جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا ہے اور علم و ...