کمرے سے کمر ے تک
پہلے پہل جب اس نے ہوش سنبھالا تو کمرے کی چھت کو نہایت کہنہ، بوسیدہ اور دریدہ پایا۔ لکڑی کا پکھراور بالے کالے چیونٹے کھا چکے تھے۔ گاہے گاہے بھربھری مٹی چھت سے فرش پر ٹپکا کرتی تھی۔ اسی چھت کے نیچے اس کی ماں کے جہیز میں آئے ہوئے دھات کے دو بڑے صندوق سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کی ...