آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی
آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی شاعری ان کے خد و خال بنانے سے رہی یہ سبھی دشت مرا جوش جنوں جانتے ہیں یہ ہوا میری طرح خاک اڑانے سے رہی تیری بانہیں نہ سہی وسعت صحرا ہی سہی میری مٹی تو کسی طور ٹھکانے سے رہی ہم نے بھی چہرہ بدلنے کا ہنر سیکھ لیا دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے ...