قومی زبان

جو اپنی چشم تر سے دل کا پارہ چھوڑ جاتا ہے

جو اپنی چشم تر سے دل کا پارہ چھوڑ جاتا ہے وہی محفل میں غم کا استعارہ چھوڑ جاتا ہے میاں غربت میں ہر اک بے سہارا چھوڑ جاتا ہے اندھیرا ہو تو سایہ بھی ہمارا چھوڑ جاتا ہے جدھر جلوے بکھرتے ہیں ادھر کرتا نہیں نظریں شکست خواب کے ڈر سے نظارہ چھوڑ جاتا ہے مجھے سیراب کرتا جا اگر تو اک ...

مزید پڑھیے

ہمارے سر ہر اک الزام دھر بھی سکتا ہے

ہمارے سر ہر اک الزام دھر بھی سکتا ہے وہ مہرباں ہے یہ احسان کر بھی سکتا ہے چمن تو اپنی بہاروں پہ اتنا ناز نہ کر شجر سے حسن کا زیور اتر بھی سکتا ہے وہ جس نے زیست گزاری ہے قید ظلمت میں وہ اک کرن سے اجالے کی ڈر بھی سکتا ہے کہاں تک آپ لگائیں گے اس پہ ضبط کے باندھ کبھی یہ آنکھوں کا دریا ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں پر وہ نیندوں کی ردا اوڑھے ہوئے

اپنی آنکھوں پر وہ نیندوں کی ردا اوڑھے ہوئے سو رہا ہے خواب کا اک سلسلہ اوڑھے ہوئے سردیوں کی رات میں وہ بے مکاں مفلس بشر کس طرح رہتا ہے اکلوتی ردا اوڑھے ہوئے اک عجب انداز سے آئی لحد پر اک دلہن چوڑیاں توڑے ہوئے دست حنا اوڑھے ہوئے خیر مقدم کے لئے بڑھنے لگیں میری طرف منزلیں اپنے ...

مزید پڑھیے

سکون قلب میسر کسے جہان میں ہے

سکون قلب میسر کسے جہان میں ہے تری زمیں میں کہاں وہ جو آسمان میں ہے مزا حیات کا اس شخص سے کبھی پوچھو جو تیز دھوپ کی چادر کے سائبان میں ہے پلک سے ٹوٹ کے جب اشک خاک میں مل جائے سمجھ لو تب یہ غریب الوطن امان میں ہے مجھے بھی گونگا بنائیں گے ایک دن یہ لوگ محل کا عیب جو پوشیدہ اس زبان ...

مزید پڑھیے

ظلم کرتے ہوئے وہ شخص لرزتا ہی نہیں

ظلم کرتے ہوئے وہ شخص لرزتا ہی نہیں جیسے قہار کے معنی وہ سمجھتا ہی نہیں جتنا بھی بانٹ سکو بانٹ دو اس دولت کو علم اک ایسا خزانہ ہے جو گھٹتا ہی نہیں ہندو ملتا ہے مسلمان بھی عیسائی بھی لیکن اس دور میں انسان تو ملتا ہی نہیں میرا بچہ بھی الگ فکر کا مالک نکلا جو کبھی نقش قدم دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

جو تیری یادوں سے اس دل کا آفتاب ملے

جو تیری یادوں سے اس دل کا آفتاب ملے تو میری آنکھوں کو دریاؤں کا خطاب ملے مرے مکان تمنا کی سیڑھیوں پہ کبھی ترا شباب مجھے صورت گلاب ملے کرن کی نوکیں چبھیں تن میں تب ہوا احساس کہ خنجروں کی طرح مجھ سے آفتاب ملے تمہاری آنکھوں کے ان نیم وا دریچوں میں عذاب دید کی صورت شکستہ خواب ...

مزید پڑھیے

گر در حرف صداقت یہ نہیں تھا پھر کیوں

گر در حرف صداقت یہ نہیں تھا پھر کیوں تم نے تالا مرے ہونٹوں پہ لگایا پھر کیوں لب پہ لفظوں کے کنول تم نے سجائے تھے اگر تو تکلم کے جزیروں سے کنارہ پھر کیوں مانا قیدی سے حکومت نہ ڈرے گی لیکن شاہ راہوں پہ سلاسل کا تماشہ پھر کیوں چیخ اٹھو گے جو دیکھیں مری بنجر آنکھیں شوق اتنا تھا تو ...

مزید پڑھیے

کاٹ کر جو راہ کا بوڑھا شجر لے جائے گا

کاٹ کر جو راہ کا بوڑھا شجر لے جائے گا ساتھ اپنے دھوپ کا لمبا سفر لے جائے گا ایک صحرا بے یقینی کا ہے تا حد نظر قافلہ سالار دیکھیں اب کدھر لے جائے گا اپنے اپنے ہی گھروں کی فکر گر کرتے رہے دیکھنا طوفان یہ سارا نگر لے جائے گا بے گھروں کی فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ایک دن کوئی فرشتہ ان ...

مزید پڑھیے

زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں

زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں چلے ہیں تو کہاں تک آ گئے ہیں مسافر ان جھمیلوں میں پڑیں کیوں کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں نظر کے سامنے وہ آستاں ہے یقیں والے کہاں تک آ گئے ہیں ہوئے ہیں بات کرنے پر وہ راضی زہے قسمت یہاں تک آ گئے ہیں خرد کی آخری منزل وہی ہے جنوں والے جہاں تک آ گئے ...

مزید پڑھیے

آج آئینہ جو دیکھا کتنی حیرانی ہوئی

آج آئینہ جو دیکھا کتنی حیرانی ہوئی اجنبی آئی نظر اک شکل پہچانی ہوئی جب یہ جانا وقت مشکل کوئی بھی ساتھی نہیں دل کو راحت سی ملی محسوس آسانی ہوئی ہم سمجھتے تھے کہ بے گھر بے سہارا ہیں مگر آسماں نے ایک چادر ہم پہ تھی تانی ہوئی آنسوؤں پہ ہنسنے والو کیا تمہیں معلوم ہے آگ جو دل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 826 سے 6203