گل نہیں خار سمجھتے ہیں مجھے
گل نہیں خار سمجھتے ہیں مجھے سب گراں بار سمجھتے ہیں مجھے ہیں اندھیرے بھی گریزاں مجھ سے چشم بیدار سمجھتے ہیں مجھے میری پیشانی پہ محراب نہیں وہ گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے دولت درد میرا سرمایہ کیوں وہ نادار سمجھتے ہیں مجھے دور بیٹھے ہیں مری محفل سے وجہ آزار سمجھتے ہیں مجھے چارہ ...