حصار تنگ زمیں تنگ آسمان بھی تنگ
حصار تنگ زمیں تنگ آسمان بھی تنگ
ہمارے سر پہ ہوا گھر کا سائبان بھی تنگ
کھلی فضا سے تو بہتر تھی قید ہی کی گھٹن
کہ آج ہونے لگے مجھ پہ جسم و جان بھی تنگ
فضائے وقت کی سازش بھی کیسی سازش تھی
ہمارے جسم کے ہوتے گئے نشان بھی تنگ
سہارے موجوں کے کچھ کام آ سکے نہ مرے
شکستہ تھی مری کشتی تو بادبان بھی تنگ
گھرا ہوا ہوں میں بونوں کے درمیاں کب سے
کہ میرا چہرہ ہے مجروح تو زبان بھی تنگ
اندھیرے اب تو نگلنے لگے ہیں یوں کہ اثرؔ
نوید صبح سے پہلے ہوئی زبان بھی تنگ