قومی زبان

پھولوں سے سج گئی کہیں سبزہ پہن لیا

پھولوں سے سج گئی کہیں سبزہ پہن لیا بارش ہوئی تو دھرتی نے کیا کیا پہن لیا جب سے پڑھی چٹائی نشینوں کی زندگی موٹا مہین جو بھی ملا کھا پہن لیا اک جسم ہے جو روز بدلتا ہے کچھ لباس اک روح ہے کہ اس نے جو پہنا پہن لیا ایسا لگا کہ خود بھی بڑا ہو گیا ہوں میں جب بھی بڑوں کا میں نے اتارا پہن ...

مزید پڑھیے

زندگی میری ہوئی ہے پھر نڈھال

زندگی میری ہوئی ہے پھر نڈھال یہ امید بے ثباتی کا کمال جب چلی اے زیست مستقبل کی بات بن گیا ہوں آپ خود اپنا سوال شعر کہہ کر پاس رکھ لیتا ہوں میں فن کی دنیا میں نہ ہو پھر قیل و قال پوچھنا کیا شہر سنگ و خشت سے رنگ بدلا ہے زمانے کی مثال میں کہ ہر شعر میں شاہدؔ نہیں صرف پیش لفظ ہے میرا ...

مزید پڑھیے

جو دل میں جاگی وہی طلب ہے

جو دل میں جاگی وہی طلب ہے خوشی ہماری بڑی طلب ہے کہاں ہوا ہے سکوں میسر ابھی بھی ہم کو تری طلب ہے کمال دکھ ہے نئی محبت نئے دنوں کی نئی طلب ہے وہ مجھ سے اکتا گیا ہے کب کا اسے کہاں اب مری طلب ہے یہ دل جسے سب اجاڑتے ہیں خدا کی بھیجی ہوئی طلب ہے ہمارے ہونٹوں کو جان کشورؔ دعا میں ڈوبی ...

مزید پڑھیے

مجھے محبت سے دیکھتی ہیں تمہاری آنکھیں

مجھے محبت سے دیکھتی ہیں تمہاری آنکھیں بڑے قرینے سے چومتی ہیں تمہاری آنکھیں میں آسماں کا طواف کرنے لگوں تو پہلے کلام کر کے سنبھالتی ہیں تمہاری آنکھیں دلوں میں جھانکیں تو ایک پل میں بڑے سکوں سے دلوں سے نفرت نکالتی ہیں تمہاری آنکھیں چمکتی جاتی ہیں تیرگی میں خموش رہ کر کمال ...

مزید پڑھیے

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے ایک بے پردہ محبت کو سمجھ کر سچ ہے جبر کو صبر کا ہم راز بنایا ہم نے راہ کی ...

مزید پڑھیے

تری نظر سے چھپا کے رکھوں

تری نظر سے چھپا کے رکھوں میں کیسے خود کو بچا کے رکھوں زمانے تجھ کو گلہ ہے مجھ سے میں کیسے دنیا بسا کے رکھوں مری نظر آسمان پر ہے زمیں پہ کیسے جھکا کے رکھوں رقیب رکھتے ہیں لاکھ شکوے حبیب کیسے منا کے رکھوں درخت مجھ پر ہیں جان دیتے میں پھول کیسے سجا کے رکھوں فلک سے اترے ہیں چاند ...

مزید پڑھیے

جو دل میں رواں ہے روایت نہیں ہے

جو دل میں رواں ہے روایت نہیں ہے یہ سچ ہے محبت سہولت نہیں ہے تمہیں بھول جانے کی کوشش بہت ہے اگرچہ بھلانے کی طاقت نہیں ہے مجھے اس نے چھوڑا مرا دل بھی توڑا مجھے اس پہ کوئی بھی حیرت نہیں ہے نہ پندار میرا یوں کرتے فنا تم کہ اب غم اٹھانے کی ہمت نہیں ہے ضرورت ٹھکانے لگا دی ہے ...

مزید پڑھیے

جو بھی ملتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہوں میں

جو بھی ملتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہوں میں کیا کروں مجبوریوں ہیں گاؤں سے آیا ہوں میں کل بھی احساسات کے شعلوں پہ تھا میرا وجود آج بھی ہر لمحہ سونے کی طرح لگتا ہوں میں مجھ سے ہی قائم ہے اب تک تیرا تہذیبی وقار توڑ مت مجھ کو کہ گھر کا صدر دروازہ ہوں میں میں ترے ساحل پہ آیا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

کیسے توڑی گئی یہ حد ادب پوچھتے ہیں

کیسے توڑی گئی یہ حد ادب پوچھتے ہیں پھول شاخوں سے لچکنے کا سبب پوچھتے ہیں شاخ جس شاخ سے ٹکرائی ہے جھوم اٹھی ہے پیڑ آپس میں کہاں نام و نسب پوچھتے ہیں کوئی اندازہ کرے چاند کی بے چینی کا جب ستارے کبھی سورج کا لقب پوچھتے ہیں آنکھ جیسے ہی جھپکتی ہے ہمیشہ کچھ خواب کتنے دن بعد میسر ...

مزید پڑھیے

چھاؤں اوروں کے لئے ہے تو ثمر اوروں کے

چھاؤں اوروں کے لئے ہے تو ثمر اوروں کے کام آتے ہیں ہمیشہ ہی شجر اوروں کے وہ ہے آئینہ اسے فکر ہو کیوں کر اپنی وہ بتاتا ہے فقط عیب و ہنر اوروں کے جنگ میدان سے کمروں میں سمٹ آئی ہے گھر نہ جانا کبھی بے خوف و خطر اوروں کے عہد نو تیری سیاست کا کرم ہے کہ یہاں جسم اپنے ہیں مگر جسموں پہ سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 973 سے 6203