پہلی جیسی ہی کشش آج بھی ہے

پہلی جیسی ہی کشش آج بھی ہے
کل جو تھی ان کی روش آج بھی ہے


کل بھی انصاف کا سر کٹتا تھا
جرم پر داد و دہش آج بھی ہے


کل جو خواہش تھی تن آسانی کی
وہی پہلو میں خلش آج بھی ہے


ذہن کا کیسا ہے رشتہ مضبوط
اپنے ملبے میں کشش آج بھی ہے


آگ سے آگ بجھائی نہ گئی
راکھ سے لپٹی تپش آج بھی ہے


شب کی ظلمت کا وہی غم ہے اثرؔ
دوسرے دن کی کشش آج بھی ہے