جو اپنی چشم تر سے دل کا پارہ چھوڑ جاتا ہے
جو اپنی چشم تر سے دل کا پارہ چھوڑ جاتا ہے وہی محفل میں غم کا استعارہ چھوڑ جاتا ہے میاں غربت میں ہر اک بے سہارا چھوڑ جاتا ہے اندھیرا ہو تو سایہ بھی ہمارا چھوڑ جاتا ہے جدھر جلوے بکھرتے ہیں ادھر کرتا نہیں نظریں شکست خواب کے ڈر سے نظارہ چھوڑ جاتا ہے مجھے سیراب کرتا جا اگر تو اک ...