حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے
حرف کن شہ رگ ہو میں گم ہے اک جہاں ذوق نمو میں گم ہے اپنے ہی حسن کا عکاس ہے حسن آئنہ آئنہ رو میں گم ہے کیف آمیز ہے کیفیت حال نشۂ مے کہ سبو میں گم ہے درد چیخ اٹھتا ہے سینے میں کوئی زخم جیسے کہ لہو میں گم ہے تیر مت دیکھ مرے زخم کو دیکھ یار یار اپنا عدو میں گم ہے کھول مت بند قبا رہنے ...