قومی زبان

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے

کون آ گیا یہ حشر کا ساماں لئے ہوئے دامن میں اپنے میرا گریباں لئے ہوئے ہر ایک غم ہے عیش کا عنواں لئے ہوئے شام خزاں ہے صبح بہاراں لئے ہوئے سجدہ ہے میرا ذوق فراواں لئے ہوئے اٹھے گا اب تو سر در جاناں لئے ہوئے بعد رہائی بھی نہ میں زنداں سے جاؤں گا بیٹھا رہوں گا عزت زنداں لئے ہوئے اب ...

مزید پڑھیے

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا

غم کی جو لذتیں ہیں انہیں جاوداں بنا درد نہاں کو چارۂ درد نہاں بنا امید و یاس جس میں نہ ہوں وہ جہاں بنا یعنی نئی زمیں نیا آسماں بنا اور آرزوئے سیر چمن کو بہار میں اور اے اسیر کنج قفس آشیاں بنا مشق وفا میں کیا کہوں یہ غم نصیب دل کن مشکلوں سے خوگر ضبط فغاں بنا وہم و خیال پر بھی ...

مزید پڑھیے

ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے

ہم جنوں کو زندگی کا مستقر سمجھا کئے اے شفاؔ منزل کدھر تھی اور کدھر سمجھا کئے وائے یہ کوتاہیٔ احساس و تنگیٔ نظر زندگی کو زندگی بھر مختصر سمجھا کئے کارواں پہنچے قریب سعیٔ انجام سفر اور ہم مفہوم آغاز سفر سمجھا کئے بے خودی نے کس قدر گمراہ رکھا عشق کو ہم تصور ہی کو حسن معتبر سمجھا ...

مزید پڑھیے

گلشن بہ دوش نظریں لب پر حسیں ترانہ

گلشن بہ دوش نظریں لب پر حسیں ترانہ ہر اک ادا ہے ان کی الفت کا اک فسانہ دیوانہ ساز گیسو انداز والہانہ ایمان لوٹتا ہے یہ رنگ کافرانہ مہکے ہوئے لبوں پر بہکا سا یہ تبسم پھولوں سے ڈھل رہا ہو جیسے شراب خانہ اب تک نگاہ میں ہے پہلی نگاہ ان کی ہنستی رہی محبت لٹتا رہا زمانہ تاروں کی بزم ...

مزید پڑھیے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے

دیکھ جذبات نظر سب رائیگاں ہو جائیں گے وہ نہاں ہی کب ہیں ناداں جو عیاں ہو جائیں گے کیا خبر تھی راز ہائے دل زباں ہو جائیں گے میرے دو آنسو بھی میری داستاں ہو جائیں گے جان کھو کر غم میں جان داستاں ہو جائیں گے یہ نشانی چھوڑ کر ہم بے نشاں ہو جائیں گے آسمان حشر حشر آسماں ہو جائیں گے جب ...

مزید پڑھیے

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار کیا مہ و خورشید گرد آدمی ...

مزید پڑھیے

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو اپنے ہاتھوں سے مرا چاک گریباں کر دو بات تو جب ہے کہ بیگانۂ درماں کر دو اب پریشاں ہی کیا ہے تو پریشاں کر دو نشتر نیم نگاہی کی قسم ہے تم کو دل کے ہر زخم کو تصویر گلستاں کر دو تم سما جاؤ مری روح میں نغمہ بن کر آؤ ساز دل غمگیں کو غزل خواں کر دو یا ...

مزید پڑھیے

وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے

وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے جو سوچتے ہیں کہ ترکیب زندگی کیا ہے کدھر ہے غیرت غم کچھ مجھے سہارا دے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تری خوشی کیا ہے وفا کا راز نہ سمجھا سکا کوئی اب تک کہ اس کی کیا ہے حقیقت یہ واقعی کیا ہے یہی تو ہوتی ہے سارے رخوں کا آئینہ کوئی سمجھ کے تو دیکھے کہ بے ...

مزید پڑھیے

لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی

لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی گلوں میں روح ستاروں میں روشنی نہ رہی خدا شناسوں کی پہچان ہی کوئی نہ رہی کہ سرکشی بھی بہ انداز سرکشی نہ رہی فسانہ گردش دوراں کا نظم کر لیتے مگر نگاہ میں ان کی وہ برہمی نہ رہی وقار ذوق تجسس پہ حرف آئے گا اگر شریک سفر اپنے گمرہی نہ رہی ہے اپنا ...

مزید پڑھیے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے ہو کر بھی کچھ نہیں ہوں اگر ہوں تو اے خدا مجھ کو مرے وجود کا ہونا دکھائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 776 سے 6203