قومی زبان

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا مری آنکھ کس نے اجاڑ دی مرا خواب کس نے چرا لیا تجھے کیا بتائیں کہ دل نشیں ترے عشق میں تری یاد میں کبھی گفتگو رہی پھول سے کبھی چاند چھت پہ بلا لیا مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر ترا حال تھا مجھے یاد ہے کبھی جل گئیں تری روٹیاں کبھی ہاتھ تو ...

مزید پڑھیے

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی وہ دل سے چاہے جو میرا ہونا تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی جو شام ڈھلتے ہی میری آنکھوں میں جھلملاتا ہے چاند بن کر وہ اپنے سینے میں میری دھڑکن سمو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی جو اپنے زخموں کو میری نظروں سے دور رکھنے کا سوچتا ...

مزید پڑھیے

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تری کہانی ہے یا نہیں ہے

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تری کہانی ہے یا نہیں ہے اگر نہیں ہے تو پھر بتاؤ یہ رائیگانی ہے یا نہیں ہے کسی کے شجرے میں کیا لکھا ہے مجھے غرض ہی نہیں ہے اس سے زباں کھلے گی تو علم ہوگا وہ خاندانی ہے یا نہیں ہے میں اپنی تنہائی تن پہ اوڑھے پلٹ رہا ہوں یہ دیکھنے کو وہ آج بھی اپنی بے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

وہ جو اک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے نرم لہجہ کبھی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ چاہت میں وہ سینے سے لگے اس لپٹنے کا سبب ڈر بھی تو ہو سکتا ہے دور سے پھول جسے آپ نے بھجوائے ہیں آپ سے مل کے وہ بہتر بھی تو ہو سکتا ہے ہم جسے آپ کے آنچل کی دھنک سمجھے ہیں کوئی خوش رنگ سا منظر ...

مزید پڑھیے

ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے

ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے جیسے احساس کوئی خواب گراں سے گزرے یوں حقائق مری چشم نگراں سے گزرے جیسے اک موج ہوا آب رواں سے گزرے آگہی عین حقیقت ہے مگر شرط یہ ہے پہلے توفیق یقیں حد گماں سے گزرے باغ کا درد اسی پھول کے دل سے پوچھو مسکراتا ہوا جو دور خزاں سے گزرے دل کی ہر بات ہے ...

مزید پڑھیے

سو گیا اوڑھ کے پھر شب کی قبائیں سورج

سو گیا اوڑھ کے پھر شب کی قبائیں سورج جن کے دامن پہ چھڑکتا تھا ضیائیں سورج آج تک راکھ سمیٹی نہیں جاتی اپنی ہم نے چاہا تھا ہتھیلی پہ سجائیں سورج آنکھ بجھ جائے تو اک جیسے ہیں سارے منظر اپنی بینائی کے دم سے ہیں گھٹائیں سورج میری پلکوں پہ لرزتے ہوئے آنسو موتی میرے بجھتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

زندگی شب کے جزیروں سے ادھر ڈھونڈتے ہیں

زندگی شب کے جزیروں سے ادھر ڈھونڈتے ہیں آنکھ میں اشک جو چمکیں تو سحر ڈھونڈتے ہیں خاک کی تہہ سے ادھر کوئی کہاں ملتا ہے ہم کو معلوم ہے یہ بات مگر ڈھونڈتے ہیں کار دنیا سے الجھتی ہیں جو سانسیں اپنی زخم گنتے ہیں کبھی مصرعۂ تر ڈھونڈتے ہیں بے ہنر ہونا بھی ہے موت کی صورت اے دوست زندہ ...

مزید پڑھیے

صدائے مژدۂ لا تقنطوا کے دھارے پر

صدائے مژدۂ لا تقنطوا کے دھارے پر چراغ جلتے رہے آس کے مینارے پر عجیب اسم تھا لب پر کہ پاؤں اٹھتے ہی میں خود کو دیکھتا تھا عرش کے کنارے پر عجیب عمر تھی صدیوں سے رہن رکھی ہوئی عجیب سانس تھی چلتی تھی بس اشارے پر وہ ایک آنکھ کسی خواب کی تمنا میں وہ ایک خواب کہ رکھا ہوا شرارے پر اسی ...

مزید پڑھیے

ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجئے ناں

ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجئے ناں اداس شب کا بھی کچھ احترام کیجئے ناں سنا ہے آپ کی آنکھیں ہیں بادشاہ آنکھیں نظر اٹھائیے ہم کو غلام کیجئے ناں یہ چند اہل محبت کا پیر و مرشد ہے یہ آ گیا ہے تو اٹھ کر سلام کیجئے ناں وہ شام جس میں ستاروں کے بھاگ جاگتے ہیں اک ایسی شام ہمارے بھی نام ...

مزید پڑھیے

ہر سمت بکھرتی ہوئی خوشبو کی طرح ہیں

ہر سمت بکھرتی ہوئی خوشبو کی طرح ہیں کچھ لوگ مرے شہر میں اردو کی طرح ہیں کچھ لوگ محبت کے پیمبر ہیں زمیں پر کچھ لوگ سیہ رات میں جگنو کی طرح ہیں گر سکتے ہیں دامن پہ کسی وقت بھی اب ہم رخسار پہ ٹھہرے ہوئے آنسو کی طرح ہیں سرہانے پہ رکھے ہوئے کچھ خواب ہمارے پھولوں سے بھرے آپ کے بازو کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 997 سے 6203