قومی زبان

مداوا

موسم کی چوتھی بارش تھی ۔ گل شیر نے اپنے معصوم بچوں کے ڈرے ہوئے چہرے دیکھے ۔ اسے ایسا لگا کہ جیسے سب سوالی ہوں ۔ ’’بابا یہ چھت ہم پر تو نہیں گر جائے گی ۔ ‘‘ یہ ایک ایسی ماں کے پیٹ سے افلاطونی دماغ لے کر نکلے تھے جسے ڈھنگ سے روٹی بھی میسر نہیں تھی ۔ کبھی کبھی وہ ان بچوں کے سلگتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

آؤ پیار کریں

وہ چوہدری صاحب کی رہنمائی میں ایک کھلے بازار سے گزرنے کے بعد نسبتًاایک تنگ گلی میں داخل ہو چکی تھی۔ یہ راستہ اس کے لیے اجنبی نہیں تھا۔ اس کااس راستے سے کئی بار گزرنا ہوتا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس پلازے کے تہہ خانے میں پرانی کتابوں کا اتنا بڑا گودام ہو گا۔ کئی با رگزرتے ...

مزید پڑھیے

مزدوری

شام نے جونہی آنچل پھیلایا۔نیلو نے اپنا آنچل سمیٹ لیا۔سینے کی تنی ہوئی چٹانوں پر نگاہ ڈالی۔کھلے بالوں کو پکڑکر جوڑے میں قید کیا۔ گردن کو موتیوں کی مالا سے سجایا۔ پاؤں میں ہیل پہنی۔ ہینڈ بیگ اٹھایا۔ کمرے کا دروازہ بند کیا۔ اب نیلو گلی میں تھی۔نیلو کے پاؤں تلے زمین تھی اور سر پر ...

مزید پڑھیے

بھوک

یہ رات کا پچھلا پہر تھا۔کمرے میں سکوت طاری تھا لیکن کوئی تھا جو بول رہاتھا۔ٹی وی تو بند تھا پھروہ کون تھا۔؟میں نے اردگرد دیکھا۔ وہ مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔ میں نے اپنے بسترکی طرف دیکھا۔ وہ میرے ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا۔کمال ہے کہ وہ میرے اس قدر نزدیک تھا اور میں اس کی آوازکی سمت کا ...

مزید پڑھیے

عجیب لڑکا

رات نے سورج کو رہائی دی تو کرنوں نے دنیا کو بقعہ نور بنادیا۔ میں بھی اسی انتظار میں تھی۔ روشنی کی رمق محسوس ہو تے ہی اٹھ بیٹھی۔معمولات صبح سے فراغت کے بعد میں نے جلدی جلدی گرم گرم روٹی حلق سے اتاری۔ مجھے دفتر پہنچنے کی جلدی تھی۔آج دیر بھی تو ہو گئی تھی۔ گھر سے نکل کر ابھی دوچار ...

مزید پڑھیے

برگد کا پیڑ

گاؤں کے میدا ن میں، کچے راستے کے پاس، برگد کا پیڑ یوں کھڑا ہے جیسے کوئی عہد ساز مفکر، حکمت کے سرمائے تلے جھکا ماحول کا جائزہ لے رہا ہو۔ وقت نے اس کی جٹاؤں میں ان گنت لمحات گوندھ ڈالے ہیں۔ گرمیوں کی آمد سے پہلے اس کے دور اندیش پتے اپنے اندر پانی جمع کرلیتے ہیں۔ سردیوں میں ہر پتے کی ...

مزید پڑھیے

سہمے کیوں ہو انکُش!

مسزپاٹل بہت پریشان تھیں۔ شرمندہ بھی تھیں۔ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا شریر بچہ شرارتوں میں اِس حد تک بڑھ جائے گا کہ انہیں پورے قصبہ میں شرمندہ ہونا پڑے گا۔ انکُش نام کا انکش یعنی بندھن تھا مگر اس پر کوئی بندھن عائد نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ایک لمحہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ کلاس میں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی شاخ کا پتّہ

کار تیزی سے بورگھاٹ کی پہاڑیوں سے گزرتی جا رہی تھی۔رئیسہ کار کی پچھلی سیٹ پر لیٹی ہچکولے کھا رہی تھی۔اس کی آنکھیں کسی اندرونی درد کا اظہار کر رہی تھیں۔آگے ڈرائیور کی سیٹ پر شہزاد بیٹھا تھا۔ ’’شیزو!‘‘ اس نے بے اختیار آواز دی، ’’اورکتنا راستہ باقی ہے؟‘‘ شہزاد نے شاید اس کی ...

مزید پڑھیے

بے نام سی خلش

’’ہیلو مس چودھری! ‘‘۔ ممبئی جیسے اجنبی شہرمیں ریلوے اسٹیشن پر ایک خوب رُو نوجوان کو اپنے کو وِش کرتے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ بہت دیر سے وہ روبی کے انتظار میں پلیٹ فارم کی ایک خالی بینچ پر بیٹھ کر پریشان نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ ’’فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ...

مزید پڑھیے

راکھ سے بنی انگلیاں

بنگلور سے ممبئی آنے کے بعد مجھے ذہنی سکون نہیں ملا۔وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ کسی اچھے علاقے میں اچھا کرایہ ادا کرکے رہنے کا اہل نہیں تھا۔ممبئی میں مکان کا ملنا بھی کچھ آسان نہیں ہوتا۔بہت کوششوں کے بعدجس بلڈنگ میں مجھے جگہ ملی تھی، وہ غریبوں کی چال کا ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5952 سے 6203