کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے
کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے اب ...