اک سبز رنگ باغ دکھایا گیا مجھے
اک سبز رنگ باغ دکھایا گیا مجھے پھر خشک راستوں پہ چلایا گیا مجھے طے ہو چکے تھے آخری سانسوں کے مرحلے جب مژدۂ حیات سنایا گیا مجھے پہلے تو چھین لی مری آنکھوں کی روشنی پھر آئنے کے سامنے لایا گیا مجھے رکھے تھے اس نے سارے سوئچ اپنے ہاتھ میں بے وقت ہی جلایا بجھایا گیا مجھے چاروں طرف ...