افسانہ

مصروف عورت

میں ایک مصروف عورت ہوں! اب میں آپ سے درخواست کروں گی کہ یہ لفظ (عورت) قوسین میں کردیجیے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے صرف ایک مصروف وجود سمجھا جائے۔ چلیے اصولی طور پر نہیں تو صرف چند لمحوں کے لیے۔ ضرورتاً ۔ عاریتاً۔ صرف اس کہانی کے لیے۔ تو میں ایک مصروف ہوں۔ یہ مجھے بار بار اس لیے ...

مزید پڑھیے

زوال پسند عورت

آج مکھی کے گھر ماتم ہوگیا۔ سوگواروں کا ہجوم چلا آتا ہے۔ کسی نے کہیں سے خبر پائی، کسی نےکسی مقام پہ سنا اور کھنچا چلا آیا۔ اب ایک نقطہ ہے اور اس کے گرد ایک سیاہ ہجوم۔ ایک دائرہ ایک حصار کیا ہوا۔ کس طرح ہوا۔ اچھا اسی طرح ہونا تھا۔ ایک مسلسل بھن بھن بھن۔ وہ ایک جانب، ساکت بیٹھی ...

مزید پڑھیے

بایاں ہاتھ

جناب والا! میں سچ کہوں گی۔ بالکل سچ۔ پورا سچ۔ اور کچھ نہیں مگر سچ، گو کہ یہ سب کچھ کہتے ہوئے بھی میں نہیں جانتی کہ سچ کیا ہے۔ یہ تو ایک ایسی شبیہ ہے جو کوئی ایک دیکھے تو سیاہ بالکل سیاہ نظر آتی ہے۔ کوئی دوسرا دیکھے تو روشن چمکتی دھوپ ایسی روشن، تو کیا یہ کوئی آنکھ کا نقص ہے۔ دونوں ...

مزید پڑھیے

ہزار پایہ

میں نے دروازہ کھولا۔ اندر کے ٹھنڈے اندھیرے کے بعد، باہر کی چکاچوند اور تپش پر میں حیران رہ گیا۔ دروازہ جس کا رنگ سلیٹی اور جالی مٹیالی تھی، اسپرنگوں کی ہلکی سی آواز سے بند ہوگیا۔ اس بند دروازے کے اندر ٹنکچر آیوڈین اور اسپرٹ کی بو تھی اور چمڑے منڈھے لمبے پنجوں اور پالش اتری ...

مزید پڑھیے

ڈولی

وہ اک شہر نور تھا۔ ایک سے بڑھ کے ایک پری زاد جھلملاتے لباس میں ادھر سے ادھر بھاگا پھرتا تھا۔ میں کسی بہت گھنے اندھیرے سے یکدم ادھر آن نکلی تھی اورحیرت سے چاروں سمت دیکھتی تھی کہ کسی بہت بڑی تقریب کا اہتمام ہے۔ وسیع پنڈال میں رنگ برنگ بتیاں روشن، فانوس جگمگاتے تھے۔ ست رنگے ...

مزید پڑھیے

ایک دفعہ کا ذکر ہے

یہ ایک عورت کی کہانی ہے۔ بلکہ یہ ایک بے حد معمولی عورت کی کہانی ہے۔ اگر تم ہنکارا بھرتے رہے تو امید ہے کہ یہ رات بھر میں ختم ہوجائے ورنہ کہیں میں سناتے سناتے سوگئی تو یہ پھر میرے ذہن سے اترجائے گی یا ہوسکتا ہے کہ میں یہ کہانی کہنے کا ارادہ ہی ترک کردوں اور پھر وہی اونگھ اور بیزاری ...

مزید پڑھیے

دوسرا آدمی

یہ سیٹ بھی مجھے چانس پر ملی تھی۔ ۲۳-A میں نے بورڈنگ کارڈ پر نمبر دیکھا۔ سیٹ شیشے سے ہٹ کر تھی۔ بیٹھتے ہوئے میں نے سوچا اگر آج نہ بھی ملتی تو ایسی کوئی بات نہ تھی۔ یوں بھی فوکر میں سفر کرنا اچھا خاصا بیزارکن تھا۔ اس سے تو اچھا ہے، انسان کسی بس میں بیٹھ جائے۔ میں نے عادتاً بیٹھتے ہی ...

مزید پڑھیے

پرندہ

ہاں! میں انہیں خوب پہچانتا ہوں۔ یہ اسی کے قدموں کی چاپ ہے۔ زینے پر پوری گیارہ سیڑھیاں۔ پھر دروازے کی ہلکی سی آہٹ اور وہ قدم، نرم رواں بادلوں کے سے تیرتے قدم۔ ادھر اس دہلیز سے اندر ہوں گے اور اس کمرے کا وجود بدل جائے گا۔ میں بدل جاؤں گا۔ ایک ان دیکھا مفہوم اس کمرے میں، میرے، اس کے، ...

مزید پڑھیے

بھٹی

اس نے وہ اونچا دروازہ کھولا اور باہر کچی سڑک پر نکل آئی۔ ایک چھوٹا سا اٹیچی کیس اس کے دائیں ہاتھ میں جھولتا تھا۔ اس میں راستے کا پورا نقشہ موجود تھا۔ نقشہ جو اب بے کار ہو چکا تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ وہ اس نقشہ پرنگاہ نہ ڈالے گی۔ بس ایک سمت کا احساس صحیح ہونا چاہیے۔ راستوں کا کیا ...

مزید پڑھیے

ادھ کھایا امرود

کوئی دوسرے کے ادھ کھائے امرود کو کیوں کھانے لگا۔ جب لنکا کا کوٹ ایک مرتبہ سر ہو چکا، اس کے جید پھاٹک کھل ٹوٹ چکے، تو اس پر یورشیں کرنے میں کیا تک تھی۔ اور حسن جہاں افراز مینو کو اس کمتری کا احساس تھا۔ سو یہی وجہ تھی کہ ہم حدیقہ والی کوٹھی کے شرقی برآمدے کی طرف شام کی چائے پر بیٹھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 152 سے 233