قومی زبان

میں پور پور تلک عشق میں نکھرنے لگا

میں پور پور تلک عشق میں نکھرنے لگا ترا وصال محبت میں رنگ بھرنے لگا تبھی سے میرے بزرگوں کو فکر ہونے لگی میں ایک دن میں کئی بار جب سنورنے لگا مزا خلوص میں ہوتا ہے گفتگو میں نہیں جسے سمجھ نہیں آئی وہ بات کرنے لگا وہ جتنی دیر سے ڈوبا مری محبت میں میں اتنا جلد ہی اشعار میں ابھرنے ...

مزید پڑھیے

مشکل تو نہ تھا ایسا بھی افلاک سے رشتہ

مشکل تو نہ تھا ایسا بھی افلاک سے رشتہ توڑا ہی نہیں ہم نے مگر خاک سے رشتہ ہر صبح کی قسمت کہاں رخسار کی لالی ہر شب کا کہاں دیدۂ نمناک سے رشتہ بخشی ہے تجھے جس نے خد و خال کی دولت ہے میرے بدن کا بھی اسی چاک سے رشتہ چھوڑا ہے کسے فکر کے دریا نے سلامت راس آیا کسے موجۂ ادراک سے ...

مزید پڑھیے

خاک زادہ ہوں مگر تا بہ فلک جاتا ہے

خاک زادہ ہوں مگر تا بہ فلک جاتا ہے میرا ادراک بہت دور تلک جاتا ہے تیری نسبت کو چھپاتا تو بہت ہوں لیکن تیرا چہرہ مری آنکھوں سے جھلک جاتا ہے اک حقیقت سے ابھر آتا ہے ہر شے کا وجود ایک جگنو سے اندھیرا بھی چمک جاتا ہے یوں تو ممکن نہیں دشمن مرے سر پر پہنچے پہرے داروں میں کوئی آنکھ ...

مزید پڑھیے

کب گوارا ہے مجھے اور کہیں پر چمکے

کب گوارا ہے مجھے اور کہیں پر چمکے میرا سورج ہے تو پھر میری زمیں پر چمکے کتنے گلشن کہ سجے تھے مرے اقرار کے نام کتنے خنجر کہ مری ایک نہیں پر چمکے جس نے دن بھر کی تمازت کو سمیٹا چپ چاپ شب کو تارے بھی اسی دشت نشیں پر چمکے یہ تری بزم یہ اک سلسلۂ نکہت و نور جتنے تاریک مقدر تھے یہیں پر ...

مزید پڑھیے

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا بکھر رہی ہے مری ذات اس سے کہہ دینا ہوائے موسم غم اس کے شہر جائے تو مرے دکھوں کی کوئی بات اس سے کہہ دینا یہ وحشتیں یہ اداسی یہ رتجگوں کے عذاب اسی کی ہیں یہ عنایات اس سے کہہ دینا وہ دل کی بازی جہاں مجھ سے جیتنا چاہے میں مان لوں گا وہیں مات اس سے ...

مزید پڑھیے

یہ کار بے ثمراں مجھ سے ہونے والا نہیں

یہ کار بے ثمراں مجھ سے ہونے والا نہیں میں زندگی کو بہت دیر ڈھونے والا نہیں میں سطح آب پہ اک تیرتا ہوا لاشہ مجھے کوئی بھی سمندر ڈبونے والا نہیں بڑے جتن سے ملا ہے یہ اپنا آپ مجھے میں اب کسی کے لیے خود کو کھونے والا نہیں فصیل شہر ترا آخری محافظ ہوں یہ شہر جاگے نہ جاگے میں سونے والا ...

مزید پڑھیے

بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے

بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے ہم اپنی ذات کو پاتال میں اتارے ہوئے صدائے صور سرافیل کی رسن بستہ پلٹ کے جائیں گے اک روز ہم پکارے ہوئے شکست ذات شکست حیات بھی ہوگی کہ جی نہ پائیں گے ہم حوصلوں کو ہارے ہوئے اے میرے آئینہ رو اب کہیں دکھائی دے اک عمر بیت گئی خال و خد سنوارے ...

مزید پڑھیے

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے تلاشتے ہیں ابھی ہم سفر بھی کھوئے ہوئے کہ منزلوں سے ادھر راستہ بنانا ہے سمیٹنا ہے ابھی حرف حرف حسن ترا غزل کو اپنی ترا آئینہ بنانا ہے مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے سکوت شام الم ...

مزید پڑھیے

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے پہنچ گئی ہے کہاں جانے بات چلتے ہوئے سفر سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا سر سحر چلی آئی ہے رات چلتے ہوئے سنا ہے تم بھی اسی دشت غم سے گزرے ہو سو ہم نے کی ہے بڑی احتیاط چلتے ہوئے ہم اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بحال کریں کہیں رکھے تو سہی کائنات چلتے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے

وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے چراغ بن کے مجھے روشنی دکھا رہا ہے وہ صرف حق جو مرے لب سے آشکار ہوا سکوت دیر میں اک عمر گونجتا رہا ہے مرے سخن میں جو اک لو سی تھرتھراتی ہے چراغ شب سے مرا بھی مکالمہ رہا ہے مرے لیے یہ خد و خال کی حقیقت کیا وہ خاک ہوں کہ جسے چاک پھر بلا رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 998 سے 6203