قومی زبان

ایتھنے اور سموں

جولاہے بہت پریشان تھے ،انہیں ڈر تھا کہ کہیں کمہاروں کی بیٹی کی طرح ان کی بیٹی بھی کسی آفت کا شکار نہ ہو جائے ۔ مگر سموں جولاہن جس کا خمیر جانے کس مٹی کا بنا تھا کسی کی بات پر کان نہ دھرتی تھی ۔ حسن ہمیشہ مغرور ہوتا ہے یا مغرور سمجھ لیا جاتا ہے پس ایسا ہی کچھ معاملہ سموں کے ساتھ بھی ...

مزید پڑھیے

چیونٹیاں

رات کے کسی پہر وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا سارا بدن پسینے سے شرابور تھا اور سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی۔ جیسے ابھی ابھی کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوا ہو۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ایسا کئی بار ہو چکا تھا مگر خواب اسے یاد نہ رہتا صبح اٹھ کر وہ معمول کے مطابق اپنے سب کام انجام دیتا۔ ایسا تو بہت ...

مزید پڑھیے

تلاش

وہ ایک شاعر اور مصور تھا جو بھٹکتا ہوا اُس بستی میں آن پہنچا تھا جہاں اس کے اطراف میں موجود کل کائنات مٹی دھول اور اندھیروں سے اٹی تھی۔ اس کے ارد گرد نہ تو حسین چہرے تھے اور نہ ہی رنگا رنگ فطری مناظر جنہیں وہ کینوس پر اتار لیتا۔ اس نے اپنی تصویروں میں گرد آلود پاٶں، سوکھے پھول ...

مزید پڑھیے

رات کی مسافر

میرے حلق میں تمبوں کی کڑواہٹ اتری ہوئی ہے۔ دیکھ پرچھائیں۔۔۔ میری حیاتی میں سَنھ لگا کر تو یہ کیوں چاہتی کہ میں تیری چاپلوسی کروں تجھے مکھن لگاٶں اور تو بھونگوں کی طرح میرے قدموں کی مٹی تلے کھڈیں نکال لے ؟ دیکھ میں نے پہلے بھی تیری کسی ہم شکل کے سامنے اپنا من مارا تھا تو ہربار ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے راز اور خول

دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے ۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے ۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے لگ جاتی ہے مگر کئی بار ...

مزید پڑھیے

کلمہ مہمل

سرد اداس موسم میں رات جلد اتر آتی ہے ۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے ہیں اور میں رائٹینگ ٹیبل پر بیٹھی ہاتھ میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھے ہوں، میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے کی ایسی عادت ڈالی کہ میں ...

مزید پڑھیے

چلتی پھرتی عورت

رنگو چاچا کا ہوٹل آیا تو راول کے پیٹ میں ناچتی بھوک نے سفر کرنے سے انکار کر دیا ۔ راول نے ٹرک کو تھپکی دی اور نیچے اُتر گیا ۔ ’’جلدی آ چھوٹے۔۔۔! زور کی بھوک لگی ہے ۔ ‘‘ راول نے ڈھابے پر اُترتے ہی فوراً چھوٹے کو آواز دی ۔ اس وقت راول کو بھوک بھی بہت لگی تھی اور نیند بھی بہت آ ...

مزید پڑھیے

پنچھی

رات نے ہر چیز کو تاریکی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ دھیمی دھیمی سی ہوا چل رہی تھی۔ پھولوں کی خوشبو مانو کو مدہوش کیے دے رہی تھی۔پلکوں کو ہجر اب گوارا نہیں تھا۔ آنکھیں خود بخود بند ہوتی جارہی تھیں۔اس نے خود کو نیند کے سپرد کردیا۔ شب کے راجانے دن کے راجا کے دستا ر بندی کی تو تیرگی کی چادر ...

مزید پڑھیے

ملاقات

یہ ایک خنک رو دن تھا ۔ فلک پر گھٹائیں مستیاں کررہی تھیں ۔ کالی سرمئی بدلیاں مجھے وادی کشمیر کے حسین نظارے یاد دلارہی تھیں جنہیں میں نے اپنے دل کے آنگن میں چھپا رکھا تھا ۔ جب دیکھنے کو من کرتا تو ایک جھانک سے جیسے سارا منظر میری نگاہوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا ۔ میں جنت نظیر وادی میں ...

مزید پڑھیے

جستجو

شب نے ستاروں کی شال اوڑھ لی تھی۔مسافر کے اعصاب شل ہو چکے تھے اور وہ پوری طرح نڈھا ل ہو چکا تھا۔تھکن اس کی ہمت کو پسپا کیے دے رہی تھی لیکن سفر اس کا مقدر بن چکا تھا۔ اس کا پہلا سفر اس کی زبان سے نکلنے والے پہلے لفظ ”اللہ جی“ کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس ایک لفظ سے وہ اس کے معنی تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5951 سے 6203