قومی زبان

رات بھر جاگے سویرے سو گئے

رات بھر جاگے سویرے سو گئے پھیلتے بڑھتے اندھیرے بو گئے ہاتھ آئی یہ اندھیری رات ہی تھے وہ جو کچھ بھی تھے میرے سو گئے خوف بھر آوازیں ہیں اطراف میں مشعلیں بجھتی ہیں ڈیرے تو گئے ہاتھ میرے تھے وہ میرے ہی تو تھے ہاتھ سے چھوٹے وہ میرے لو گئے شاہؔ اپنے کو میں دیکھوں کس طرح تھے اجالے کے ...

مزید پڑھیے

آنے جانے کا ہے یہ رستہ کیوں

آنے جانے کا ہے یہ رستہ کیوں ہے بچھڑنا اگر تو ملنا کیوں ہاتھ آیا تو پھر پرندہ کیا اور اڑا جو کہیں تو میرا کیوں کس فرشتے کی بات کرتے ہو جب برا ہی نہیں وہ اچھا کیوں ہو کے ناراض مجھ سے کہتے ہیں ظلمتوں کے لئے ہو خطرہ کیوں کیوں نہیں دیکھتا ہوا کا رخ شاہؔ بنتا ہے پھر نشانہ کیوں

مزید پڑھیے

نیک ہو اور پارسا ہو تم

نیک ہو اور پارسا ہو تم یہ بھی کہہ دو کہ بے ریا ہو تم دل تمہارا بھی ہے گداختہ کیا یوں تو داؤدی سی صدا ہو تم کیا الگ شے ہو تم خدائی سے اپنے ہونے سے بھی سوا ہو تم کیا ہے بے جا بجا ہے کیا بابا سوچتے بھی کبھی ہو کیا ہو تم بے خدا شاہؔ بھی کہاں کب ہے ہے یہ شہرا کہ با خدا ہو تم

مزید پڑھیے

کیا کہوں کب دھواں نہیں اٹھتا

کیا کہوں کب دھواں نہیں اٹھتا مجھ سے اپنا زیاں نہیں اٹھتا بھینچتے رہتے ہیں در و دیوار اور دل سے مکاں نہیں اٹھتا آبرو تھام تھام لیتی ہے ہاتھ ورنہ کہاں نہیں اٹھتا اٹھتی جاتی ہیں ساری امیدیں خدشۂ جسم و جاں نہیں اٹھتا ہاتھ اٹھتے رہے ہیں مجھ پر شاہؔ مجھ سے بار زباں نہیں اٹھتا

مزید پڑھیے

ستارے منتظر ہیں ساز کہکشاں لئے ہوئے

ستارے منتظر ہیں ساز کہکشاں لئے ہوئے زمیں کا چاند اٹھ رہا ہے آسماں لئے ہوئے جو دن ڈھلا ہوا رکی کچھ ایسی شام غم جھکی چراغ زندگی کی لو اٹھی دھواں لئے ہوئے کٹھن اگر ڈگر میں مرحلے تو تیز تر ہوں ولولے چلو نہ اس طرح متاع سرگراں لئے ہوئے نہ شاخ گل نہ آشیاں مگر کریں گے خستہ جاں طواف ...

مزید پڑھیے

ساز امید چھیڑ کر تاروں کی تھرتھری نہ دیکھ

ساز امید چھیڑ کر تاروں کی تھرتھری نہ دیکھ راز شکستگی سمجھ رنگ شکستگی نہ دیکھ خندۂ بے ضرر کہاں غنچہ و گل سے درس لے فطرت زندگی پہ جا عشرت زندگی نہ دیکھ ہوگی فضائے آشیاں سوز چمن سے سازگار برق گداز بن کے جی برق کی برہمی نہ دیکھ سود و زیاں کے مرحلے بچ اگر ان سے بچ سکے اپنے سے کچھ ...

مزید پڑھیے

سکوں تلاش نہ کر آرزو کے دیوانے

سکوں تلاش نہ کر آرزو کے دیوانے جو زندگی نے دیا ہے وہ زندگی جانے اس اہتمام سے اکثر اٹھے ہیں پیمانے کہ بوند بوند کو میں جانوں یا خدا جانے دکھے ہوئے دل آدم میں ہے امید کی دھوم ہیں ایک بات سے پیدا ہزار افسانے چراغ رہ سے غرض ہے نہ نقش پا کی تلاش یہ رہروی کوئی ناکردہ راہ کیا ...

مزید پڑھیے

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے آنکھیں نہ ملائیں مری بالغ نظری نے منت کش پندار جنوں ہے دل پر خوں ان کا بھی سہارا نہ لیا بے خبری نے اے حسن دل آرا تری اک ایک ادا کو پروان چڑھایا مری حیرت نگری نے تھی مرحلۂ سخت وہ منزل کہ جہاں پر تم کو بھی سنبھالا مری آشفتہ سری نے تم خود ہی چلے ...

مزید پڑھیے

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی حقیقتوں کا واسطہ عجیب شے ہے زندگی ترا خیال دے گیا ہے آسرا کہیں کہیں ترا فراق حوصلے بڑھا گیا کبھی کبھی اسی میں کچھ سکون ہے شعور غم کا ساتھ دیں یہی خوشی کی بات ہے چلے چلیں خوشی خوشی ہزار ٹوٹتے گئے طلسم روپ رنگ کے مگر نہ چین سے رہا مرا شعار بت ...

مزید پڑھیے

اپنے بد گماں سے

اپنے بد گماں سے تم سمجھتی ہو کہ میں سر خوش توفیق نشاط آج ویسا ہی بلا کوش ہوں جیسے کبھی تھا تم نے شاید یہ سنا ہے کہ اس اندھیری میں بھی میں اسی طرح جلائے ہوں امنگوں کا دیا اے مری جان وفا رنج کو راحت نہ کہو ایک افسانۂ سادہ کو حقیقت نہ کہو تم نے طنزاً یہ کہا ہے کہ مرا شغل ادب مری تسکیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 996 سے 6203