قومی زبان

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا ہے اور علم و ...

مزید پڑھیے

وقت پیری شباب کی باتیں

وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں in old age talk of youth now seems to be just like the stuff of dreams پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو دل خانہ خراب کی باتیں Lo! there again it takes me see! my ruined heart's advice to me واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلد کہہ شراب و کباب کی باتیں on heaven's virtues don't opine O preacher talk of food and wine مہ جبیں یاد ہیں ...

مزید پڑھیے

خوب روکا شکایتوں سے مجھے

خوب روکا شکایتوں سے مجھے تو نے مارا عنایتوں سے مجھے واجب القتل اس نے ٹھہرایا آیتوں سے روایتوں سے مجھے کہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیار یار تیری حمایتوں سے مجھے کیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھے دشمنوں کی رعایتوں سے مجھے دم گریہ کمی نہ کر اے چشم شوق کم ہے کفایتوں سے مجھے کمیٔ گریہ نے ...

مزید پڑھیے

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے

مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے would be a joy if you were there face to face with me then flowers would, in springtime, seek you longingly مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے if the joys of death in love, paramours narrate Jesus and Khizr too will for death eagerly wait غرض تھی کیا ترے تیروں کو ...

مزید پڑھیے

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے

جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے آراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کام دل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ور منظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمن ہر نے میں بھری آگ نیستاں ...

مزید پڑھیے

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے لیلیٰ کا ...

مزید پڑھیے

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا پر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کے اور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافر دم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواں جب تک کہ وہ مضموں میں تصرف ...

مزید پڑھیے

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے

آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے جان کشتی قضا سے لڑتی ہے شعلہ بھڑکے نہ کیوں کہ محفل میں شمع تجھ بن ہوا سے لڑتی ہے قسمت اس بت سے جا لڑی اپنی دیکھو احمق خدا سے لڑتی ہے شور قلقل یہ کیوں ہے دختر رز کیا کسی پارسا سے لڑتی ہے نہیں مژگاں کی دو صفیں گویا اک بلا اک بلا سے لڑتی ہے نگۂ ناز اس کی ...

مزید پڑھیے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے

اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے لیکن بلا سے یار کے زانو پہ سر تو ہے آنا ہے ان کا آنا قیامت کا دیکھیے کب آئیں لیکن آنے کی ان کے خبر تو ہے ہے سر شہید عشق کا زیب سنان یار صد شکر بارے نخل وفا بارور تو ہے مانند شمع گریہ ہے کیا شغل طرفہ تر ہو جاتی رات اس میں بلا سے بسر تو ہے ہے درد دل ...

مزید پڑھیے

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی رہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصے جب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے شکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گا دیتا نہیں مجھے تو اے بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 774 سے 6203