وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا
وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا مری آنکھ کس نے اجاڑ دی مرا خواب کس نے چرا لیا تجھے کیا بتائیں کہ دل نشیں ترے عشق میں تری یاد میں کبھی گفتگو رہی پھول سے کبھی چاند چھت پہ بلا لیا مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر ترا حال تھا مجھے یاد ہے کبھی جل گئیں تری روٹیاں کبھی ہاتھ تو ...