افسانہ

سہرا

کل ساجد میاں کا نکاح تھا مگر خوشی کے بجائے ان کے چہرے پر وحشت برس رہی تھی، وہ اپنی دونوں بہنوں سے بار بار کہہ رہے تھے، ’’ارے بڑی بجیا آپ اچھی طرح سن لیں، میرا بستر ہمیشہ کی طرح اماں بی کے کمرے میں بچھا رہے گا، اسے کوئی نہیں ہٹائے گا اور آپ بھی سن لیں چھوٹی بجیا، اب آپ میرا بستر ...

مزید پڑھیے

سودا

جب وہ افسر بہادر کے گھر نوکری کے لیے بھیجا گیا تو اس پر عجیب سی وحشت طاری تھی۔ شانے جھکے ہوئے، رنگ پیلا، آنکھوں تلے اندھیرا۔ اتنی بڑی کوٹھری میں وہ یوں کھوگیا جیسے سچ مچ مرگیا ہو۔ یتیموں کی طرح کھڑا ٹکر ٹکر دوسرے نوکروں کا منہ تک رہا تھا اور وہ سب اس قدر مصروف تھے کہ کسی نے اس کی ...

مزید پڑھیے

خرمن

کنیز کوٹھری کے ایک کونے میں سر نیہوڑائے بیٹھی تھی اور دوپٹے کے آنچل سے آنسو پونچھے جا رہی تھی، اس کے پاس اماں کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑی تھی اور اسے گھور گھور کر دیکھے جا رہی تھی، کنیز نے ایک بار سر اٹھا کر بے بسی سے ماں کو دیکھا اور پھر گھٹنوں میں منہ چھپا لیا۔ ’’سوچ لے ری، ہاں ...

مزید پڑھیے

ہم وہاں ہیں ،جہاں۔۔۔

وہ میرے سامنے کھڑی تھی ،اس سائے کی طرح جسے ایک وجود کی ضرورت ہوتی ہے یااس موسم کی طرح جو اگلے موسم کے انتظار میں خود کوبے بس کردیتا ہے ! میں دل کا حملہ ہونے تک معمول کی زندگی جی رہا تھا،اگر سماجی معاملات کو نظر میں رکھا جائے تو وہ ایک کامیاب زندگی تھی اور اگر میری سوچ کو اہمیت دی ...

مزید پڑھیے

مزار

کھڑکی کے سامنے بیٹھی عورت میری ماں ہے ! وہ صبح سات بجے کھڑکی میں آکر بیٹھ جاتی ہے اور اس کی نظر گلی میں دور ایک ہی نقطے پر مرتکز رہتی ہے۔وہ زندگی کے معاملات میں الجھے رہنے والی ایک زندہ دل عورت رہی ہے ،اس کا اِس طرح اچانک سب سے کٹ کر ایک بت کی طرح بیٹھے رہنا جہاں پریشانی کا باعث بنا ...

مزید پڑھیے

خود فریبی

پل پار کرنے کے بعد گلیانہ کو جانے والی سڑک پر واقع نصیرہ میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف ایک لمبی اور تنگ گلی ہے جس کے دونوں کناروں پر ’’آؤٹ آف باؤنڈ‘‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا جس پر عملداری کے لیے دو بجے کے بعد ملٹری پولیس کا ایک ایک سپاہی دونوں سِروں پر کھڑا ہوجاتا۔ رات کے گیارہ بجے تک ...

مزید پڑھیے

سول لائنز کا بھوت بنگلہ

انگریز راج میں فوج اور سیولین رہائشی علاقے علیحدہ علیحدہ بنائے گئے اور سیولین علاقے کو سول لائن کا نام دیا گیا۔ہرسول لائن اپنے دور کا ایک پوش رہائشی علاقہ ہوتا تھا جہاں اس دور کی اشرافیہ رہتی تھی۔ ان لوگوں میں انگریز افسر،متمول ہندو اور سکھ خاندان اور چند ایک مسلمان کنبے ...

مزید پڑھیے

موت کا نیا رنگ

رات بہت ٹھنڈی اور تاریک تھی۔ تاریک شاید اسے لیے تھی کہ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اور ٹھنڈی اس لیے کہ اسے اگلے ہی موڑ پر اپنی موت نظر آرہی تھی۔ وہ ایک طویل عرصے سے بیمار تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچا کرتا کہ بیماری کاروگ لگنے کے بجائے وہ مر جائے تو بہتر ہوگا۔ قسمت نے س کی یہ سوچ ...

مزید پڑھیے

دل کودل سے راہ

جیل روڈ پر ٹریفک پانی کی طرح بہتا جاتا تھااور ہم دونوں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے؛وہ مشتعل اور میں سمجھوتاکرنے کو تیار۔ایسا جھگڑا پہلی بار نہیں ہوا تھالیکن مجھے لگا کہ اِس بار وہ زیادہ ہی سنجیدہ تھی۔اس کی آنکھوں میں ہمیشہ قرب کی اپنایت ہوتی تھی اور آج وہی آنکھیں اجنبیت اور ...

مزید پڑھیے

دھنک

کہا جاتا ہے کہ سانپ کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ ٍ میں اپنا گھربار چھوڑ کرایسی منزلوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھاجن سے میری شناسائی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔میں بستیوں میں گیا،دریاؤں کو عبور کیا ،ویرانوں میں بستیوں کو تلاشا،پہاڑوں میں سکون کو مس کرنا چاہالیکن وہاں ہنگاموں نے ڈیرے ڈال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 150 سے 233