قومی زبان

نہ بجھنے وا لا سو رج

دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان صاف تھا۔ با رش بند ہو گئی تھی۔ دھوپ مسکرا نے لگی تھی۔ ۔ ہر چیز دھل کر صاف ستھری اور نکھری نکھری ہو گئی تھی۔ بانو بیل، بھینس کو با ہر کھور پر باندھ کر ان کے چارے کا انتظام کرنے لگی۔ اتنے میں با ہر سے آواز آ ئی۔ ’’چٹھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ’’ اری بانو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ...

مزید پڑھیے

دھوپ چھاؤں

وہ اپنا گھر چھوڑ کر اولڈ ایج ہوم میں آ گیا تھا اور اس کے دن آنسوؤں سے بھر گئے تھے۔ پچھلے پچاس برسوں کی زندگی بھولنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ باتیں اس کے دل و دماغ میں سوئیوں کی طرح تیرتی رہتیں اور اس کا پورا وجود چھلنی ہو کر رہ جاتا۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اسے ...

مزید پڑھیے

خلیج

رات خاصی تاریک تھی۔ اس تاریکی کو آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں نے اور بھی گہرا کر دیا تھا۔ ٹرین کی رفتار کافی تیز تھی۔ کھڑکی سے آتی ہوئی ہوا نے اس کے ہوش و حواس بجا کر رکھے تھے ورنہ حبس جان لیوا ثابت ہوتا۔ وہ اس گرمی سے بھاگ کر ہی دارجلنگ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ایسا برسوں سے ہوتا آ رہا ...

مزید پڑھیے

فعل حال مطلق

میں اور غزالی۔۔۔۔ غزالی اور میں۔۔۔۔ ہم دو معلم اور ہم دونوں کے متعلمین! واہ! آہ! جس قدر تفاوت ہم دونوں میں تھا اس سے کہیں زیادہ ہمارے متعلمین میں۔ غزالی کے طالب علم۔۔۔ مطیع، لچیلے، متوافق کہ چاہو تو کوٹ کر ورق بنالو یا تار کھینچ لو۔اور چاہو تو پانی کے چار چھینٹے دو اور ان کی مٹی ...

مزید پڑھیے

ہوٹل سلازار

واشنگٹن سکوائر کے جنوب مشرقی کونے سے جو سڑک پھوٹتی ہے، اس پر چند فرلانگ کے فاصلے پر ہوٹل سلازارواقع ہے۔ یہ اس صدی کے اوائل کے طرز تعمیرکا نمونہ، ایک سادہ، بے رنگ عمارت ہے جس کی دیواریں مسلسل بارشوں سے کائی زدہ ہیں۔ اس کا اوپر والا حصہ کالے سیاہ رنگ کا ہے۔ سنا ہے کہ یہ بیس برس ...

مزید پڑھیے

سحرِ عدم

دھوئیں کا مرغولا اُس کے خیالات کی طرح دھیرے دھیرے فضاء میں گھومتا رہا اور پھر سرعت سے غائب ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شائد غائب ہوگیا کا لفظ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔ نظر وں سے اوجھل ہوگیا مناسب لفظ ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اوجھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے یہ کمرہ اور اس کے باہری طرف جو کھڑکی کھلتی ہے اس سے پرے کہیں ستاروں ...

مزید پڑھیے

منش، دھرم اور یدھ

گوتم بودھ کہتا ہے ’’ میں سچ کو ڈھونڈتا تھا حیران ہوتا تھا، جب متلاشی تھا سچ نہ ملااور جب سچ ملا اور میں نے ادھر اُدھر دیکھا میں نہیں تھا ‘‘۔ گوتم بودھ اور وہ بھی شائد ایک ہی ناوکے سوار تھے، نہ معلوم منزلوں کے مسافر تو وہ بھی نہیں جانتا تھا کہ کون ہے اور کیوں ہے ، اگر وہ آسن جما ...

مزید پڑھیے

سنہرا پرندہ

وہ اگر چاہتا تو بہت آسان موت مر سکتا تھا۔۔۔۔ ہاتھ کی رگ کاٹ کر دھیرے دھیرے موت کو محسوس کرسکتا تھا یا پھر پسٹل کی ایک گولی یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دیتی ۔۔۔لیکن خود کشی کے یہ طریقے اسے بالکل پسند نہیں آئے ، نشہ آور ادویات میں امکانات کم تھے ، عین ممکن تھا کہ جب وہ ...

مزید پڑھیے

محبت کی یادگار

کشوری بڑی ہنس مکھ اور نیک خصلت لڑکی تھی۔ گو وہ یوں بہت مالدا نہ تھی مگر حسن کی دولت سے مالا مال تھی، سب اسے گاؤں کی رانی کہتے تھے۔ اب اس نے بارہویں سال میں قدم رکھا تھا۔ ایک دن صبح کے وقت وہ اپنے گھر کے سامنے نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترہ پر بیٹھی بڑی خوش الحانی سے رامائن پاٹ کر رہی تھی ...

مزید پڑھیے

بھکارن

من ہری کے ماں باپ کا نام کسی کو نہ معلوم تھا۔ جس زمانہ میں وہ پریاگ راج میں آئی اس کی عمر آٹھ سال کی رہی ہوگی۔ بڑی موہنی صورت پائی تھی، ناممکن تھا کہ کوئی اسے دیکھے اور رحم نہ آئے۔ دن بھر تو بھیک مانگتی رہتی اور رات کو کسی دھرم شالہ میں جاکر سو رہتی۔ وہ یتیم تھی۔ ماں باپ کا پیار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6106 سے 6203