سنا شعر میرا تو جانا ہے اس نے
سنا شعر میرا تو جانا ہے اس نے دلوں میں سبھی کیوں بساتے ہیں اردو زباں یہ مری ہے زبان محبت چلو آج تم کو سکھاتے ہیں اردو
سنا شعر میرا تو جانا ہے اس نے دلوں میں سبھی کیوں بساتے ہیں اردو زباں یہ مری ہے زبان محبت چلو آج تم کو سکھاتے ہیں اردو
اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف اپنا زنداں ہوں تو ...
شکستہ پا ہیں کوئی آسرا بناتے ہیں مٹا کے خود کو جو ہم اک خدا بناتے ہیں ہمیں شعور حقیقت نہیں سو ہم اکثر فریب جنبش بال ہما بناتے ہیں وہ اپنے حسن کا ہر راز کھولنے کے لیے قبا بناتے ہیں بند قبا بناتے ہیں ابد کے دوش پہ سوئے ازل چلے ہیں کہ ہم نیا ہی نقش کوئی دہر کا بناتے ہیں خدائے موسم ...
ہے مکیں کوئی دوسرا مجھ میں مجھ سے بھی کچھ ہے ماورا مجھ میں شعلۂ طور جل بجھا مجھ میں کاش مل جائے اب خدا مجھ میں مجھ کو مجھ سے جدا کیا یعنی اس نے خود کو ملا دیا مجھ میں ذہن و دل کی حدوں سے دور کہیں باب امکاں کوئی کھلا مجھ میں شب کو وہ خود سپردگی اس کی جیسے اک راز کھل گیا مجھ ...
زمانے بھر کی کتابوں میں قید رہتا ہوں خرد کے کہنہ نصابوں میں قید رہتا ہوں ترے جمال کے سب بھید جان کر بھی میں نہ جانے کیوں ترے خوابوں میں قید رہتا ہوں ترے بدن میں ہیں کتنی قیامتیں پنہاں بڑے شدید عذابوں میں قید رہتا ہوں کروں بھی کیسے بھلا دشت آگہی کا سفر کہ میں یقیں کے سرابوں میں ...
تیرے حسن و جمال تک پہنچا میں بھی کتنے کمال تک پہنچا بعد مدت کے ذہن آشفتہ ایک نازک خیال تک پہنچا اے مرے شوق بے مثال مجھے آج اس بے مثال تک پہنچا اک زوال عروج سے ہو کر میں عروج زوال تک پہنچا ذہن آزاد ہو گیا میرا جب یقیں احتمال تک پہنچا تذکرہ حسن کے تناسب کا پھر ترے خد و خال تک ...
خود پہ الزام دھر گیا ہوں میں کام مشکل تھا کر گیا ہوں میں کیسی دہشت سے بھر گیا ہوں میں خواب میں جیسے ڈر گیا ہوں میں جانے کس شے کی ہے تلاش مجھے کو بہ کو در بدر گیا ہوں میں مجھ کو اب کیسے پا سکے گا کوئی وقت تھا اور گزر گیا ہوں میں میرے چاروں طرف اندھیرا ہے کیا بتاؤں کدھر گیا ہوں ...
رفیقوں کو مدد کرنے پکارا ہم نہیں کرتے خدا کافی ہے بندوں کا سہارا ہم نہیں کرتے زباں یہ حق کی عادی ہے کسی سے ڈر نہیں سکتی سبھی کچھ کھل کے کہتے ہیں اشارہ ہم نہیں کرتے سمندر میں اتر کے رخ ہوا کا موڑ دیتے ہیں کبھی ساحل سے طوفاں کا نظارہ ہم نہیں کرتے یہ خودداری ہماری ہم کو اپنی جاں سے ...
سوئی حسرت جگا گیا کوئی خواب مجھ کو دکھا گیا کوئی چاند بھی اب نہیں رہا دل کش کس قدر دل لبھا گیا کوئی بعد مدت کے آنکھ یوں روئی مجھ کو دریا بنا گیا کوئی آج سیکھی ہے دوستی میں نے جان مجھ پر لٹا گیا کوئی وہ سمجھتے تھے مجھ کو لا ثانی آئنہ پھر دکھا گیا کوئی اس نے پوچھا تھا میری قیمت ...
اندھیروں سے تم کیوں ضیا مانگتے ہو حکومت سے عہد وفا مانگتے ہو دعاؤں کہ تم کو ضرورت ہے یارو دواؤں سے تم کیوں شفا مانگتے ہو جو مانگی دلیلیں تو عالم یہ بولے بڑے بے ادب ہو یہ کیا مانگتے ہو یہ دولت یہ شہرت یہ سب عارضی ہے مبارک ہو رب کی رضا مانگتے ہو بڑی دیر کر دی نصیحت کو تم نے نئی ...