جسم کا ادھوراپن
چاندنی کے موسم میں زندگی کے رستے میں پیار کے درختوں کے دل فریب سے سائے رینگتے نظر آئے کشمکش کے عالم میں خود بخود جھکیں پلکیں سائے بن گئے زنجیر دھڑکنیں پکار اٹھیں جسم کا ادھوراپن موت کی علامت ہے
چاندنی کے موسم میں زندگی کے رستے میں پیار کے درختوں کے دل فریب سے سائے رینگتے نظر آئے کشمکش کے عالم میں خود بخود جھکیں پلکیں سائے بن گئے زنجیر دھڑکنیں پکار اٹھیں جسم کا ادھوراپن موت کی علامت ہے
یہ کیسی جنگ ہے جو اپنی منفعت کے لئے غریب ملکوں کی آزادیوں کو چھینتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں مقابلے کے بغیر نشانہ سادھ کے گولی چلائی جاتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں اسیر لوگوں پر اذیتوں کے لئے کتے چھوڑے جاتے ہیں یہ کیسی جنگ ہے جس میں بموں کی یورش سے سماعتیں بھی خدا کی پناہ چاہتی ...
میں اپنی عمر کے سب آخری لمحے حصار فکر سے باہر نکل کر جینا چاہوں تو مرے خالق مرے احساس پر بجلی گرا دینا مجھے پاگل بنا دینا
ابھی میں برف سے لپٹے ہوئے جزیرے پر خود اپنے آپ سے ملنے کی آرزو لے کر لگا ہوا ہوں سویرے کو شام کرنے میں سمندروں میں ابھرتے بھنور بلاتے ہیں افق سے آتی صدائیں بھی کھینچتی ہیں مگر میں اپنی سوچ سے باہر نکل نہیں سکتا عجیب خوابوں کا بے نام سلسلہ ہے یہ کہ زندگی سے کوئی رابطہ نہیں ...
دست جنوں جو بند قبا تک پہنچ گیا جوش بہار حسن صبا تک پہنچ گیا مجھ پر کھلا جو باب رموز خود آگہی میں خود سے ہو کے ذہن خدا تک پہنچ گیا آیا نہ زندگی کی حقیقت کا سنگ میل میں سرحد دیار فنا تک پہنچ گیا اس بت کی ہے عطا کہ مرا طمطراق حرف معراج حمد و مدح و ثنا تک پہنچ گیا عہد بہار میں اثر ...
حسن تیرا جو کبھی وجد میں لاتا ہے مجھے یہ جہاں آئنہ خانہ نظر آتا ہے مجھے دشت پر خار میں کھینچے لیے جاتا ہے مجھے ہر نیا عشق ترے ہجر میں پاتا ہے مجھے میں نہیں مسلک ارباب وفا سے واقف حسن کیوں راز کی ہر بات بتاتا ہے مجھے جانے یہ تو ہے ترا غم ہے کہ دل کی وحشت جانب کوہ ندا کوئی بلاتا ہے ...
شہر میں اک قتل کی افواہ روشن کیا ہوئی اک طرف تکبیر تھی اور اک طرف جے کی پکار خوف و دہشت کے اثر سے چند بپھرے نوجواں زندگی کو کر رہے تھے ہر طرف کھل کر شکار خون سے لتھڑی ہوئی لاشیں اٹھائے گود میں آسماں کی سمت مائیں دیکھتی تھیں بار بار جبر و استحصال کے اس آتشیں سیلاب میں بہہ گئے ...
ہوا کی راہ نمائی پہ شک نہیں رکھتے ہم اپنے پاؤں کے نیچے سڑک نہیں رکھتے ہماری آنکھوں میں اک ایسا خواب سمٹا ہے پئے سرور پلک پر پلک نہیں رکھتے ہوا دہاڑ کے ٹکرائے بھی تو کیا حاصل پہاڑ اپنے بدن میں لچک نہیں رکھتے تم اس کو کند سمجھ کر نہ دھوکا کھا جانا ہم اپنی تیغ انا پر چمک نہیں ...
اتر رہا تھا سمندر سراب کے اندر بچھڑ کے خود سے ملا جب میں خواب کے اندر رگیں کھنچیں تو بدن خواب کی طرح ٹوٹا خلا کا زعم بھرا تھا حباب کے اندر میں ماہ و سال کا کب تک حساب لکھتا رہوں اسیر پوری صدی ہے عذاب کے اندر نظر کو فیض ملا تو لبوں پہ مہر لگی فرات یوں بھی ملی ہے سراب کے اندر عجب ...
میزوں پہ سجا کے ایاغ دھرو اب دامن دامن داغ دھرو ہم سایوں کے گھر ہیں چھپر کے لا کر نہ ہوا میں چراغ دھرو آکاش کو اک دن چھو لے گا اس سر میں میرا دماغ دھرو بیگانوں کی ہے یہ بستی منزل کے یہاں نہ سراغ دھرو اچھا نہیں دل کا کورا پن اس بنجر میں ایک باغ دھرو