مداوا
موسم کی چوتھی بارش تھی ۔ گل شیر نے اپنے معصوم بچوں کے ڈرے ہوئے چہرے دیکھے ۔ اسے ایسا لگا کہ جیسے سب سوالی ہوں ۔ ’’بابا یہ چھت ہم پر تو نہیں گر جائے گی ۔ ‘‘ یہ ایک ایسی ماں کے پیٹ سے افلاطونی دماغ لے کر نکلے تھے جسے ڈھنگ سے روٹی بھی میسر نہیں تھی ۔ کبھی کبھی وہ ان بچوں کے سلگتے ہوئے ...