صدا کا صوت کا اقرار ہونا باقی ہے
صدا کا صوت کا اقرار ہونا باقی ہے
ابھی تو درد کا اظہار ہونا باقی ہے
لبوں کے لمس سے واضح ہے دل کی سرگوشی
کہوں یہ کیسے کہ بیدار ہونا باقی ہے
کھڑے ہو شور تلاطم سے ڈر کے ساحل پر
ابھی تو بحر کے اس پار ہونا باقی ہے
ابھی تو پھیلی ہے کچھ ملگجی سی دھوپ یہاں
کرن میں اور بھی کچھ دھار ہونا باقی ہے
ابھی تو زخموں کی روداد سن رہے ہیں ہم
ابھی ہمارا شرر بار ہونا باقی ہے
کہیں تو نیچی کہیں اونچی ہو گئی ہے انا
یہ مصلحت کو گراں بار ہونا باقی ہے
چبھن کے لفظ کا مفہوم ہی بدل دو اثرؔ
غموں کا دل پہ تو انبار ہونا باقی ہے