افسانہ

بوڑھے جاگ سکتے ہیں

اور وہ واقعہ ہو گیا جس کے بارے میں پون لال سوچتے تھے کہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔ لیکن کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا، کا جواب فی الحال ان کے ان کے پاس نہیں تھا۔۔۔ آخر کیوں نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔؟ وہ بہت دیر تک بلکہ کہنا چاہئے کہ دوسرے بہت سے سوالوں سے فارغ ہو کر جیسے بس اسی سوال تک لوٹ ...

مزید پڑھیے

اکیلے آدمی کی موت

عزیز الدین دیر تک اپنے کمرے میں ٹہلتے رہے۔ صبح سے موسم بھی خراب تھا۔ پرانی کھانسی کی شکایت بھی تھی۔ چلتے چلتے کھانسنے لگتے۔ سانس پھول جاتی تو کرسی پر کچھ دیر کے لئے سستانے بیٹھ جاتے۔ کوئی تو نہ تھا اس بڑے سے گھر میں ان کے سوا۔۔۔ اور جب سے اُن کی نظر اس عجیب سے اشتہار پر پڑی تھی، ...

مزید پڑھیے

فزکس، کیمسٹری، الجبرا

(اپنی بیٹی صحیفہ کے نام۔۔۔ کوئی نہ جانے۔۔۔ تم کو کیسے کیسے سوچا میں نے۔۔۔ کیسے کیسے جانا میں نے۔۔۔!) (1) ’’نہیں انجلی۔ یہاں نہیں۔ یہاں میں پڑھ رہا ہوں، نا۔ یہاں سے جاؤ۔۔۔‘‘ ’’لیکن کیوں پاپا۔‘‘ ’’بس۔ میں نے کہہ دیا نا۔ جاؤ۔ کبھی کبھی سن بھی لیا کرو۔۔۔‘‘ ’’پاپا۔ مجھے ...

مزید پڑھیے

بارش میں ایک لڑکی سے بات چیت

تب ڈرامہ کی ریہرسل شروع نہیں ہوئی تھی۔ ریہرسل سے ایک مہینہ قبل یہ ’’حادثہ‘‘ پیش آیا تھا اگر اسے حقیقت میں ’’حادثہ‘‘ کا نام دیا جائے تو! لیکن۔۔۔ اس ’’حادثہ‘‘ سے پہلے بھی وہ کہیں ٹکرائی تھی۔ کہاں؟سمینار میں۔ بس، ایک سرسری سی ملاقات تھی۔ وہ بھی ایسے خالص ادبی سمیناروں ...

مزید پڑھیے

کاتیائن بہنیں

ایک ضروری نوٹقارئین! کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا مستقبل مصنف طے کرتا ہے لیکن کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا مستقبل کہانی کے کردار طے کرتے ہیں۔ یعنی جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی جاتی ہے، اپنے مستقبل کے تانے بانے بنتی جاتی ہے اور حقیقت میں مصنف اپنے کرداروں کو راستہ دکھا کر ...

مزید پڑھیے

انکیوبیٹر

(اپنی بٹیا صحیفہ کے لئے۔۔۔ جو دو برس کے سفر میں اتنا کچھ دے گئی، جو پوری زندگی پر بھاری ہے۔)نرسریسیمون د بووار(Simone De Beauvoir) نے کہا تھا، ’’عورت پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہے۔‘‘ لیکن، نیل پیدا کہاں ہوئی تھی۔ نیل تو بن رہی تھی۔ نیل تو ہر بار بننے کے عمل میں تھی۔ شاید اسی لئے، پیدا ...

مزید پڑھیے

بازار، طوائف اور کنڈوم

بازارپہلے بازار اِس طرح نہیں پھیلا تھا۔ وہ بازار کے، اِس طرح پھیلنے پر اُداس تھا۔ پہلے بازار میں اتنی بھیڑ نہیں ہوا کرتی تھی۔ پہلے بازار میں اِتنی ڈھیر ساری دکانیں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ پہلے دکانوں میں اِتنے سارے کام کرنے والے مزدور یا ’’چیزیں‘‘ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ پہلے ...

مزید پڑھیے

اصل واقعہ کی زیراکس کاپی

’’وہ جو، ہر طرح کے ظلم، قتل عام اور بربریت/کے پیچھے ہیں/تلاش کرو/اور ختم کر دو/اس لئے کہ وہ اس نئی تہذیب کی داغ بیل/ڈالنے والے ہیں/جو تمہاری جانگھوں یا ناف کے نیچے سے ہو کر گزرے گی۔‘‘ گرمی کی ایک چلچلاتی دوپہر کا واقعہسپریم کورٹ کے وسیع و عرض صحن سے گزرتے ہوئے اچانک وہ ٹھہر ...

مزید پڑھیے

مرد

(الف)مسز گروور اور تانیہ ایک منظر دیکھتی ہیں، ’’وہ ہنس رہے ہیں، باتیں کر رہے ہیں۔۔۔‘‘ ناگواری سے کہا گیا۔۔۔ ’’ہوتا ہے !‘‘’’اب انہوں نے چھریاں سنبھال لی ہیں۔‘‘ اِدھر ایک کپکپی طاری کر دینے والی کیفیت۔۔۔ جواب میں کہا گیا۔۔۔ ’’اور دیکھو‘‘۔ اُدھر سے پھر ایک حیرت بھری ...

مزید پڑھیے

بیٹی

(اپنی بٹیا صحیفہ کے لئے ، کہ یہ کہانی بھی اُسی کے تصور سے پیدا ہوئی تھی)خوفبیٹی باپ سے ڈرتی تھی، اس کے برخلاف ماں کو اپنا دوست سمجھتی تھی۔۔۔ ماں بیٹی سے ڈرتی تھی، اس لئے کہ بیٹی دنوں دن تاڑ جتنی لمبی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ باپ کو بیٹی سے بالکل ڈر نہیں لگتا تھا۔ اس لئے کہ باپ مصروف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 105 سے 233