹتا۔ کبھی کبھی شام کا گیا صبح تک۔ وہ لوگ اس کی غیرحاضری کو اپنے اور پاس پیدا ہوگئے کانٹوں کی طرح محسوس کرتے اور بچے کی پھول سی کلکاری سے مطمئن ہولیتے۔
باپ بیمار اور کمزور تھے۔ ان سے خود کا بھی کام نہیں ہوپاتا۔ وہ بچے کو اور باپ کو سنبھالنےمیں لگی رہتی۔ اس کا دن انہیں دونوں کے لیے طلوع ہوتا اور رات انہیں کے لیے بیت جاتی۔ باپ کی دھندلی آنکھیں اکثر ڈبڈبائی رہتیں لیکن وہ عادی ہوگئی تھی۔ اس نے اسی زندگی کو اپنی قسمت مان لیا تھا۔ جیسے کہ نبھانے کا دوسرا نام عورت ہے۔ اس لیے وہ تھی اور پکی پوری تھی۔ اسے اسی میں سکھ اور سکون ملتا۔اگر اس کا آدمی بری صحبت میں یا نشے کا شکار ہوتا تو اس کا پیچھا بھی کرتی اور ان چیزوں سے باہر نکال لاتی، اس کے لیے اسے چاہے جو بھی قربانی دینی پڑتی لیکن وہ خود ریاضی میں مشغول تھا۔ وہ مجبور کیا کرتی اور زندگی بھی اس نے انسان کی پائی تھی۔ کسی کیڑے مکوڑے کی پائی ہوتی تو اس ہاتھ ہوئے اس ہاتھ مرکھپ گئے۔ لیکن انسان تو اپنی پوری عمر جیتا ہے۔ بڑی مشکل سے مرتا ہے۔۔۔ سارے دکھ بھوگ کر۔ جب کچھ بھی دیکھنے کو باقی نہیں رہ جاتا اس کے حصے کا، تب مرپاتا ہے۔
باپ اب مر رہے تھے۔ وہ سوچتا کہ باپ نے کتنی بیش قیمت زندگی محنت،مشقت میں نکال دی۔ سخت محنت کرکے دولت کمائی اور پھر باقی چوتھائی زندگی کا بیشتر حصہ تو مکان بنانے میں گزاردیا۔ کیا وہ اس میں ہمیشہ رہ سکیں گے؟ اس کے ذہن میں وہی سانپ سی سرسراتی لکیریں ابھرتیں جو نہ ڈستی ہیں نہ چھوڑتی ہیں۔ کنڈلی مار کر بیٹھ جاتی ہیں۔
باپ ایک روز انتقال کرگئے۔ وہ گھر پر نہیں تھا۔ جب تک واپس آیا ساری رسومات پوری ہوچکی تھیں۔ گھروالوں اور رشتے داروں کے سامنے اسے بڑی شرمندگی اٹھاناپڑی۔ پھر وہ اور بھی کم گوہوگیا اور باپ کے انتقال سے اسے ایک صدمہ بھی لگا کہ اب تک تو وہ صرف سنتا آیا تھا کہ انسان مرتا ہے۔۔۔ ہر کوئی ایک نہ ایک دن مرجاتا ہے لیکن اب تو یہ مرنا اس نے جان بھی لیا تھا۔ اب اسے یقین ہوگیا کہ وہ بھی بچے گا نہیں، ایک دن ضرور مرجائے گا اور یہ اس کا پھول سا بیٹا بھی کسی دن مرجائے گا۔ بیوی بھی، جو ابھی اتنی جوان اور خوب صورت دکھتی ہے، رفتہ رفتہ سوکھ کر کانٹا ہوجائے گی، جیسے باپ ہو گئے تھے۔ اور ایک دن مرجائےگی۔ مرنے کا ایک زبردست احساس اس کے اندر گھر کرگیا۔ اسے ساری جدوجہد فضول اور بے معنی لگی۔ اب موت کا اسے احساس ہوگیا تھا۔ وہ یقینی اور زندگی غیر یقینی ہے۔ سو وہ بھاگ نکلنے کے لیے چھٹپٹا اٹھا تھا۔
اچانک بس رک گئی تو اندر گرمی لگنے لگی۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔ بس خالی تھی۔ صرف کچھ عورتیں بیٹھی تھیں۔ وجہ جاننے کے لیے وہ نیچے اترا۔ اس کی بس جام میں پھنسی تھی۔ پیچھے ہی کئی گاڑیاں آکر لگ گئیں اور آگے تو نہ جانے کب سے لگی ہی تھیں۔ ماجرا کیا ہے، جاننے کی اسے کوئی جلدی نہیں۔ سڑک پر موٹر گاڑیوں اور انسانوں کی گہماگہمی تھی۔ وہ واپس بس میں بیٹھ گیا۔ سامنے سورج ڈوب رہا تھا۔ اپنے خیالوں سے جیسے ہی وہ باہر آیا تو چونک پڑا۔ نیچے بیوی چلی آرہی تھی۔ گھریلو شلوار سوٹ میں۔۔۔ سینے سے بیٹے کو لگائے۔۔۔ سونی آنکھیں اور بکھرے بال۔ وہ حیران رہ گیا۔وہ بے حال ہوکر پیچھا کر رہی ہے۔ اس کے ذہن میں سال پرچھائیوں کی طرح لوٹ آئے ۔وہ شروع کےدن یک بارگی آنکھوں کے اندر ٹھہر کر رہ گئے۔ جسم کا ہر حصہ سونا پڑگیا تو اس کی پلکوں کے نیچے اس نے ایک مقدس عبادت کی طرح اس نے کچھ محسوس کیا۔
اگلے پل وہ بس کے اندر تھی۔۔۔ اور اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔پھر نزدیک آکر آہستہ سے بیٹےکو سینے سے ہٹاکر اس کی طرف بڑھا دیا تو وہ انکار نہ کرسکا۔ اسے لگا، یہ بھی یہیں بیٹھ رہی ہے۔اندر کچھ بجنے سا لگا۔ لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا وہ پلٹ کرجاتی ہوئی بولی،’’اپنی امانت سنبھالنا۔‘‘
وہ بھونچکا رہ گیا۔
۔۔۔پھر جب وہ کھڑکی کے نیچے سے گزری تو اس کے چہرے کی سختی دیکھ کر تو وہ اور بھی حیران رہ گیا۔
جام کھل جانےسے سڑک پر بھگدڑ سی مچ گئی تھی۔ مسافر اپنی سواریوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور گاڑیاں منزل کی طرف۔ بیٹا اس کی گود میں رہ گیا تھا، بیوی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ عورت بھی ایک آزاد فرد ہے۔۔۔ اور وہ بھی کبھی بھی کوئی فیصلہ لے سکتی ہے۔ اب اسے بس کے انجن کی طرح اپنے اندر بھی بڑے زور کی گھڑگھڑاہٹ ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔