افسانہ

کمرے سے کمر ے تک

پہلے پہل جب اس نے ہوش سنبھالا تو کمرے کی چھت کو نہایت کہنہ، بوسیدہ اور دریدہ پایا۔ لکڑی کا پکھراور بالے کالے چیونٹے کھا چکے تھے۔ گاہے گاہے بھربھری مٹی چھت سے فرش پر ٹپکا کرتی تھی۔ اسی چھت کے نیچے اس کی ماں کے جہیز میں آئے ہوئے دھات کے دو بڑے صندوق سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کی ...

مزید پڑھیے

وجود

کیا میں زندہ ہوں ،وجود رکھتی ہوں، موجود ہوں؟ نہیں نہیں میں موجود نہیں ہوں، میں صرف ماضی، حال اور مستقبل کے ربط کے ساتھ تن تنہا موجود کیسے ہو سکتی ہوں، میں کھو چکی ہوں کہیں ،میں نے ماریہ پر نظر ڈالی وہ موجود تھی مگر میں نہیں تھی۔ میں نے آہستہ سے اس کو آواز دی !۔ماریہ ہوں!کہہ کر اس ...

مزید پڑھیے

آخری خواہش

پھانسی سے قبل اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر کے سب کو چونکا دیا۔میں گاؤں کی بڑ والی مسجد کے احاطے میں اسی منبر پہ کھڑا ہو کے تقریر کرنا چاہتا ہوں۔جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبد الکریم نے خطبہ دیا تھا،آخری خطبہ۔۔۔۔ سو پھانسی لگنے والے ...

مزید پڑھیے

کبالہ

تو یوں ہے کہ وہ ایک فنکار کی باہوں میں مر گئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس نے ایک نیا حکمنامہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ میں عدالت کی بجائے عدالتِ عالیہ کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اسے عدالتِ عالیہ سے بڑی امیدیں تھیں کہ وہ اس کی بات ضرور سنیں گے اور ایسا ...

مزید پڑھیے

آئینہ گر

ہستی اور نیستی کے سارے اسرار چھوٹے چھوٹے لمحوں کی کوکھ سے پھوٹتے ہیں لمحے جوکہ آتے رہتے ہیں مگرکم کم آتے ہیں کہ جن کے بطن سے حقیقی خوشیوں اور لذتوں کے سرچشموں کو جنم لینا ہوتا ہے۔ چاول پلیٹ میں ڈال دو؛سکرین سے نظریں ہٹائے بغیرانہوں نے کہا، وہ آگے بڑھ کر ان کے قریب کھڑی ہوگئی۔ ...

مزید پڑھیے

تصویر

آؤ،آؤیہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھادیا اورخود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہوگیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں والا وہ پینسٹھ سالہ مصور دوبارہ ...

مزید پڑھیے

وارن ہسٹنگز کی ٹوپی

ٹوپی کی قسمت ایسے بھی کھل سکتی ہے، محمد علی بھائی نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ چھوٹی بڑی، ترچھی، دو پلی، فیروز آبا دی، حیدر آبادی، لکھنوی، ملتانی، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر اسٹائل ٹوپیوں کی اتنی بڑی کوئی ’’ڈیل‘‘ بھی ہو سکتی ہے، محمد علی بھائی کے لئے ایسا سوچنا عرش پر ...

مزید پڑھیے

باپ اور بیٹا

(۱) باہر گہرا کہرا گر رہا تھا۔۔۔ کافی ٹھنڈی لہر تھی۔ میز پر رکھی چائے برف بن چکی تھی۔ کافی دیر کے بعد باپ کے لب تھرتھرائے تھے۔ ’’میرا ایک گھر ہے‘‘ اور جواب میں ایک شرارت بھری مسکراہٹ ابھری تھی۔ ’’اور میں ایک جسم ہوں۔۔۔ اپنے آپ سے صلح کر لو گے تب بھی ایک جنگ تو تمہارے اندر چلتی ...

مزید پڑھیے

حیران مت ہو سنگی مترا

باہر نکلتے ہی سنگی مترا کو ابھتوش کی بات یاد آنے لگی۔ سب کچھ نہ بدلے تب بھی کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ سنگی مترا جیسے اپنے آپ سے بد بدائی۔ دیکھا نا، بھول گئی کہ وہ کس لئے باہر نکلی تھی؟ کس کام سے؟ یہ غلط بات ہے۔ ذرا دیر میں سب بھول جاتی ہے۔ حافظہ کمزور ہونے لگا ہے۔ ...

مزید پڑھیے

لینڈ اسکیپ کے گھوڑے

(پیارے دوست اس۔ ال۔ حسین کے نام)سب سے بری خبر’’نہیں، اس گھوڑے کے بارے میں نہیں پوچھئے۔ برائے مہربانی۔‘‘ وہ زور زور سے ہنس رہا تھا۔ برائے مہربانی اور جیسا کہ میں نے کہا، آپ یقین کیجئے۔ وہ گھوڑا۔ با۔ بابا۔ ایک بے حد دلچسپ کہانی اور جیسا کہ میں ہوں۔ کیا آپ مجھ پر یقین کریں گے۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 104 سے 233