افسانہ

مردہ خانہ

ڈاکٹر سروپ کے چپراسی چرنجی نے اپنی محتاط نظروں سے ڈاکٹر کے دفتر کے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے سرسے گاندھی ٹوپی اتارنےلگا۔ اس کے سر سے ایک دم سو سو کے کئی نوٹ فرش پر آگرے اور وہ گھبراکر انہیں تیز تیز سمیٹنے لگا۔ اسی اثنا میں ایک بوڑھا بے تحاشہ کمرے میں داخل ہوا، ...

مزید پڑھیے

ٹیلی گرام

پچھلے بارہ برس سے شیام بابو تار گھر میں کام کر رہا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بے حساب الفاظ برقی تاروں میں اپنی اپنی پوزیشن میں جوں کے توں کیوں کر بھاگتے رہتے ہیں، کبھی بدحواس ہو کر ٹکرا کیوں نہیں جاتے؟ ٹکرا جائیں تو لاکھوں کروڑوں ٹکراتے ہی دم توڑ دیں ...

مزید پڑھیے

فاختائیں

یہاں خریت ہے۔ آپ کی خیریت نیک مطلوب۔ اپنے پرانےدوست فضل دین کو چٹھی لکھتے ہوئے لوبھ سنگھ کو یاد آیا ہے کہ وہ ان دنوں بھی اسے خریت لکھنے پر ٹوکا کرتا تھا۔ اردو کے ماسٹر ہولو بھے، یہ بھی نہیں جانتے خریت خر سے ہوتا ہے۔ ’’بڑے علم دین مت بنو، فضل دینے۔ نقطے جتنے کم ہوں، لکھت اتنی ...

مزید پڑھیے

پتا جی

’’نہیں، بڑی بہو۔‘‘ جب سے بڑے بابو کے پتا کا دیہانت ہوا تھا وہ بھی ان کے مانند اپنی بیوی کو بڑی بہو کہہ کربلانے لگا تھا۔ ’’تم سمجھتی کیوں نہیں؟‘‘ ’’اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے؟‘‘ بڑی بہو سویٹر بنتے ہوئے وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’جا کہاں رہی ہو؟ بیٹھی رہو۔‘‘ ...

مزید پڑھیے

تیسری دنیا

اسلام علیکم۔۔۔ آپ کےساتھ بیٹھنے میں مجھے کوئی عذر نہیں مگر میں کہیں بیٹھ جاتا ہوں تو لوگ میری داستان سنتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور مجھے شرمندگی ہونے لگتی ہے، میں کیسا مہمان ہوں کہ میرے میزبان مجھ سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے ہی گھروں سے باہر ہولیتے ہیں۔۔۔ لیجیے، بیٹھ گیا۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

گرین ہاؤس

یو۔ این۔ او کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے اس نجی سن ڈاؤنر سےمولو اب گھر لوٹنا چاہ رہا تھا مگر اس نے اتنی پی لی تھی کہ اسے ڈر تھا، اٹھا تو لڑکھڑانے لگوں گا۔ آسٹریلین لاکر اس کی خواہش اور خوف بھانپ کر ہنسنے لگا، ’’پر جب نشے کا یہ عالم ہو تو گھٹنوں کو سیدھا ہی کیوں کیا جائے؟‘‘ لاکر سے ...

مزید پڑھیے

بیک لین

لال پگڑی والے نے مجھے روک لیا ہے۔ ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ اسے کیا بتاؤں۔ ’’جاؤ، خبر دار، جو ادھر ادھر آنکھ اٹھائی۔ ناک کی سیدھ میں چلتے جاؤ۔‘‘ چلو، چھٹی ہوئی۔ یہ لوگ نامعلوم کیوں مجھے روک روک کر خبردار کرتے رہتے ہیں۔ میں کوئی ایسا ویسا ...

مزید پڑھیے

نامرد

اس چوڑی سڑک کے ایک کنارے میں بہت مشہور سنیماہال ہے جس میں صرف انگریزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس کے دوسرے کنارے پر بھی سنیما ہال ہیں اور سب کچھ کے علاوہ سنیما ہال یا ہوٹل زیادہ ہیں۔ ہوٹل بھی شریفیہ، نظامیہ، صابریہ قسم کے ۔۔۔ جن کے بڑے بڑے ڈرائننگ ہال میں ہر وقت چیخ و پکار مچی ...

مزید پڑھیے

ٹھنڈا میٹھا پانی

اب جنگ ختم ہوچکی ہے، جگہ جگہ پر کھدی ہوئی حفاظتی خندقیں پٹ چکی ہیں، جن لوگوں کے گھر توپ کے گولوں سے ملبے میں تبدیلی ہو چکے تھے، ان گھروں کو پھر سے آباد کیا جا رہا ہے، فائر بندی ہوئے بھی عرصہ گزر گیا، جب جنگ شروع ہوئی تھی تو خزاں کا موسم تھا، پھر سردی پڑی اور اب بہار آئی ہوئی ہے، اب ...

مزید پڑھیے

بھورے

محمد بھورے ولد محمد بوٹے کے دماغ میں کوئی خلل پیدا ہوگیا ہے، یہ سب کا متفقہ فیصلہ تھا مگر مس لالی خاں ہاؤس سرجن کا خیال تھا کہ ان کے دماغ میں کوئی خلل نہیں ہے کیونکہ وہ بقائمی ہوش و حواس تمام کام انجام دیتا ہے، اگر گھنٹے کی آواز سے اس پر بے چینی طاری ہو جاتی تو یہ کوئی جذباتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 149 سے 233