قومی زبان

دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا

دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا چھوٹا سا اک چراغ مرے دل میں جل گیا جاتے ہوئے رکا ہی نہیں ایک پل بھی وہ سارے ستارے پاؤں کے نیچے کچل گیا تانبے کی ٹکڑیاں سی بکھرتی چلی گئیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج پگھل گیا بارش کی بوند بوند کو ترسا ہوا تھا شہر آنچل ہوا کا تھام کے بادل نکل ...

مزید پڑھیے

ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتب کی

ذہانت نے نئی دنیا کی بوطیقا مرتب کی کہانی حاشیے پر جا چکی شاعر کے منصب کی تری یہ گول دنیا تو کنواں ہے موت کا یا رب میں چکرایا توازن میں تو پائی داد کرتب کی نہ جانے آنکھ نے کیا دیکھ کر توسیع اسے دی ہے وگرنہ خواب کی مدت تو پوری ہو چکی کب کی صبا خوشبو کو آندھی گرد کو آگے بڑھاتی ...

مزید پڑھیے

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی

یہ کائناتی ذہانت کا دور ہے بھائی یہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے بھائی سناؤ کیسے ہو کیسے ہیں چاند پر حالات زمین پر تو وہی ظلم و جور ہے بھائی کوئی پلک بھی جھپکتا نہیں تماشے میں مداریوں کا طلسمانہ طور ہے بھائی وطن کی صبح سے ہجرت کی رات دور نہیں حرا سے چند قدم غار ثور ہے بھائی تمہیں ...

مزید پڑھیے

ایک تتلی کے پر مارنے سے ہواؤں کی لہروں میں طوفان پیدا ہوا

ایک تتلی کے پر مارنے سے ہواؤں کی لہروں میں طوفان پیدا ہوا کیسے چھوٹے وقوعے سے کتنے بڑے اک وقوعے کا امکان پیدا ہوا شر پسندی کا شعلہ دلوں تک جو پہنچا تو جل کر شبیہیں فنا ہو گئیں نذر آتش ہوئیں آئنوں کی دکانیں تو حیرت کا بحران پیدا ہوا اول اول یہ کردار مذکور تھا زندگی کی پرانی ...

مزید پڑھیے

کہیں شب کے کینوس پر نیا دن ابھر رہا ہے

کہیں شب کے کینوس پر نیا دن ابھر رہا ہے مرا داغ نارسائی مرا نقش بن گیا ہے میں چلا ہوں جنگلوں سے کسی باغ آتشیں تک مرا زاد خار و خس ہے مرا رنگ اڑا ہوا ہے جو ہے بزم ہم سے خالی وہ رہے گی غم سے خالی جو جگہ خوشی سے پر ہے وہ ہمارا ہی خلا ہے ابھی دیکھئے گا ہر سو مرا خاک بوس ہونا کہ ہوائیں چل ...

مزید پڑھیے

جاں کبھی دن سے کبھی رات سے ٹکراتی ہے

جاں کبھی دن سے کبھی رات سے ٹکراتی ہے ایک کشتی کئی خطرات سے ٹکراتی ہے دل کی مڈبھیڑ تری یاد سے ہوتی ہے کہیں تیرگی نور کے ذرات سے ٹکراتی ہے ایک حالت کا کوئی حال نہیں ہے مجھ میں ایک حالت ہے کہ حالات سے ٹکراتی ہے آہ کے چیتھڑے آفاق میں اڑتے ہیں کہیں بے کسی ارض و سماوات سے ٹکراتی ...

مزید پڑھیے

قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں

قباحت ایسی بھی کیا ہے نظر نہ آنے میں کہ دن گزار دیں لوگوں سے منہ چھپانے میں کھڑے ہوئے تھے کہیں وقت کے کنارے پر پھسل کے جا گرے اک اور ہی زمانے میں تو اتنے فالتو ہو جاتے ہیں یہ خواب اک دن کہ پھینک دیتے ہیں ان کو کباڑ خانے میں یہ ایک عمر میں جانا یقینی کچھ بھی نہیں بقایا عمر کٹی پھر ...

مزید پڑھیے

نہ خراب ہوتا میں دھوپ میں نہ اندھیری رات میں گھومتا

نہ خراب ہوتا میں دھوپ میں نہ اندھیری رات میں گھومتا تو جو ساتھ ہوتا تو اور ہی کسی کائنات میں گھومتا ترے زرد خطے میں خاک اڑانے سے وقت ملتا اگر کبھی تو میں زندگی ترے سبز پوش علاقہ جات میں گھومتا یہ حجاب ہٹتا نگاہ سے یہ غبار چھٹتا جو راہ سے میں تری نشانیاں دیکھتا میں عجائبات میں ...

مزید پڑھیے

جہاں جہاں سے بھی جھلمل تری گزرتی ہے

جہاں جہاں سے بھی جھلمل تری گزرتی ہے دلوں کو آئنہ کرتی ہوئی گزرتی ہے نجوم دونوں طرف صف بہ صف کھڑے ہوئے ہیں فضائے شب سے تری پالکی گزرتی ہے ترے بغیر ہمیں سانس تک نہیں آتی کبھی تو اس سے بھی مشکل گھڑی گزرتی ہے نشاط شام طلسمات کو دوام نہیں لہو سے موج شفق عارضی گزرتی ہے افق پہ رہتی ...

مزید پڑھیے

ابد کے طشت میں کچھ پھول اور ستارے لیے

ابد کے طشت میں کچھ پھول اور ستارے لیے یہ میں ہوں دور سے آیا ہوا تمہارے لیے عجب تھی ان سے ملاقات پر تپاک مری وہ میرے خس کدے میں آ گئے شرارے لیے دیار گریہ کی گلیوں میں ایسی پھسلن ہے بشر گزرتے ہیں دیواروں کے سہارے لیے بچھا کے ان کو میں چاہے جدھر اتر جاؤں رواں ہوں ناؤ میں دریا کے دو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 982 سے 6203