قومی زبان

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں

سبب کیا ہے کبھی سمجھی نہیں میں کہ ٹوٹی تو بہت بکھری نہیں میں رکھی ہے گفتگو اس سے ہر اک پل سخن جس سے کبھی رکھتی نہیں میں یہ چوٹ اپنے ہی ہاتھوں سے لگی ہے کسی کے وار سے زخمی نہیں میں کروں کیوں یاد تیرے خال و خد اب شکستہ آئنے چنتی نہیں میں عجب تھی رہ گزر بھی ہمرہی کی قدم رکھ کر کبھی ...

مزید پڑھیے

چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے

چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے ہوا میں نے بھی گھر دیکھا نہیں ہے وہ بادل ہے مگر اس دشت جاں پر ابھی دل کھول کر برسا نہیں ہے محبت اک حصار بے نشاں ہے لہو میں دائرہ بنتا نہیں ہے بکھرتی جا رہی ہوں اور خوش ہوں سمٹنے میں کوئی سچا نہیں ہے خوشا اے روئے شاخ سبز تجھ پر سراب آئینہ کھلتا نہیں ...

مزید پڑھیے

بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی

بات کوئی ایک پل اس کے دھیان کے آنے کی تھی پھر یہ میٹھی نیند اس کے زہر بن جانے کی تھی آنکھ ہو اوجھل تو پھر کہسار بھی اوجھل ہیں سب اک یہی صورت ترے دکھ درد بہلانے کی تھی دور تک پھیلے ہوئے پانی پہ ناؤ تھی کہاں یہ کہانی آئنوں پر عکس لہرانے کی تھی ڈھونڈھتی تھیں شام کا پہلا ستارہ ...

مزید پڑھیے

علامت

سفر زندگی کی علامت ہے لیکن سبھی راستے کھوٹے سکوں کی طرح مری جیب میں جانے کب سے پڑے ہیں ہواؤں میں پیلا دھواں بھر گیا ہے کئی سال پہلے میں ان سے ملا تھا وہ جن کی راہوں میں تھی روشنی انہوں نے کہا تھا سفر زندگی کی علامت ہے چلتے رہو مگر آج میں اس جگہ آ گیا ہوں جہاں کچھ نہیں ہے ہواؤں میں ...

مزید پڑھیے

نام

ہزاروں برس پہلے کی بات ہے کہ جب میں کسی چیز کو کسی نام سے بھی نہیں جانتا تھا تو پھر میں ہر اک چیز کو نام دینے لگا مگر آج جب میں نے خود کو پکارا تو حیران ہوں کہ میں اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں مرا نام کیا ہے میں کون ہوں

مزید پڑھیے

یہ وقت ہے زوال کا

بستیاں اجڑ گئیں خاک و خوں سے بھر گئیں مکین کیا مکان کیا زمین و آسمان کیا سورجوں کی آگ میں صدائیں سب جھلس گئیں روشنی کے شہر میں تیرگی اتر گئی زندگی بکھر گئی یہ وقت ہے زوال کا یہ وقت ہے زوال کا

مزید پڑھیے

وقت

وقت اپنے ساتھ سب خواہشیں سمیٹ کر چلا گیا جنگلوں کی دھوپ میں راستے بکھر گئے تم کدھر چلے گئے میں کہاں پہ آ گیا ہر طرف تھی روشنی پر دکھائی کیا دیا وقت اپنے ساتھ سب خواہشیں سمیٹ کر چلا گیا

مزید پڑھیے

احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے

احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے چھوکر جو ہوا گزر رہی ہے جس نے مجھے شاخ پر نہ چاہا خوشبو مری اس کے گھر رہی ہے بے سمتیٔ اشک کی ندامت اس بار بھی ہم سفر رہی ہے ٹھہرا ہے وہ جب سے رہ گزر میں مٹی مری رقص کر رہی ہے چپکے سے گھڑی گھڑی مسافرت کی دہلیز پہ پاؤں دھر رہی ہے تارے بھی نظر نہ آئیں گھر ...

مزید پڑھیے

جب گھر ہی جدا جدا رہے گا

جب گھر ہی جدا جدا رہے گا پھر ہاتھ میں ہاتھ کیا رہے گا وہ میرے خیال کا شجر ہے آنکھوں میں ہرا بھرا رہے گا مہمان وہ خال و خد رہیں گے جب تک مرا شب کدہ رہے گا رشتہ مرے ساحل نفس سے اس موج سراب کا رہے گا وہ حرف جو اس نے لکھ دیا ہے تا عمر یوں ہی لکھا رہے گا اے معجزۂ ہوا سنا دے وہ مجھ میں ...

مزید پڑھیے

کنج دل میں ہے جو ملال اچھال

کنج دل میں ہے جو ملال اچھال روشنی کے کنول اچھال اچھال ڈھال تو اپنے مہر و ماہ و نجوم دن اچھال اپنے ماہ و سال اچھال بے سپر ہے یہ میری تنہائی اے مری جان اپنی ڈھال اچھال اپنی آسودگیٔ جاں کے لئے میرے حصے میں کچھ وبال اچھال ہو کوئی شعر شعر شور انگیز فکر کوئی کوئی خیال اچھال جو تجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 950 سے 6203