قومی زبان

بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں

بندۂ عشق ہوں جز یار مجھے کام نہیں خواہش ننگ نہیں کچھ ہوس نام نہیں مذہب عشق کا یہ ڈھنگ نرالا دیکھا کچھ وہاں تذکرۂ کفر اور اسلام نہیں عشق کو جانتا ہوں دین و ایمان اپنا غیر معشوق پرستی مجھے کچھ کام نہیں کعبۂ جاں ہے مرا کوچۂ جاناں یارو سجدۂ دیر و حرم سے مجھے کچھ کام نہیں صید ...

مزید پڑھیے

ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں

ہے عیاں روئے یار آنکھوں میں چھائی ہے کیا بہار آنکھوں میں شعلے اٹھتے ہیں بار بار عجیب کون ہے شمع وار آنکھوں میں کون ہے شہسوارتوسن حسن جس کا ہے یہ غبار آنکھوں میں کیسی مے تو نے دی پلا مجھ کو اب تلک ہے خمار آنکھوں میں دل ہے بلبل صفت بنالہ و آہ کون ہے گلعذار آنکھوں میں شوق میں کس ...

مزید پڑھیے

ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط

ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط بلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباط مجھ درد مند عشق کی تدبیر ہے عبث ہوگا نہ میرے درد کو درماں سے ارتباط بندہ ہوں عشق کا نہیں مذہب سے مجھ کو کام کیوں کر کروں میں گبرو مسلماں سے ارتباط ہے ربط مجھ کو کوچۂ جاناں سے روز و شب مجنوں کو جس طرح تھا ...

مزید پڑھیے

اگر بات تیری ہو پیاری لگے

اگر بات تیری ہو پیاری لگے جو ہو بات کرنا تو بھاری لگے ترے ہاتھ ہی سے عطا ہو جو تیری تو تھوڑی سی بھی مجھ کو ساری لگے دم صبح تارے سے سورج نشاں انہیں برگ گل کی عماری لگے کوئی چاہے لوٹے مزے یاں کے یاں مجھے زندگی مرگ یاری لگے سمندر سے پیاسے کو اے شاہؔ جی مزا ندیوں کا بھی کھاری لگے

مزید پڑھیے

یاں کے ہونے کو مثالوں کی زمیں چاہیے ہے

یاں کے ہونے کو مثالوں کی زمیں چاہیے ہے اس کی ہستی کو یہ تمثیل نہیں چاہیے ہے ہر نشاں اس کا ہے دل میں بھی ہے جلوہ اس کا ظاہر دیدہ کی تسکیں بھی کہیں چاہیے ہے جو یہاں بھی ہے وہاں بھی ہے وہی ہے اچھا کیوں کہیں اس کو بھی اچھا جو یہیں چاہے ہے یادیں آباد زمانوں کی ہیں آباد اس میں ہے خرابہ ...

مزید پڑھیے

بھرے پرے سے مکاں میں بھی شاہؔ تنہا ہے

بھرے پرے سے مکاں میں بھی شاہؔ تنہا ہے ردائے شب کے کنارے پہ ایک تارا ہے بس ایک لمحہ تھا حائل تجھے بھلانے میں یہ کس مقام پہ تیرا خیال آیا ہے تمام گرد ہے چہرہ تھکی تھکی آنکھیں اداسیوں کا یہ بادل بہت گھنیرا ہے شب سیہ میں ہے تیری ہی یاد کا لپکا نگاہ ٹھوکریں کھاتی ہے گھپ اندھیرا ...

مزید پڑھیے

بیاں اپنا دکھ اب کیا جائے نا

بیاں اپنا دکھ اب کیا جائے نا بیاں کے بنا بھی جیا جائے نا مسرت ملے دیکھنے کی اسے تصور بھی جس کا کیا جائے نا کہاں ہے تو اے منتظر مرگ من کہ اب مجھ سے تجھ بن جیا جائے نا بہت زخم کھائے مری آنکھ نے دریدہ یہ منظر سیا جائے نا قدم چومتی ہے زمیں میری شاہؔ مگر مجھ سے بدلہ دیا جائے نا

مزید پڑھیے

ناگزیر رشتگی سا ہے تو ہو

ناگزیر رشتگی سا ہے تو ہو ورنہ مجھ سے کیا علاقہ ہے تو ہو وہ مجھے دیکھے نہ میں پاؤں اسے اب کوئی میرا شناسا ہے تو ہو پر کشش ہیں راستے کے پیچ و خم چین پانے کا ٹھکانا ہے تو ہو سامنے ہیں آسمانی وسعتیں بے زمینی کا زمانہ ہے تو ہو چہرۂ احساس پر ہے تازگی آدمی ہونا پرانا ہے تو ہو نازکی اک ...

مزید پڑھیے

بدن دریدہ و بے برگ و بار ہونا بھی

بدن دریدہ و بے برگ و بار ہونا بھی مرے ہی واسطے پھر شرمسار ہونا بھی نظر اٹھاؤں میں جب جب بھی دشت شب دیکھوں عجیب شے ہے سحر کا شکار ہونا بھی طریق سارے گماں کے قدم سے لپٹے ہیں کہ میرے سر ہے حقیقت نثار ہونا بھی مرے ہی نام پہ منزل رسی یہ ٹھہری ہے مرے لیے ہی مگر پا فگار ہونا بھی میں اس ...

مزید پڑھیے

افق پہ

وہ ایک میں ہی نہیں ہوں نہ جانے کتنے ہیں جو سوچتے ہیں سمجھتے ہیں چاہتے بھی ہیں کہ پھوٹتی ہوئی پہلی کرن سے بھی پہلے افق پہ وقت کے چمکیں نیا سا رنگ بھریں جو صبح ہو تو نسیم سحر کا ساتھ دھریں سمیر بن کے بہیں رنگ و بو کی دھرتی پر گلوں سے بات کریں ہر گلی سے کھل کھلیں مگر یہ وقت یہ سہما ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 995 سے 6203