قومی زبان

آج کا مرنا

وہ میری آج کی موت تھی۔ اس کو مرے ہوئے نہیں دیکھا میں نے، مرتے ہوئے دیکھا۔ اتنا ہی بتا سکتا ہوں جس قدر میں نے دیکھا ہے۔ جو یوں بھی زیادہ نہیں ہے۔ اوڑھے لپیٹے کوئی لیٹا ہوا ہے۔ شاید وہ سو رہی ہے۔ میری نظر پڑی تو مجھے ایسا لگا۔ ورنہ میں تو دیکھتا بھی نہیں۔ روز اپنے ہی دھیان میں گم ...

مزید پڑھیے

بحیرۂ مردار

ساجدہ کا چہرہ پیلا پڑتا جا رہا تھا۔ اس بار بہت احتیاط کی ضرورت تھی، ڈاکٹر نے کہا تھا۔ اس سے پہلے تین دفعہ ایسا ہو چکا تھا۔ حالاں کہ وہ پہلے دن سے احتیاط کرتی تھی۔ نہ سیڑھیاں چڑھنا، نہ بوجھ اٹھانا، نہ کوئی اور ایسا کام جس سے تھکن ہو۔ پھر بھی کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہو جاتی تھی۔ ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

پرندے کی فریاد

پرندے بالکل ساکت تھے۔ وہ آدمی شیشے پر انگلی سے ٹک ٹک نہ کیے جاتا تو میری نظر ان مٹھی بھر پرندوں پر پڑتی ہی نہیں۔ میں وہاں آتا اور دیکھے بغیر گزر جاتا۔ یا پھر یہ سب دیکھتا اور دیکھے بغیر آگے بڑھ جاتا، کچھ اور دیکھنے کے لیے، کہ چلتی ہوئی گاڑی میں دیکھنے کے لیے ہر لمحے نیا منظر ہے۔ ...

مزید پڑھیے

زمین کی نشانیاں

گھر کے راستے پر جاتے جاتے میں ٹھٹھکا تھا۔ وہ راستہ اتنا مانوس ہو چکا تھا کہ قدم خود بخود اٹھ جاتے تھے۔ لیکن آج کوئی چیز بدلی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ ’’ادھر رکوانا۔‘‘ میں نے ویگن کے کنڈیکٹر سے کہا تھا، اسی طرح جیسے پچھلے کئی سال سے کہتا چلا آیا تھا۔ ایک خاص نشانی کے بعد اپنی سیٹ ...

مزید پڑھیے

گائے کھائے گڑ

اس کی ایک ایک انگلی پر دعویٰ تھا۔ ایک نہ ایک نام کی پکڑ تھی۔ یہ اماں کی۔ یہ ببا کی۔ یہ بجیا کی۔ یہ بھیو کی۔ اور باقی بچا انگوٹھا، جو لچک لچک سب کے ساتھ سب سے الگ تھرک تھرک ناچتا تھا، جس کی پور پر سیاہی کی بند کی سے آنکھیں، ناک، منہ بناتے تھے۔ بہلانے کے لیے، ابھی سے اسے بہلانے کے ...

مزید پڑھیے

سمندر

یہ افزائش کا زمانہ تھا۔ کئی دن سے مجھے محسوس ہو رہا تھا کوئی چیز اندر سے بتا رہی ہے کہ ان کا وقت قریب آ گیا ہے، ان کے آنے کا وقت، وہ آ رہے ہیں، پانی پر چلتے ہوئے، ہزاروں آبی میل کا سفر طے کرتے ہوئے میرے ساحلوں پر لوٹ کر آ رہے ہیں، بھاری بھرکم، گابھن، چپ چاپ، ادھر کا رخ کیے ہوئے، ...

مزید پڑھیے

بدلتا ہے رنگ

بہت تیز آواز کے ساتھ ایک گو لا آسمان کی بلندیوں میں جا کر پھٹا۔ آسمان پر رنگ برنگے ستارے دائرے میں پھیل گئے گو یا ستاروں سے سجی ایک بہت بڑی گیند آسمان پر لمحہ بھر کو ٹھہر گئی ہو۔ ’’ارے شر پھو! او شر پھو، دیکھ بارات آ گئی ہے۔ ‘‘ ’’ہاں سامو! گولے تو بڑے جاندار لگیے ہیں۔ کتنی جبر ...

مزید پڑھیے

ایک ادھوری کہانی

’’ پھر یوں ہوا کہ اچانک شہزادہ غائب ہو گیا… ‘‘ شادمانی بیگم سانس لینے کو رکیں تو بچوں کے سوالوں کی بوچھار ہو نے لگی۔ ’’ نانی آپا ! ایسا کیسے ہو گیا۔ ۔ ؟ ‘‘ ریحان کا تجسس اس کی زبان پر آ گیا۔ ’’ دادی آپا ! شہزادہ کہاں چلا گیا؟ کیا پری اسے لے گئی؟ ‘‘ سمیہ کی حیرانی بڑھ گئی ...

مزید پڑھیے

عید گاہ سے واپسی

پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر واقعہ یاد تھا۔ اُسے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُس وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے ...

مزید پڑھیے

بنتے مٹتے دائرے

وہ خصوصی طور پر آسمان سے نہیں اتری تھی۔ اسی گاؤں میں پیدا ہوئی۔ بڑی ہوئی اوراب گاؤں کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گاؤں کی پہلی لڑ کی تھی جس نے ظلم سہا اورآہستہ آ ہستہ خود کو ظلم کے خلاف کھڑا بھی کیا ۔ وہ عام سی لڑکی تھی۔ وہ، ما تا دین اورشربتی کی اکلو تی اولاد تھی۔ بچپن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6105 سے 6203