افسانہ

بچھڑے ہوئے ہاتھ

وہ جب سے اپنے جسم سے بچھڑا ہے دولخت ہو گیا ہے اور اگرچہ وہ پوری طرح صحت مند ہو چکا ہے لیکن اسے لگتا ہے جیسے اس کا دھڑ پتھر ہو گیا ہو یا جسم سے الگ ہو کر اس کی روح ہوا میں تیرتی پھرتی ہو اور حالانکہ اس قبر پر جہاں اس کا گردن کے بغیر جسم دفن ہے اس کے نام کا کتبہ نہیں لگا ہوا ہے لیکن اسے ...

مزید پڑھیے

دیوار گریہ

گاؤں کے سر کردہ لوگوں کے وفد سے میں نے اتوار تک کی مہلت مانگی اور وعدہ کیا کہ میں گاؤں آ کر اسے سمجھاؤں گا ہو سکتا ہے وہ میری بات مان جائے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اتوار تک آپ کا انتظار کریں گے، ہمیں آپ کا بہت لحاظ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ آپ کی بات ضرور مان جائے گی۔ کیونکہ وہ صرف آپ ...

مزید پڑھیے

چاہ در چاہ

وہ دونوں سیاحت کی خاطر اسلام آباد سے بیجنگ جا رہے تھے۔ رات کا وقت تھا۔ اس کا ساتھی علی اور تقریباً سبھی مسافر سو رہے تھے صرف وہ اکیلا جاگ رہا تھا۔ وہ پوری دنیا گھوم چکا تھا مگر اسے ہوائی سفر میں، خواہ و ہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوتا نیند نہیں آتی تھی۔ اس کی وجہ محض ہوائی جہاز کے ...

مزید پڑھیے

نظر آ لباس مجاز میں

شروع شروع میں مجھے شبہ تھا کہ اس کی موت حادثاتی نہیں سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھی اور اس سازش میں پرائے ہی نہیں اس کے اپنے بھی شامل تھے۔ اگرچہ وہ کوشش بسیار کے باوجود میرے بارے میں پتہ نہ چلا سکے مگر انہیں کسی طرح یہ ضرور معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ان کی خواہش اور فیصلے کے برعکس اپنی ...

مزید پڑھیے

تیرھواں کھمبا

گارڈ نے وسل دے دیا تھا اور سبز جھنڈی لہرا دی تھی،جب ایک نوبیاہتا جوڑا اس کے سامنے کی سیٹوں پر آ کر بیٹھ گیا اسے ایسا لگا جیسے وہ آرام دہ سیٹ پر نہیں بیٹھا تپی ہوئی ریل کی پٹڑی پر اوندھے منہ پڑا ہے۔ لڑکی اسے دیکھ کر یوں ہکا بکا رہ گئی جیسے وہ راولپنڈی جانے والی ریل کار کی بجائے ...

مزید پڑھیے

پہلی بات

منشا یاد کے یہ پچپن افسانے، عین اس ترتیب میں ہے،جس طرح کہ میرے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر محفوظ تھے۔ منشا یاد نے یہ افسانے مختلف اوقات میں مجھے ای میل کیے۔ اپنی حیات کے آخری برسوں میں وہ اپنے افسانوں کو نئے سرے سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ اشاعتی اداروں سے ان کی کتب کے نئے ایڈیشنز کی بات چیت ...

مزید پڑھیے

جہاد

’’ہیلو کمانڈر۔۔۔ تم پر سلامتی ہو۔‘‘ ’’ حضور آپ پر بھی۔‘‘ ’’ کہاں ہو کمانڈر؟‘‘ ’’ سر ابھی اوپر ہوں۔ مگر میرے آدمی نیچے جا چکے ہیں۔‘‘ ’’انھیں واپس بلا لو۔‘‘ ’’یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟‘‘ ’’ہاں۔۔۔ انھیں واپس بلا لو اور خود بھی آگے مت جاؤ۔‘‘ ’’مگر حضور وہ تو ...

مزید پڑھیے

ہاری ہوئی جیت

ریلوے اسٹیشن پر ایسی بھیڑ تھی جیسے آج شہر کی ساری خلقت کو سفر درپیش ہو۔ پلیٹ فارم پر بے شمار بوگیوں والی گاڑی آدمیوں عورتوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور انجن لگنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے پاس واپسی کا ٹکٹ موجود تھا وہ متعلقہ بوگی میں سیٹ نمبر تلاش کر کے کھڑکی کے ...

مزید پڑھیے

دام شنیدن: ڈنگر بولی

انہیں شک ہے کہ میں نے اپنا عقیدہ بدل لیا ہے حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں نے صرف گوشت خوری ترک کی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گوشت نہیں کھاتے یعنی ویجی ٹیرین ہیں ان کے پاس گوشت نہ کھانے کی اپنی اپنی وجوہات ہوں گی۔ ہو سکتا ہے بعض لوگ کسی عقیدے کے بنا پر گوشت نہ کھاتے ہوں۔ ...

مزید پڑھیے

پکی سڑک

یوں تو ان دنوں ہر جگہ سخت گرمی پڑ رہی تھی مگر اپنے آبائی گاؤں پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا تھا جیسے ہم ایک لمبی سخر دوپہر کی زد میں آ گئے ہیں۔ دن بھر آگ برستی اور لو کے تھپیڑے گھروں، آنگنوں، گلیوں اور کھیتوں کھلیانوں میں اپنی پیاسی زبانوں سے حسن اور ہریالی چاٹتے۔۔۔ سورج کسی خونخوار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 136 سے 233