سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال
سوچ رہا ہے اتنا کیوں اے دست بے تاخیر نکال تو نے اپنے ترکش میں جو رکھا ہے وہ تیر نکال جس کا کچھ انجام نہیں وہ جنگ ہے دو نقادوں کی لفظوں کی سفاک سنانیں لہجوں کی شمشیر نکال آشوب تخریب سا کچھ اس اندام تخلیق میں ہے توڑ مرے دیوار و در کو ایک نئی تعمیر نکال چاند ستاروں کی کھیتی کر رات ...