تصویر

آؤ،آؤیہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھادیا اورخود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہوگیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں والا وہ پینسٹھ سالہ مصور دوبارہ نشست گاہ کی طرف لوٹا تووہ آس پاس کی دیواروں کا جائزہ لے چکی تھی وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا توتیسری دیوار کی طرف گھورنے کا آپشن بھی ختم ہوگیا۔ اس کی نظر دوبارہ دائیں طرف والی دیوار کی طرف اٹھ گئی شاہکار تصویر تھی برتھ آف اپالو؟اس نے مصور کی طرف سوالیہ دیکھا ہاں مصور کی نظروں نے اس کی نظروں کی متابعت کی مگرکچھ تشنگی ہے سر معاف کیجئے گا ۔۔۔۔۔ وہ بدمزہ ہوئی کیا تشنگی ہے؟ مصور کی آواز کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی مستی درآئی ’’اپالو‘‘ ۔۔۔۔۔ یونان کا مردوجہیہ،مردانہ وجاہت کا نشان، تصویر کے اندر کامل عریانی کے ساتھ نیم دراز دکھایا گیا تھا کہنی کے بل نیم دراز اپالو کتابی چہرہ،گھونگھریالے بال،سنہری کھال،بھوری آنکھیں،گھٹا ہوا مضبوط بدن، بازوؤں اور رانوں کی مچھلیاں نمایاں،گٹار کے تار کی طرح تنا ہوا پیٹ،کلائیاں اور پنڈلیاں مضبوطی کی گواہی دیتی ہوئی چیتے کے جیسی پتلی کمر،ریڑھ کی ہڈی کی طرف کھنچی ہوئی ناف سب مکمل ہے مگر ۔۔۔۔۔ ہاں مگر کیا؟؟؟مصور کی بھاری مخمورآواز ابھری۔۔۔
مگریہ کہ سر!!!!وہ اٹھ کرکھڑی ہوگئی اورتصویر کے سامنے جاکر شہادت کی انگلی’’اپالو‘‘کے وسط میں رکھ دی یہ کچھ نامکمل میرا مطلب ہے نابالغوں جیسا ۔۔۔۔۔ آئی مین سر۔اپالو کے مکمل بالغ وجود کے ساتھ یہ عدم مطابقت ہے وہ چکراگئی ۔۔۔۔۔ مصور بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا یہ اس کی معصومیت کے اظہار کیلئے کرنا پڑا۔
عجیب بات ہے معصومیت کے اظہار کیلئے کس علامت کا سہارا لیا آپ نے سر!وہ دوسری طرف مڑگئی مقابل کی دیوار پر اس کی آنکھیں چپک گئیں برتھ آف وینس؟
ہاں!!
پانی میں نہاکرساحل پر پاؤں دھرتی ہوئی وینس جس کے بدن کی چادرناف تک ڈھلک آئی تھی اوراوپر کا سارا بدن عریاں تھا اعضاء کے تناسب کا شاہکار ۔۔۔۔۔ کہ آج تک دنیا میں مقابلہ حسن کے لیے اسی کے بدن کے خطوط کو معیار مانا گیا ہے وہ وینس کی ناف کے اندر کہیں کھوسی گئی۔
تمہاری فن پارے کو جانچنے کی صلاحیت کافی اعلیٰ ہے۔
شکریہ سر!
ایک بات کہوں سر میرے دماغ میں ایک عجیب سی تجویز آئی ہے۔
بولو کیا تجویز ہے۔
وینس کے بدن سے زیادہ متناسب اورپرکشش بدن رکھنے والی عورتیں بھی ہیں دنیا میں پھردنیا کی حسین ترین عورت کا ٹائٹل اسی کو کیوں مل جاتا ہے جواس کے اعضاء سے مطابقت رکھتی ہو بت پرستی نہ گئی ہمارے اندر سے۔ ہم پتھروں کو معیار بنالیتے ہیں۔
پتھر کا کیا ہے اس میں؟ہاں!وہ توپتھر ہے یہ توفنکارکوخراج جاتا ہے یہ مونا لیزا، وینس، اپالو، یہ سب کچھ تومائیکل اینجلو، لیونارڈوانچی، پکاسو، کو کریڈٹ جاتا ہے ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مصور نے طویل وضاحت پیش کی تواس نے اپنی آنکھیں واپس پھیرلیں معصومیت کا اظہار اور خوبصورتی کااظہار آمنے سامنے لگی ان دونوں تصویروں کا عنوان یہ ہونا چاہیے ’’حسن اور معصومیت ان کے اظہار میں ہے‘‘
اس نے طنزکیا ادھیڑ عمر مصور اس طنز کو برداشت کرگیا ہاں ان کے اظہار میں حسن اور معصومیت ہے اس میں کیا شک ہے مگران کے استعمال سے معصومیت اورحسن کی لازوال قدریں شکست بھی ہوجاتی ہیں مگرناجائز استعمال سے ان کو آمنے سامنے کیوں لگادیا آپ نے اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے الگ کردیا مگرآمنے سامنے کردیا اذیت رسانی کی انتہا ہے۔
تم سوال بہت پوچھتی ہوکیوں؟
سوال اس لیے پوچھتی ہوں تاکہ خود کوئی گمان کرنے سے بچوں۔ جب سوچنے والے کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملتا توپھروہ خود ہی کوئی نہ کوئی جواب ڈھونڈنکالتا ہے اوربعض اوقات یہ خودساختہ جواب غلط بھی ہوتا ہے اورغلط جواب اگر پختہ ہوجائے توتقدیر پر بھی اثرانداز ہوجاتا ہے ہم بہت سی باتیں جواب نہ ملنے پر خود ساختہ طور پر طے کرلیتے ہیں اورپھرسزا پاتے ہیں وہ واپس صوفے پر آکربیٹھ گئی۔
میری پینٹنگ بنائیں وہ پراعتماد ہوتے ہوئے بولی۔
تمہاری آنکھوں کو میں پینٹ نہیں کرسکوں گا۔ بھاری آواز گونجی۔
کیوں؟تم کسی پر اعتبار نہیں کرتیں۔
کرتی ہوں۔
کس پر؟
اپنے آپ پر ۔۔۔۔۔
یہ کافی نہیں ہے کسی اور پر بھی کرنا پڑے گا خود سے ہٹ کر۔
خود سے ہٹ کر توقابل اعتبار کوئی بھی نہیں ہے مگراس اعتبار ،نااعتباری کا پینٹنگ سے کیا تعلق ہے؟
بہت گہرا تعلق ہے آنکھ کے تاثر کے بغیرتصویر لایعنی ہے بے معنی اور بے اثر ہے تصویر کا سارا تاثر ہی آنکھ کے اندر تشکیل پاتا ہے وہاں سے وہ پورے چہرے اور پھرپورے سراپا کی طرف پھیلتا ہے اورتصویر جاندار اورزندہ لگنے لگتی ہے دنیا کا کوئی بھی رنگ ساز،رنگ باز، آنکھ کے ہرتاثر کو رنگوں کا چولا پہناسکتا ہے مگربے اعتباری کونہیں بے اعتباری پینٹنگ نہیں ہوسکتی یہ رنگوں کے قابومیں نہیں آتی لہذا تمہاری تصویر بنانا بے کار ہے مصور نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
میں اعتبار کیسے قائم کروں اپنے اندر؟وہ روہانسی ہوگئی۔ قدم قدم پر عشاق کے قافلے رواں دواں ہیں جتنے دماغ اتنے الفاظ،جتنے منہ اتنی باتیں ایک دوجے سے بڑھ کر عشق ومحبت کے دعوے کرنے والے موجود ہیں اب تولفظوں سے بھی اعتبار اٹھ گیا لفظ بھی بے وقعت اور فضول ہوگئے ہیں کوئی انوکھے سے انوکھا لفظ بھی سرخوشی نہیں دیتا گریہ کناں آنکھ کوتومصور کیا جاسکتا ہے ناں؟
مصور اس کو دیکھتا رہا اوردھویں کے مرغولے اڑاتا رہا کوئی توہوگاجواعتبار بن کر تمہارے دل کی دھرتی میں گڑا ہوا ہے بوڑھے مصور نے آگے بڑھ کرا س کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گرادیں ہاں ہے اس کی آنکھوں سے پانی ابل پڑا۔
پھر؟
مگروہ خود سے ہٹ کر نہیں ہے اس کو میں کبھی اپنے وجود،روح ضمیر،وجدان،لاشعور سے الگ نہیں کرسکی مجھ میں بڑی انا تھی مجھے جب لگا کہ میں کہیں گم ہورہی ہوں اورمیری جگہ کوئی اور گھیرتا جارہا ہے تومیں نے بڑی کوشش کی۔ بڑے ہاتھ پاؤں مارے مگراسی کوشش میں وہ میرے اندر سماتا چلاگیااوریہاں شرط یہ ہے کہ خود سے الگ ہوکر کسی پر اعتبار کروں۔ بوڑھا مصور خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی میں چلتی ہوں اس نے ہینڈبیگ کے سٹریپ کو پکڑا ذرا سا رکی اور پھردروازے سے باہر نکل گئی۔
شام کافی سرد تھی پہاڑوں کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں شائیں شائیں کرتی گزررہی تھیں مگرہال کے اندر ہلکی پھلکی بدن کی ٹکور کرنے والی حرارت تھی۔ ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ مصوری کے موضوع پر کانفرنس تھی تووہ بھی چلا آیا سٹیج کی پشت پر لگی سکرین پر سائیڈشو میں تصویریں چل رہی تھیں وہ مقرر کی تقریرسے زیادہ ان تصویروں کے سحر میں کھویا ہوا تھا کہ اسے اپنے بائیں طرف سے ہلکی سی خوشبوآئی مفلر کے اندر اچھی طرح لپٹی ہوئی گردن کو اس نے ہلکا ساموڑا توآنکھیں سیدھی اس کے ماتھے کے ساتھ جاٹکرائیں اور وہاں سے پھسلیں توآنکھوں پر اٹک گئیں وہ بھی اس کی طرف دیکھ چکی تھی۔
ہائے کیا حال ہے۔اس نے ہاتھ آگے بڑھادیا
ٹھیک ہوں اچھی لگ رہی ہو وہ ہاتھ تھامتے ہوئے بولا
کب آئی ہو؟
آج ہی آئی ہوں۔
بتادیتی!!!!
کیا فرق پڑتا ہے مل توگئے ہم
ہمسائے جو ہیں ہمسایہ ٹھنڈمیں گرم چادر کی بکل جیسا ہوتا ہے جب دیار غیرمیں ملے وہ مسکرائی عجیب سی سرخوشی کے ساتھ اس نے اس کے ہونٹوں کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تمہاری اس لپ اسٹک کا رنگ کونسا ہے؟
جامنی ہے وہ پھرمسکرائی۔
ایک دلنواز سی حدت پھیل کر اس کو گھیرے میں لے رہی تھی وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ساتھ ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے سانسوں کو محسوس کرنا بھی ایک راحت ہے مقررکیا کہہ رہا تھا اس نے نہیں سنا اس کی ساری حسیات ساتھ والے سانسوں پر مرتکز تھیں جواس کے سانسوں کے ساتھ مل کر ایک ہالہ بنارہے تھے درد جو ہروقت بدن کو کاٹتا رہتا تھا تب کہیں سوگیا تھا اس نے مفلر پر ہاتھ رکھا بعض جسموں کی محض موجودگی ہی روح کو سرشار کردیتی ہے وہ اس وقت سامنے کی طرف متوجہ ہوچکی تھی مگربیٹھی اس کے ساتھ تھی اس کو اس خیال سے ہی تسکین ہوئی کہ وہ اس کے ساتھ بیٹھی سانس لے رہی ہے۔
سانس لینا بھی کیسی عادت!! بے اختیار اس نے گلزار کی یہ لائن پڑھی ؂جیے جاتے ہیں جیے جاتے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
جیے جانا بھی کیسی عادت ہے وہ مسکرائی
تم ہر وقت جس درد کو کاٹتے ہو ناں وہ میری روح کو بھی چھیدتا رہتا ہے وہ سرگوشی میں بولی وہ ہلکا سا مسکرادیا۔
جامنی رنگ جب پھیلتا ہے توشفق کی تصویر بن جاتا ہے جس کے نیچے سمندر بہہ رہا ہو ہاں سمندر۔ ابداورازل کے کنارے کہاں ملتے ہیں ازل اور ابد کے احساس کے اندر سکون ہے جامنی رنگ کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے لہر کے اوپر لہر آتی ہے وہ زندہ ہے توانا،جیتا جاگتا شورمچاتا ہوا کف اڑاتا ہوا رواں دواں اس کے اندر حیات ہے وہ دیکھو اس نے انگلی سے سکرین کی طرف اشارہ کیا وہ حیرت سے اس کو تک رہی تھی۔
کیا کہہ رہے تھے تم؟سکرین پر تولیونارڈو کی’’دی لاسٹ سپر‘‘دکھائی جارہی ہے چلواٹھو کہیں چلتے ہیں وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑاہوا ہال کی سیڑھیاں چڑھ کر وہ باہر آگئے باہر رات سیاہ اورگھنی تھی وہ ساتھ ساتھ چلنے لگے رات ان کے آس پاس سے ہوکر گذرنے لگی تھی۔
کیسا ہے تمہارا وہ؟
ٹھیک ہی ہوگا میری بہت دنوں سے بات نہیں ہوئی۔
کیوں اتنے عرصے تک لاتعلق کیوں ہوجاتی ہو تم؟
شاید ہم دونوں ایک جیسے ہیں اس لیے
مقناطیس کے دوایک جیسے پول ایک دوسرے کو دور دھکیلتے ہیں اور دومخالف پول کھینچ کر ایک دوسرے کے ساتھ جڑجاتے ہیں اس نے قدیم فلسفے کا سراپکڑا۔
وہ مقناطیس ہے انسان نہیں وہ چڑگئی پتا نہیں کیوں تم لوگوں نے مادی اشیاء کے خواص اور ذمہ داریوں کو انسانی رویوں اور تعلقات کے ساتھ جوڑ لیا ہے لوہے اور پتھروں کی مثالیں لے کر آجاتے ہو ریاضی کیا کہتی ہے دونفی بھی آپس میں مل جائیں تواثبات ہے دواثبات آپس میں مل جائیں توبھی اثبات ہے اوراگرنفی اوراثبات مل جائیں توبھی نتیجہ وہی ہے اثبات’’جب ہرچیز کا جواب اثبات ہے توپھردومخالف پول والا بکواس کیا ہے اور کیوں ہے اوراس کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے ہونہہ ۔۔۔۔۔
تاریکی ان کے آس پاس سے سرک رہی تھی دونوں بہت قریب قریب چل رہے تھے وہ اس کے ساتھ چلتا رہا اس کے بدن کو چھونے کی خواہش اس کے لہو کے خلیوں کے اندر جڑپکڑرہی تھی وہ لاتعلقی سے چل رہی تھی عجیب عورت ہے یہ پھیکی،بے رنگ، گہری۔ الگ الگ،آزاد بے ربط لفظ اورخیالات اس کے دماغ سے نکل نکل کر ٹھنڈے برفائے ہوئے اندھیرے میں گم ہوتے گئے اس کا مرکز سلامت تھا وہ اپنے مرکز کو بچائے ہوئے تھی سلامت رکھے ہوئے تھی پھیکی،بے رنگ،گہری اور الگ تھلگ وہ جانتا تھا کہ اس کی اس کو چھونے کی خواہش تشنہ تکمیل ہی رہے گی۔
بوڑھا مصور رنگوں کے سٹروک لگارہا تھا سٹروک پر سٹروک لگائے جارہا تھا رنگ بکھررہے تھے پھیل رہے تھے وہ سنگی مجسمے کی طرح پتھرائی ہوئی بیٹھی تھی بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں تھا وہ وحشیانہ انداز میں کینوس پر سٹروک لگارہا تھا رات کے منتشر اورآوارہ ٹکڑے ادھر ادھر کونوں کھدروں،سوراخوں اورنیچی چھت کے گھروں کے اندر پناہ لیے ہوئے تھے دن دھندلایا ہوا تھا سارے رنگ،سبھی رنگ اپنی اپنی شناخت سے وراہی ورا تصویر کے قالب میں ڈھلتے جارہے تھے۔
اس کی آنکھوں میں اعتبار تونہیں تھا وہ مرکز کو سنبھالے بیٹھی تھی مصور ہانپتا ہوا تھک ہار کر بیٹھ گیا اور ایک کنج لب کو ذرا سا کھینچ کر اور ایک آنکھ قدرے میچ کر اس نے طنزیہ اس کی طرف دیکھا مصورنے رنگوں کے ساتھ کھلواڑکیا تھا آنکھ سے اوجھل پس منظر اور پیش منظر میں اتنے رنگ بھردیئے تھے کہ ناظر کی آنکھ اس کے مرکز کی طرف جاہی نہ سکتی تھی وہ راستے کے رنگوں کے بہکاوے کی شکار ہوجاتی تھی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر سامنے آئی کینوس پر رنگوں کا سیلاب امڈآیا تھا اس نے ہاتھ آگے بڑھایا نیلے،پیلے،سرخ،سبز،جامنی،کاسنی،سرمئی رنگوں کے دریا اس کے ہاتھوں کے ناخنوں سے پھوٹ بہے بصارت کو رنگوں نے لپیٹ لیا۔
تصویر مکمل تھی۔