قومی زبان

پریم کی چوڑیاں

نور پور گنگا جی کے کنارے الہ آباد کے ضلع میں ایک چھوٹا ساگاؤں ہے۔ پنڈت گردہاری لال اس گاؤں کے زمیندار تھے۔ راماشنگر ان کا اکلوتا لڑکا تھا۔ کھیتی باڑی میں بڑی برکت تھی۔ گھر میں غلہ کاانبار لگا رہتا تھا۔ کسی بات کی کمی نہ تھی۔ پنڈت رام لال کا لڑکا رام جیاون ذات کا برہمن تھا۔ کسی ...

مزید پڑھیے

ہولی

کشن پور ٹھاکروں کی بستی تھی، جس کے زمیندار دلاور سنگھ اور رام سنگھ دونوں چچیرے بھائی تھے۔ پٹی دار ہوتے ہوئے بھی ان میں کوئی نفاق نہ تھا، دونوں امن پسند اور صلح کل واقع ہوئے تھے۔ زمینداری کے جھگڑوں کا فیصلہ آپس ہی میں کرلیتے تھے۔ کبھی کچہری عدالت جانے کی نوبت نہ آتی تھی۔ اسامی ...

مزید پڑھیے

کھویا ہوا پیار

درندر بابو آرام کرسی پر لیٹے ہوئے کوئی اخبار پڑھ رہے تھے۔اسی وقت ایک بوڑھے نوکر نے آکر گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’سرکار!‘‘ ’’کیا ہے؟‘‘ صدر پھاٹک پر ایک بھکاری ۔۔۔ گھبراہٹ کے مارے اس کی آواز رک گئی۔ ’’کیا ہے جی۔ گھبرانے کی کیا بات ہے۔‘‘ ’’بیہوش ہوکر گر پڑا ہے‘‘ نوکر ...

مزید پڑھیے

فٹ پاتھ

شہر میں سڑکوں کی دونوں طرف کی دنیا ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی۔ کہیں بھرے بازار کے درمیان سڑک یوں نرمی سے بل کھاتی ہوئی گذرتی ہے جیسے مشتاقوں کے ہجوم میں حسن سرمحفل۔ آمدورفت کی کثرت سے کھوئے سے کھوئے چھلتے ہیں۔ کہیں شاندار رہائشی محلوں سے اس کا گذر ہوتا ہے۔ دو طرفہ نئی وضع کی ...

مزید پڑھیے

انقلاب

جو کھونے چلم کا دم لگاتے ہوئے مہابیر حلوائی سے کہا ’’اب ہمارے گاؤں میں بھی لچھمی دیوی کی کرپا ہونے والی ہے۔‘‘ مہابیر نے اپنے بوسیدہ خوانچہ پر سے مکھیاں اڑاتے ہوئے پوچھا ’’سو کیسے‘‘ جوکھو ’’ارے کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ ہمارے گاؤں میں ہوائی جہاز کا کارخانہ کھلنے والا ہے۔ اب ...

مزید پڑھیے

کنول

ہم دونوں کے مکان پاس ہی پاس تھے۔ کنول کے پتا تحصیلدار اور میرے ماموں انسپکٹر پولیس تھے۔ کنول مجھ سے چار پانچ سال چھوٹی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے بھولا نہیں کہ بچپن میں صبح کے وقت خاک و ہول میں لت پت ہوکر زمین پر گھروندے بنانا ہمارا دل پسند کھیل تھا۔ کنول جب گڑیا گڈے کا کھیل ...

مزید پڑھیے

محبت کی ٹھوکر

شیاما نے لڑکپن میں کسی کو پیار کیا تھا۔ کسی سے محبت کی تھی لیکن جسے پیار کیا تھا اس کے پیار کا وہ مطلب نہ سمجھتی تھی۔ پیار محبت کامطلب محبت کرنے اور محبت کی ٹھوکر کھانے ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ پھر شیاما جوٹھوکروں کے خیال سے گھبراتی تھی وہ اس پیار کرنے والے کو کیسے سمجھ پاتی جو ...

مزید پڑھیے

پنچایت

مہاراج رام لال مدن پور گاؤں کے پروہت تھے۔ بڑے ہنس مکھ اور ملنسار تھے۔ کسرت کا خاص شوق تھا۔ جوانی میں انہوں نے کئی کشتیاں ماری تھیں۔ دور دور تک ان کی پہلوانی کا شہرہ تھا۔ مگر اب بڈھے ہوچکے تھے۔ اب خود تو کشتی لڑ نہیں سکتے تھے، بلکہ اکھاڑے کے کنارے کھڑے ہوکر اپنے شاگردوں کو داؤ پیچ ...

مزید پڑھیے

واپسی کا سفر

ائیر پورٹ کے لاؤنج میں بنے ہوئے کیفیڑیا کی بڑے بڑے شیشوں والی کھڑکی سے باہر کا منظر ایک تصویر کی طرح نظر آ رہا تھا۔ باہر دو ر تک برف کی چادر پھیلی تھی، بے برگ درختوں کی شاخوں پر کہیں کہیں برف اٹکی ہوئی تھی، دور بہت دور سڑک کے اس پار کسی تنہا مکان کے دروازے پر کر سمس گذرجانے کے ہفتے ...

مزید پڑھیے

اس ملبے میں

گھر پر مستقل ٹی دی دیکھ دیکھ کر دماغ اُڑا جا رہا تھا تو میں گاڑی نکال کر یوں ہی بے مقصد سڑکو ں پر گھومتا رہا۔سہ پہر کا وقت مجھے ہمیشہ اداس کردیتا ہے اور آج تو سار ا شہر ہی سائیں سائیں کرتا ہو ا لگ رہا تھا ۔ سرسبز درختوں سے گھری صاف شفاف سڑکوں پر گھنٹوں گاڑی گھمانے کے بعدنہ جانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6107 سے 6203