میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا
میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا اب خود کو خود سے خود کو ملانے سے میں رہا میں لڑ پڑا ہوں آج خود اپنے خلاف ہی اب درمیاں سے خود کو ہٹانے سے میں رہا ہے زندگی اسیر عدم جانتا ہوں میں دنیا ترے فریب میں آنے سے میں رہا مجھ میں کہاں ہے تجھ سے جدائی کا حوصلہ اے میری جان تجھ کو گنوانے ...