قومی زبان

میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا

میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا اب خود کو خود سے خود کو ملانے سے میں رہا میں لڑ پڑا ہوں آج خود اپنے خلاف ہی اب درمیاں سے خود کو ہٹانے سے میں رہا ہے زندگی اسیر عدم جانتا ہوں میں دنیا ترے فریب میں آنے سے میں رہا مجھ میں کہاں ہے تجھ سے جدائی کا حوصلہ اے میری جان تجھ کو گنوانے ...

مزید پڑھیے

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن بجھتی ہوئی آنکھوں میں کوئی خواب ہے روشن سنسان جزیرے میں چمکتا ہوا تارا دل ہے کہ کوئی کشتیٔ شب تاب ہے روشن دہشت کے فرشتے ہیں فصیلوں پہ ہوا کی اور چاروں طرف شہر کے سیلاب ہے روشن میں ڈوبتا جاتا ہوں تری موج بدن میں یوں رقص میں کرنیں ہیں کہ گرداب ہے ...

مزید پڑھیے

ہمیں خبر بھی نہیں یار کھینچتا ہے کوئی

ہمیں خبر بھی نہیں یار کھینچتا ہے کوئی ہمارے بیچ میں دیوار کھینچتا ہے کوئی یہ کیسا دشت تحیر ہے یاں سے کوچ کرو ہمارے پاؤں سے رفتار کھینچتا ہے کوئی ہے چاک چاک ہمارے لہو کا پیراہن ہماری روح سے جھنکار کھینچتا ہے کوئی میں چل رہا ہوں مسلسل بنا توقف کے مجھے بہ صورت پرکار کھینچتا ہے ...

مزید پڑھیے

اپنی تنہائی کا سامان اٹھا لائے ہیں

اپنی تنہائی کا سامان اٹھا لائے ہیں آج ہم میرؔ کا دیوان اٹھا لائے ہیں ان دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہے گھر میں ہم دشت و بیابان اٹھا لائے ہیں وسعت حلقۂ زنجیر کی آواز کے ساتھ ہم وہ قیدی ہیں کہ زندان اٹھا لائے ہیں میرے سانسوں میں کوئی گھولتا رہتا ہے الاؤ اپنے سینے میں وہ ...

مزید پڑھیے

آج پھر روبرو کرو گے تم

آج پھر روبرو کرو گے تم مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم مجھ سے لو گے مرے لہو قصاص پھر مجھے سرخ رو کرو گے تم حیف ہو میری بد مزاجی پر آپ اپنا لہو کرو گے تم تم گنوا دو گے ایک دن مجھ کو پھر مری جستجو کرو گے تم تم صف دوستاں میں ہو لیکن پھر بھی کار عدو کرو گے تم زخم پر زخم کھائے جاتے ہو اور ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رات ہے اس کو شب ماتم نہ بنا

ہجر کی رات ہے اس کو شب ماتم نہ بنا وصل لمحوں کو سجا زمزمۂ غم نہ بنا کرچیاں ٹوٹ کے بکھری ہیں ترے چاروں طرف ریزۂ دل کو اٹھا زخم کا مرہم نہ بنا گر بچھڑنا ہے تو اک فیصلہ کر لیتے ہیں اس کو تقدیر سمجھ درد کا موسم نہ بنا سارے سپنے بہا لے جائیں گے آنسو تیرے نیم خواب آنکھوں کو تو دیدۂ پر ...

مزید پڑھیے

ماں کا رتبہ

چھوٹا سا اک بچہ ہوں میں باتیں بھی چھوٹی ہیں میری کرنا چاہوں ایک وضاحت بتلاؤں میں ایک حقیقت مسجد مندر ماں ہوتی ہے پیار سمندر ماں ہوتی ہے اک سرمایہ ماں ہوتی ہے ٹھنڈی چھایا ماں ہوتی ہے خود دکھ سہہ کر سکھ دیتی ہے حق کہتی ہے سچ کہتی ہے ڈھال کی صورت وہ رہتی ہے سب کچھ خود ہی وہ سہتی ...

مزید پڑھیے

موسم

سال میں آتے موسم چار پت جھڑ گرمی سردی بہار گرمی کا ہے اپنا رنگ کر دیتی ہے سب کو تنگ گرمی جوبن پر جب آئے آ کر یہ فصلوں کو پکائے گرمی آئے آم بھی لائے یہ ہم سب کے دل کو بھائے خربوزے تربوز بھی آئیں سب مل بیٹھیں کاٹیں کھائیں سردی کا اک اپنا مزہ ہے کوٹ سوئیٹر پہن لیا ہے کینو مالٹوں کی ...

مزید پڑھیے

محبت جب منافع یا خسارا سوچ کر کرتے

محبت جب منافع یا خسارا سوچ کر کرتے تو پھر ہم بھی ترے دل میں گزارا سوچ کر کرتے تمہیں جب دل میں رہنا تھا مرے تو پھر مرے دل پر ستم کرتے کرم کرتے خدارا سوچ کر کرتے سہارے کی ضرورت جب مجھے بھی تھی تمہیں بھی تھی تو بہتر تھا مجھے تم بے سہارا سوچ کر کرتے اگر پہلے دیا ہوتا سلیقے سے جواب ان ...

مزید پڑھیے

کبھی کابل کبھی ڈھاکہ کبھی رنگون سے نکلے

کبھی کابل کبھی ڈھاکہ کبھی رنگون سے نکلے نہ جانے کتنے ہی دریا ہمارے خون سے نکلے ہم اپنا نفس امارہ سمجھنے سے رہے قاصر کتاب نفس پڑھ کر آگے افلاطون سے نکلے اجازت میں نہیں دوں گا مرا دل توڑ جانے کی مرے دل سے جو نکلے قاعدے قانون سے نکلے اسے تو بولنے والا ہی اب بہتر بتائے گا ہزاروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 954 سے 6203