مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہے
مکاں سے لپٹی سسکتی ہوئی صدا کیا ہے
گلی گلی میں ہے جو ان دنوں بلا کیا ہے
ہر ایک شخص ہے اپنا علم اٹھائے ہوئے
کوئی بتاتا نہیں آخرش ہوا کیا ہے
بس اک روش پہ جئے جا رہے ہیں برسوں سے
یہی ہے سچ تو بتاؤ کہ ارتقا کیا ہے
کوئی بھی چہرہ یہاں بے شکن نہیں لگتا
کوئی بھی کہتا نہیں آج یہ ہوا کیا ہے
درست بات تھی ہم اختلاف کیا کرتے
موافقت کی بھی اتنی بڑی سزا کیا ہے
عجیب بحر ہے مجھ سے ہی پوچھتا ہے اثرؔ
کسی بھی موج کو چہرہ کوئی ملا کیا ہے