بدمعاش
ماں نے میرانام بدرالدین رکھاتھاجو بعدمیں پیارسے بگڑکربدرو ہوگیا۔ویسے میری ماں کے پیاراوربگاڑمیں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔اس کی زندگی میں دو شادیاں اوربے شمارمعاشقے موجودہیں جنہوں نے مجھے ہمیشہ متاثرکیے رکھا۔پہلی شادی اس نے گھرسے بھاگ کرکی اورتین مہینے بعدطلاق لے کرواپس آگئی۔میراباپ جب بھی اسے پہلے شوہرکے طعنے دے کرذلیل کرتا،ماں بڑے سکون سے اپنی پنڈلی کھرچتے ہوئے اپنادائیاں ہاتھ ماتھے اورگال پراوٹ بناکر ہنستی۔ماں کی جوانی ترش انار جیسی رسیلی تھی جو میری زندگی میں داغ بن کر رہ گئی۔اس کاحسن میلے کپڑوں میں بھی برہنہ تھا۔جب وہ پانی پیتی تو اس کی گوری چٹی گردن کی نیلی رگیں دریا کی لہریں بن جاتیں جیسے وہ کوئی جھرناہوجہاں سے پانی سرسرکرتاگزرتارہتا۔وہ زیتوں کی شاخ تھی جس پربلبلیں بیٹھنے کو مچلتی ہیں،جس کی خوشبوسے ہاتھوں کی پوریں مہکتی ہیں لیکن کہ وقت کی بے رحمی نے زیتون کی اس شاخ کوگورکن کے صحن میں لگادیا۔میں نے اپنے باپ کوبچے پیداکرنے اورقبریں بنانے کے علاوہ نشے میں دھت ہی دیکھا۔وہ صبح سویرے کدال کاندھے پررکھ کرگھرکے پیچھے قبرستان کونکل جاتااوراکثرآدھی رات کولوٹتا۔میں نے اسے ہمیشہ دوباتوں پرماں کو مارتے ہوئے دیکھا۔جب وہ میرے باپ کی خواہش کے آگے انکارکاپتھرسرکاتی تواباوقت اورموسم کالحاظ کیے بناہی اسے مارنے لگ جاتا۔ہمیشہ میری بڑی بہن سخت جاڑے کی راتوں میں اسے نشئی باپ کے ہاتھ سے چھڑواکرکمرے میں لاتی۔تب میری ماں کی آنکھیں زمین میں میخوں کی طرح گڑی ہوتی تھیں۔اگرکبھی وہ ابّے سے کہتی کہ گھرمیں راشن نہیں ہے ،توبس اسی لمحے میری ماں زمین بوس ہوجاتی اورابااس پرچڑھ کرگھونسوں کی بارش کردیتا۔’’بہن چو۔۔۔پیسے منگدی اے۔بدمعاش عورت۔‘‘یہ میرے باپ کاپسندیدہ ڈائیلاگ تھا جس کی تکراراس کی زندگی میں تیزابیت کی طرح بڑھ گئی تھی۔غربت اورمفلسی کے ان کٹھے ڈکاروں نے میری ماں کو بدمعاش بننے پرمجبورکردیاتھا۔
گھرمیں غربت دیمک کی طرح لگتی جارہی تھی اورماں بچے ایسے پیداکررہی تھی جیسے صحن کی دیوارپراپلے قطاردرقطارمنہ سُجائے کھڑے ہوں۔پھریہ سارے اپلے میدان میں اکٹھے کرکے لیپ دئیے گئے۔میری اکلوتی پھوپھی جب بھی اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ میری ماں کے چھلے کٹوانے آتی توانہی دنوں ہمیں پیٹ بھرکرکھانانصیب ہوتا۔جس سویرے پھوپھی مختولاں میرے سامنے زردے کی پلیٹ رکھتی،میں جھٹ پوچھتا:’’مائی! ہن کی ہویااے۔‘‘ پھوپھی شرماکرچمٹادکھاتے ہوئے کہتی:’’چل بے شرمیا!زردہ مکا۔‘‘میں دوڑکرکمرے میں جاتاجہاں ماں اپنے بازوؤں کاتکیہ بناکرسوئی ہوتی اوراس کی چارپائی کے دائیں طرف جھلنگی میں نوواردپڑااونگھ رہاہوتا۔مجھے سوجھے ہوئے منہ والابچہ ،اپنی زبان سے کرتب دکھاتاہوازہر لگتا۔ایسے میں مجھے اپنی ماں پرترس آنے لگتا۔کھردرے بان کی چارپائی پربسترکے بغیرپڑی ہوئی پیازی رنگت کی مالک یہ عورت کٹے ہوئے شلجم کی طرح بے رنگ دکھائی دیتی۔میں پائینتی پربیٹھ کراس کی ٹانگیں دبانے لگتاتو ماں ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلاکرماتھاچومتے ہوئے کہتی:’’شہزادیا۔۔۔تیرے تھیوے تھیوے تے میوے۔‘‘مجھے اپنے اوپرفخرہونے لگتاجیسے میں کسی ملکہ کاشہزادہ ہوں کتنے ہی دن اسی سرشاری میں گزرجاتے لیکن ماں کب تک نیک رہتی۔پھرکچھ دن بعدکوئی نہ کوئی عاشق اس کے ہاتھ میں سامان سے بھراتھیلاپکڑاجاتااوروہ صحن میں ہرنی جیسے قلانچیں بھرنے لگتی۔
میری ماں کو زندگی بھرکوئی بڑامعاشقہ نہ کرناآیا۔اگروہ شہرمیں ہوتی تو ضروراس کے یارانے بڑے بڑے لوگوں سے ہوتے۔یہاں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہ کروہ بھلاکتنا بڑاہاتھ مارسکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ سبزی والے سے ہاتھ مس کروانے پرٹنڈے لے لیے،پرچون والے کے سامنے دوپٹہ چھاتی سے نیچے گرانے پرنمک مرچ لے لی،چوہدری کے گھرکی بیٹھک صاف کرنے پرکنک مل گئی۔گویاہم اس کے ان بظاہرچھوٹے چھوٹے معاشقوں پرزندگی کاراشن پوراکررہے تھے۔ابّے کے لیے دیسی ٹھرالینے کی خاطروہ بے دھڑک سودی گجرکے وہیڑے جاکراس کی یہ موٹی موٹی پنڈلیاں بھی دبالیتی تھی۔ایسے موقعوں پرمجھے اپنی ماں کی بدمعاشی پرفخرہونے لگتاکہ کیسے شیرکی کچھارمیں گھس کراس کا شکارمنہ میں دبوچ لاتی ہے۔میری ماں واقعی شیرنی تھی جوخودشکارکرکے لاتی اورمیراباپ شیرکی طرح اپنے بڑے بڑے جباڑے کھول کرگوشت کے ٹکڑے چبانے لگتا۔جب بھی کوئی مردمیری ماں کی زندگی میں داخل ہوتاتوان دنوں بڑی عجیب سی بو اس کے منہ سے آتی تھی،جیسے اس نے کچی کلیجی اپنے جبڑوں میں چبائی ہو۔میرادل متلی کھانے لگتامجھے اپنی ماں کے سرخ ہونٹ خون آلودلگنے لگتے۔اس کے موتیوں جیسے دانتوں پہ مجھے پیلاہٹ کی تہیں محسوس ہوتیں۔اس کی ناک کا کیل میرے لیے سولی تھا جسے وہ اداکے ساتھ اپنی انگلی سے چھیڑتی تو لگتاکہ میرے بخیے ادھیڑرہی ہو۔اس کادنداسہ کیاہوادہانہ ایک تاریک غاربن گیاجہاں وہ کھڑی ہوکرمردوں کوہاتھ کے اشارے سے بلاتی تو میں بڑبڑاتا:’’بدمعاش عورت۔‘‘
ایک دن چھوٹے کوسرشام تاپ چڑھاتو پھراترنے کانام ہی نہیں لیا۔حکیم نے کہاکہ اسے گردن توڑبخارہے ہسپتال لے جاؤ،قسمت ہوئی تو بچ جائے گا۔اس دن میں نے اپنی ماں کی آنکھوں میں بے بسی رگوں میں خون کی طرح تیرتے ہوئے دیکھی۔میرادل پسیج گیالیکن اس سے پہلے کہ میں اسے نیک عورت ہونے کا سرٹیفکیٹ دیتااس کی بدمعاشی نے مجھے اچک کردبوچ لیا۔وہ میراہاتھ پکڑکرپچھواڑے کے قبرستان گھس گئی۔اندھیری یخ بستہ رات میں صبح کی بارش نے خاصاکیچڑکررکھاتھا۔ماں نے موم بتی جلائی اورایک تازہ قبرکے سرہانے بیٹھ گئی۔وہ دیوانہ وارقبرکی مٹی اپنے ناخنوں سے کھرچتی جاتی تھی۔کوئی ایک گھنٹے کی مشقت کے بعدہم نے قبرڈھادی۔دن نکلتے ہی ماں اپنے سینے پردوہتڑمارتے ہوئی چوہدری کے وہیڑے جاگھسی۔’’چوہدری جی!وڈی ملکانی صاب کی قبرڈھے گئی جئے۔‘‘چوہدری میری ماں کی مکاریاں اورہشیاریاں کیا جانے۔ماں نے وہاں ایساواویلا مچایاکہ چوہدری میرے گورکن باپ کوگالیاں دیتاہواسرپٹ دوڑا۔میری ماں کے ہاتھ پرقبرکی مٹی کے لیے پیسے رکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ممنونیت کے آنسو تھے۔ماں نے سب سے پہلے چھوٹے کے لیے دوالی اورساری رات روتے ہوئے دعائیں مانگتی رہی کہ مولا!مجھے معاف کردے۔میں چارپائی پرغصے سے کروٹیں بدلتارہااورآسمان کی طرف انگلی اٹھاکرکہتا:’’ناں مولا!ناں۔۔۔ایس بدمعاش نوں نابخشیں۔‘‘
میرے اندر میرا باپ پیدا ہو چکا تھا جو ہر وقت اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ ماں میرے روٹھے ہوئے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر چومتی اور میں آخ تھو کہتا ہوا سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا۔پھر وہ اپنے نالے سے بندھی گتھلی میں ہاتھ ڈال کر چینی والی گولیاں نکالتی اور میرالالچ کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیتا۔ گولیوں کی مٹھاس منہ میں گھل کر ختم ہو جاتی اور میں نیند میں جاگنے والے شیرخوار کی طرح بلکنے لگتا، یہاں تک کہ اسے غصے سے پیٹ دیتا۔میری چھوٹی چھوٹی مکیاں ایسے ہی تھیں جیسے پرات میں گندھے ہوئے آٹے کودوچھوٹے ہاتھ کچوکے لگارہے ہوں۔آٹے سے بھری پرات پیارسے دیکھتے ہوئے کہتی:’’شوہدیا۔‘‘اورکبھی بولتی:’’چل بدمعاش۔‘‘میں غیرت مندآدمی بننے کے چکرمیں تھااسی لیے میں نے محلے میں کن سوئیاں لیناشروع کردیں۔میں دل سے چاہتاتھاکہ کوئی میری ماں کی کردارکشی کرے اورمیں اسے چھریوں کے وارکرکے ٹھکانے لگادوں۔کندچھری اس کی گوری چٹی گردن پرچلاؤں ،وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپے اورمیں اسے بڑے سے ڈرم میں تڑپنے کے لیے پھینک دوں۔میں نیتوقصائی کی طرح بے سدھ مرغی کوڈرم سے نکال کراس کی بوٹیاں بناتااور اپنی ڈب کھڈبی پتیلی میں ڈال کربھون دیتا۔میرے دماغ میں ایسی ہی واہیات باتیں پکتی رہتیں اورمیں ہنڈیاسے اٹھنے والے دھوئیں کی طرح خودکوسینکتارہتا۔
مجھے اپنے باپ سے بھی خاص طرح کی نفرت تھی ،شایداس لیے کہ اس کی بے روزگاری اورنشے نے میری ماں کوآوارہ مزاج بنادیاتھا۔ابا ہمیں دنیامیں پیدا کرنے ہی آیاتھا،نشے کے روگ نے اس کی جان لے لی اورپھرقبرستان کاگورکن میرابڑابھائی بن گیا۔میں سب کوباری باری اپنی لامحدودنفرت کے پھٹے پرغباروں کی طرح لگاکرلمبی ناک والی بندوق سے پھاڑتارہا۔مجھے ماں کی مجبوریاں رنگ رلیاں لگتی تھیں،اس کا بس نہیں چلتاتھا کہ قبرستان میں آئے جنازے کو روک کرمردے کا کفن اتروائے اورپھررنگواکے ہمیں پہنادے۔ہماری ضرورتیں اس کے لیے آسمان پراڑنے والی پتنگوں کی طرح تھیں جو کٹ کٹ کرنیچے گرتیں اوروہ انھیں لپک کراٹھالیتی۔میں سال میں بس دومرتبہ گھرکاچکرلگاتاتھااوردوربیٹھ کرسوائے اندازے لگانے اورکڑھنے کے میرے پاس کوئی اورچارہ نہیں تھا۔
میں شہرآکرمزدوری کرنے لگا،میرے ساتھ کے لڑکے اپنی ماؤں کے ہاتھ سے بنے ساگ مزے لے کرکھاتے اورمیرے منہ میں کڑوی جڑی بوٹیوں کی کسیل گھلنے لگتی۔پھراس کڑواہٹ سے نکلنے کے لیے میں کوٹھوں پرجانے لگا،وہاں بھی بہت سی عورتیں تھیں۔چھوٹی،بڑی،موٹی،پتلی،خوش شکل،بدشکل،تیزطراراورمعصوم بھی لیکن میری ماں جیسی توکوئی نہیں تھی۔یہاں میرے اندازے پکے ہونے لگتے کہ اگر نیناں کے کوٹھے پر میری ماں ہوتی تو دونوں میں سے جیت کس کا مقدر بنتی۔ان کسبیوں کے گاہک تو ان پرپیسہ پھینکتے تھے جبکہ میری ماں اپنے عاشقوں سے سودے لیتی تھی۔یہ بھی میری ماں جیسی ہی عورتیں تھیں،ان کے جسموں کے ساتھ بھی بچے لٹکے ہوئے تھے۔یہ بھوکے بچے اپنی کینگروماؤں کی تھیلیوں میں سے جھانکتے رہتے اوران کی مائیں مردوں کے جنگل میں گھس کران کے لیے نوالے اکٹھے کرتیں۔کبھی توجی چاہتاان تمام عورتوں کوبورے میں بندکرکے کسی ویران جزیرے میں پھینک آؤں۔بہت کوشش کی کہ کبھی میں بھی تماش بین بن کے اپنی ماں جیسی کسی عورت کوچوم لوں اورپھردیکھوں کہ وہ بدلے میں مجھ سے کیا مانگتی ہے۔
وہ میری ماں کی زندگی کے آخری کچھ مہینے تھے،نصیبوں جلی مجھے ملنے کے لیے بے چین تھی۔کمرے سے مسلسل کھانسنے کی آوازآرہی تھی۔میں نے اندرجھانکاتولگاکوئی حورسفیدچولاپہنے چارپائی پربیٹھی ہو۔ماں ہمیشہ کی طرح کھردرے بان کی چارپائی پربسترکے بغیرلیٹی تھی،مجھے دیکھتے ہی اٹھ کربیٹھ گئی اورمیرامنہ چومنے لگی۔اس کے سرپرچاندی کے تاروں کاجال بچھ چکاتھا۔ وہ مجھے دعائیں دینے لگی:’’بدرو۔۔۔وے بدرو۔۔۔تیرے لکھ محتاج ہوون۔وے میرے شہری باؤ،تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘ میں نے تنگ پڑتے ہوئے کہا:’’چل بس کرمائی۔‘‘
’’کیاگل اے شوہدیا!ماں کولوں ایڈھاتنگ ایں۔‘‘میرا جی چاہاابھی کے ابھی بچپن سے جوانی تک کے غصے کاسارابارودسیون ایم ایم میں بھرکرماں کے سینے میں اتاردوں۔پتہ نہیں کیوں میں ماں کے سامنے میں دل کی زبان سے اظہارکاکام لینے لگتاتھا۔وہ منہ سے سوال پوچھتی اورمیں دل ہی دل میں جواب دیتاچلاجاتا،کچھ دیرچپ رہنے کے بعد وہ بولی:’’اپنی ماں نوں بدمعاش سمجھ داں ایں۔‘‘جیسے کسی زہریلے بچھونے مجھے شلوارکے اندرہی کاٹ لیاہو۔میں چارپائی کے پائے پربیٹھابیٹھااپنی ٹانگ مسلنے لگا،زہرناف تک چڑھنے ہی والا تھا کہ میں جان چھڑاتے ہوئے باہرکوبھاگا۔اگلے دو دن میں ماں کے پاس رہا،میں نے محسوس کیاکہ عجیب سی نامعلوم سی خاموشی اس کے اندراترگئی تھی۔مجھے رخصت کرتے ہوئے بھی اس نے بس ایک ہی جملہ بولا:’’شاھلا۔۔تیرے لکھ محتاج۔‘‘
میں شہرآکرسب بھول گیاکہ دو ماہ بعدماں کے مرنے کی خبرمل گئی۔میں بوجھل دل کے ساتھ اس کے جنازے کوکندھادینے گیا۔ماں کے بغیرگھرویران لگ رہاتھامیں اس کے کمرے میں پڑی ہرچیزکوٹٹولنے لگا،میرے اندرکاشکی مردابھی زندہ تھاشایداسی لیے میں نے کمرے میں پڑاصندوق الٹ پلٹ کررکھ دیا۔وہ صندوق کم اورماضی کی یادوں کی پٹاری زیادہ تھا،سب بہن بھائیوں کی کوئی نہ کوئی چیزیاکپڑااس میں پڑاتھا۔اچانک میری نظرایک تعویزپرپڑی۔اوہ!یہ تووہی تعویزہے ،مجھے جیسے یادآگیاکہ ایک دن گھرمیں کسی میت کے ختم کی روٹی آئی۔ماں جانتی تھی کہ مجھے دیسی مرغ کتناپسندہے۔اس نے مجھے سب سے چھپاکردوبوٹیاں کھلادیں۔بس یہ کھانے کی دیرتھی کہ میرے اندرجواربھاٹاسلگنے لگا۔شدت کے پیٹ دردکے بعدمجھے پیچش لگ گئے۔ماں پریشان ہوگئی ،کتنے ہی دن وہ مجھے حکیموں اورعطائیوں کے پاس لے کرجاتی رہی لیکن میری پیٹھ پھوڑابن چکی تھی۔جاڑے کی راتوں میں وہ مجھے اپنے پیٹ پرسلاتی میں کتنی بارپیشاب کرتاوہ کتنے ہی سوکھے کپڑے میرے نیچے بچھاکرخودگیلی رہتی۔پھروہ مجھے درگاہ لے کرجانے لگی وہاں کسی نے اسے میری پیٹھ پھٹکری کے پانی سے دھلانے کے لیے کہا۔اس کے پاس پھٹکری لینے کے بھی پیسے نہیں تھے اورپھروہ یکدم بدمعاش بن گئی۔ساجے نے ماں کومیری بیماری کاتوڑکرنے کے لیے تعویزبھی بنواکردینے کاوعدہ کیا۔پھراگلے دن اس نے اپناایک ہاتھ میری ماں کے نیفے میں ڈالااوراس کے دوسرے ہاتھ میں پھٹکری تھمادی۔ماں کی اس بدمعاشی نے میری جان بچالی۔تعویزمیرے ہاتھ میں جھول رہاتھا،میں بدرالدین عرف بدرو،جس کے آج لکھ محتاج ہیں،اس بدمعاش عورت کامقروض ہوں جس کی بدمعاشی کا میرے پاس کوئی گواہ ہی موجود نہیں ہے۔