دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا
دستک ہوئی تو سر پہ دوپٹا سنبھل گیا چھوٹا سا اک چراغ مرے دل میں جل گیا جاتے ہوئے رکا ہی نہیں ایک پل بھی وہ سارے ستارے پاؤں کے نیچے کچل گیا تانبے کی ٹکڑیاں سی بکھرتی چلی گئیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج پگھل گیا بارش کی بوند بوند کو ترسا ہوا تھا شہر آنچل ہوا کا تھام کے بادل نکل ...