قومی زبان

کورا کاغذ اداس ہے شاید

کورا کاغذ اداس ہے شاید اس کو لفظوں کی آس ہے شاید آج دریا کی ہے طلب مجھ کو ایک مدت کی پیاس ہے شاید جان اس نے خوشی سے دے ڈالی اس کا قاتل بھی خاص ہے شاید زہر پیتے ہیں ہاتھ سے اس کے اس کے لب پر مٹھاس ہے شاید جان ہتھیلی پہ تھی مری کل تک جان اب تیرے پاس ہے شاید شعر شمشیرؔ ایسے کہتا ...

مزید پڑھیے

تاج مانگوں نہ خزانہ چاہیے

تاج مانگوں نہ خزانہ چاہیے سو سکوں جس پر بچھونا چاہیے شعر کہنے میں برائی کچھ نہیں بس نیا انداز ہونا چاہیے بات ایسی ہو کہ دل کو چیر دے سن کے ظالم کو بھی رونا چاہیے گھر کے باہر کھیلتے تھے سب کبھی اب تو گھر میں ایک کونا چاہیے کس طرح شمشیرؔ سب سے یہ کہے رزق جتنا دل بھی اتنا چاہیے

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے بکواس نہیں ہے

یہ سچ ہے بکواس نہیں ہے وہ اب دل کے پاس نہیں ہے وہ بھوکے ہیں نام کے خاطر کام کی ان کو پیاس نہیں ہے غالب ہے اب دور جہالت بچوں سے کچھ آس نہیں ہے بھوک چھپی ہے پیٹ کے بھیتر چہرے پر افلاس نہیں ہے وہ کہتے ہیں خوب ہے دنیا ہم کہتے ہیں خاص نہیں ہے

مزید پڑھیے

کچھ ووٹ کمانے کی خاطر کیا خون بہانہ لازم ہے

کچھ ووٹ کمانے کی خاطر کیا خون بہانہ لازم ہے جب بات امن کی ہو ہر سو کیا بات بڑھانا لازم ہے تم اہل سیاست کیا جانو ہم اہل قلم کے جذبوں کو جو خون جگر سے لکھ دیں تو سب کا گھبرانا لازم ہے اخبار تو جھوٹے ہیں اکثر یہ ہم کو کیا سمجھائیں گے کب کس کو اٹھانا بہتر ہے کب کس کو گرانا لازم ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہے

کیا بتائیں تمہیں کہاں دل ہے رونگٹا رونگٹا یہاں دل ہے لے چکے دل تو ہنس کے فرمایا کہئے اب آج کل کہاں دل ہے ایک غنچہ ہے دیکھنے میں مگر غور کیجئے تو گلستاں دل ہے ہے وہ ناوک فگن شرف جس کے ناوک آہ کی کماں دل ہے

مزید پڑھیے

تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کو

تم نے پوچھا نہیں کبھی ہم کو تم سے امید یہ نہ تھی ہم کو روتے دیکھا مجھے تو فرمایا آ نہ جائے کہیں ہنسی ہم کو جس نظر سے کہ چاہتے تھے ہم تم نے دیکھا نہیں کبھی ہم کو ہائے کہنا کسی کا جاتے ہوئے کیجئے رخصت ہنسی خوشی ہم کو او جوانوں کی جان ہم سے حجاب یاد ہے تیری کم سنی ہم کو ہائے کیا ...

مزید پڑھیے

روک دے موت کو بھی آنے سے

روک دے موت کو بھی آنے سے کون اٹھے تیرے آستانے سے بجلیاں گرتی ہیں گریں ہم پر ان کو مطلب ہے مسکرانے سے ہو مبارک شباب کی دولت کچھ تو دلوا لئے خزانے سے دخت رز اور تو کہاں ملتی کھینچ لائے شراب خانے سے جان پر بن گئی شرفؔ آخر کیا ملا ہائے دل لگانے سے

مزید پڑھیے

کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے

کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئے تم آئنے میں کس کے خریدار بن گئے بجلی چھلاوا فتنہ قیامت غضب بلا میں کیا کہوں وہ کیا دم رفتار بن گئے بازار دہر کا تو یہی کاروبار ہے دو چار اگر بگڑ گئے دو چار بن گئے اک سیر تھی مزے کی یہ آرائشوں کے وقت سو بار وہ بگڑ گئے سو بار بن گئے ہاں ہاں انہیں ...

مزید پڑھیے

اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر

اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پر آیا نظر انداز خدائی ترے در پر تھی جس کی تمنا دل مشتاق کو ہر دم وہ چیز اگر پائی تو پائی ترے در پر عشاق کے آگے نہ لڑا غیروں سے آنکھیں ڈر ہے کہ نہ ہو جائے لڑائی ترے در پر دیکھی جو یہاں آ کے جھڑی ابر کرم کی سب دل کی لگی ہم نے بجھائی ترے در پر اس نفس ہی ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں

دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیں سچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیں شیخ کچھ اپنے آپ کو سمجھیں میکشوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں کچھ نہ ہونے پہ ہو تمہیں سب کچھ تم نہیں ہو تو گھر میں کچھ بھی نہیں کیا سمجھتا ہے آپ کو اے دل تو کسی کی نظر میں کچھ بھی نہیں اے شرفؔ سچ ہے مصرعۂ مصباحؔ ہم تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 803 سے 6203