فنا کی سمت چلا ہوں بقا میں کیا جانوں
فنا کی سمت چلا ہوں بقا میں کیا جانوں
یہ کیسی بات ہے اس کی رضا میں کیا جانوں
دیار فکر پہ طاری ہے نزع کا عالم
ہوں زندہ لاش زمیں پر دعا میں کیا جانوں
ازل سے آج تلک بٹ رہا ہوں قسطوں میں
ملے گی اس سے بھی بڑھ کر سزا میں کیا جانوں
ہے میرے دل میں بھی حسرت کہوں انا الحق میں
نصیب ہوگی کب اس کی رضا میں کیا جانوں
حیات رشتۂ زنجیر میں ہے سمٹی ہوئی
نجات دے گا مجھے کب خدا میں کیا جانوں
حدوں سے اپنی گزرنے کی ضد پہ قائم ہے
سمجھ سے بالا ہے اس کی ادا میں کیا جانوں
اثرؔ میں سن تو رہا ہوں ہوا کی سرگوشی
کہیں بدل ہی نہ جائے فضا میں کیا جانوں