افسانہ

وقت سمندر

قلعہ نما عالی شان عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی میرے قدم رک جاتے ہیں۔ میں اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہوں مگر پھر آنکھیں کھولتا ہوں تو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا اور کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون سا وقت اور مقام ہے۔ دن ہے نہ رات۔۔ اندھیرا ہے نہ اجالا۔۔ طلوع ہے ...

مزید پڑھیے

کھلی آنکھیں

اسے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ مر گیا ہے یا ابھی نہیں مرا۔ تھوڑا بہت مر کر تو اس نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھا تھا کیا پتہ آج وہ بہت زیادہ مر گیا ہو مگر کیوں اور کیسے۔؟ اسے کوئی بات یاد نہیں آ رہی تھی۔ اسے یہ بھی پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت کس حالت میں اور کہاں اور کس قسم کی ...

مزید پڑھیے

ننگا پیڑ

وہ اپنے زمانے کے مانے ہوئے حکیم تھے ان کا دور دور تک شہرہ تھا اور ان کے مطب کے سامنے ہر وقت مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ انہوں نے نہ صرف دیسی طب کی بہت سی کتابیں پڑھی تھیں بلکہ ان کی نظر طبی میدان میں ہونے والے نئے عالمی تجربات اور تحقیق پر بھی خاصی تھی کیونکہ وہ شہر سے جدید طبی ...

مزید پڑھیے

پانی میں گھرا ہوا پانی

چکنی مٹی سے گھوڑے بیل اور بندر بناتے بناتے اس نے ایک روز آدمی بنایا اور اسے سوکھنے کے لئے دھوپ میں رکھ دیا۔۔۔ سخر دوپہر تھی، چلچلاتی دھوپ کے شعلے ویران اور کلر زدہ زمین پر جگہ جگہ رقص کر رہے تھے۔ چاروں طرف ہو کا عالم تھا۔ چرند پرند پناہ گاہوں میں چھپ گئے تھے۔ شرینہہ (سرس) کا ...

مزید پڑھیے

ٹائم از اوور

کیا کہا کتنے برس؟ برس نہیں دن ہوں گے ! آپ کو غلطی لگی ہے سر!! ابھی ابھی تو میں پنگھوڑے میں لیٹا منہ سے بوتل لگائے بڑے مزے سے دودھ پی رہا تھا۔ اور وہ عورت جس کے بطن سے میں نے جنم لیا ابھی ابھی یہاں تھی۔ آپ میری بات پر یقین کیجئے۔ میں بالکل سچ کہتا ہوں۔ میں نے ابھی چند روز ہوئے زندگی کی ...

مزید پڑھیے

تماشا

اندھیرے کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ سورج طلوع ہونے تک دریا کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ کنارے پر جگہ جگہ ادھ کھائی اور مری ہوئی مچھلیاں بکھری پڑی ہیں۔ چھوٹا کہتا ہے،’’یہ لدھروں کی کارستانی لگتی ہے ابا۔‘‘ ’’ہاں پتر۔‘‘ بڑا کہتا ہے،’’یہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ مچھلیاں ...

مزید پڑھیے

بڑا سوال

اس نے اپنے ذہن کی لیبارٹری میں پہلے بھی بڑی بڑی باتیں دریافت کی تھیں مگر اس بار انکشاف کی جو نئی کونپل کھلی تھی وہ نہایت ہی غیر معمولی نوعیت کی تھی۔ ہر بار جب وہ کوئی نئی بات دریافت کرتا تھا اسے بے پناہ خوشی ہوتی تھی مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔۔۔ اس انکشاف نے اسے پریشان اور مضطرب ...

مزید پڑھیے

خواب در خواب

’’ اور تم تین قسم کے ہو جاؤ گے۔‘‘ سوجو داہنے والے کیسے اچھے ہیں اور جو بائیں والے ہیں کیسے برے ہیں۔ اور جو اعلیٰ درجے کے ہیں وہ تو اعلیٰ درجے کے ہیں۔ اور قرب رکھنے والے ہیں باغوں میں نعمت کے ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہو گا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔ بیٹھے ...

مزید پڑھیے

اوور ٹائم

اسے اکثر دفتر بند ہو جانے کے ایک گھنٹہ بعد تک اوور ٹائم بیٹھنے کی اجازت مل جاتی تھی اور ایک روپیہ فی گھنٹہ کے حساب سے بیس پچیس روپے ماہوار تنخواہ سے زیادہ مل جاتے تھے اس نے کئی بار کوشش کی تھی کہ اسے ایک گھنٹہ مزید اوور ٹائم کام کرنے کی اجازت مل جائے لیکن اس کے انچارج نے کبھی اس کی ...

مزید پڑھیے

خلا اندر خلا

اس کے سمانے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر بڑی باتیں لکھی پڑی ہیں۔ جونہی شیشے کی دیوار کے اس پار بیٹھا ہوا شخص اشارہ کرتا ہے وہ بولنا شروع کر دیتا ہے۔مگر آج سے اپنی آواز بدلی بدلی معلوم ہوتی ہے۔ شاید بھی اس کا وہم ہو۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کی آواز تبدیل ہو جاتی ہے۔ جیسے اس کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 137 سے 233