ٹوٹے ہوئے تارے
رات کی تھکن سے اس کے شانے ابھی تک بوجھل تھے۔ آنکھیں خمار آلودہ اور لبوں پر تریٹ کے ڈاک بنگلے کی بیئر کا کسیلا ذائقہ۔ وہ بار بار اپنی زبان کو ہونٹوں پر پھیر کر اس کے پھیکے اور بے لذّت سے ذائقے کو دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ گو اس کی آنکھیں مندی ہوئی تھی، لیکن پہاڑوں کے موڑاسے اس ...