قومی زبان

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا

آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو ...

مزید پڑھیے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے کیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے دختر رز نکل کے مینا سے کرتی کیا کیا زباں درازی ہے خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں حسن کی یہ ادا طرازی ہے ہندوئے چشم طاق ابرو میں کیا بنا آن کر نمازی ہے نذر دیں نفس کش کو دنیا دار واہ کیا تیری بے نیازی ہے بت طناز ہم سے ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم پہلے جب تک نہ دو ...

مزید پڑھیے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں صف عشاق ہے برہم ابھی سے اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے نہیں پر اپنے دم میں ...

مزید پڑھیے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے

اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے وہ اپنی جانماز ہے اور یہ نماز ہے ناساز ہے جو ہم سے اسی سے یہ ساز ہے کیا خوب دل ہے واہ ہمیں جس پہ ناز ہے پہنچا ہے شب کمند لگا کر وہاں رقیب سچ ہے حرام زادے کی رسی دراز ہے اس بت پہ گر خدا بھی ہو عاشق تو آئے رشک ہرچند جانتا ہوں کہ وہ پاکباز ہے مداح خال ...

مزید پڑھیے

کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد

کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد سینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد to what avail is if you come after such a wait my breath belabours in my breast, it may be too late کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئی پھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد how the river of my tears I managed to restrain the cataract, soon afterwards, was flowing again کوئی گھڑی اگر وہ ...

مزید پڑھیے

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں بشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں یہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں محبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیں ہم ان کو دیکھتے ہیں ...

مزید پڑھیے

خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے

خرد کی راہ سے دیوانگی تک بات کیوں پہنچے شعور غم کی آشفتہ سری تک بات کیوں پہنچے وقار عشق کی غم یا خوشی تک بات کیوں پہنچے ہزاروں اور بھی دل ہیں اسی تک بات کیوں پہنچے اگر دامن بچے رہبر کی الجھن سے تو اچھا ہے خراب جستجو کی گمرہی تک بات کیوں پہنچے نگاہ دل کے پرتو سے کریں شام و سحر ...

مزید پڑھیے

حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے

حد عنواں سے آگے آخر افسانے کہاں جاتے تری محفل سے بڑھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے حقیقت سے گزر کر آئنہ خانے کہاں جاتے اگر ہم تک نہیں آتے تو پیمانے کہاں جاتے غم دوراں نے بڑھ کر لو بڑھا دی شمع ہستی کی غم جاناں کے یہ بھٹکے ہوئے جانے کہاں جاتے نگاہیں تھیں ہماری فرق خاص و عام سے آگے اگر ...

مزید پڑھیے

ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا

ذوق سجدہ ایک نقش کامراں بنتا گیا آستاں پر ان کے میرا آستاں بنتا گیا بے نشانی کے سہارے پر نشاں بنتا گیا ضامن منزل غبار کارواں بنتا گیا قدرتاً بربادیوں کی داستاں بنتا گیا خود بخود بجلی کی زد میں آشیاں بنتا گیا کیا خطا صیاد کی اور باغباں کا کیا قصور گلستاں میں خود تو ننگ گلستاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 775 سے 6203