قومی زبان

وہیل چئرب پر بیٹھا شخص

ایئر پورٹ کی شاندار اور مشہور ڈیوٹی فری دوکانوں میں نیلے یونیفارم میں کام کرنے والی لڑکیاں خریداری میں مسافروں کی مدد کر رہی تھیں۔ ٹرمینل ون کی انڈیگو اے ئر لائنس کا ابھی اعلان نہیں ہوا تھا۔ صائمہ دوکان سے باہر نکل کرذرا سُستانے کو اور وقت گزانے کو قطار میں جُڑی ہوئی کُرسیوں ...

مزید پڑھیے

ہوٹل کے کاؤنٹر پر

’ہوٹل روشنی پیلیس‘ کے کاؤنٹرپرنام پتہ درج کرواکر اپنی چابی لے رہا تھا کہ اچانک مجھے احساس ہوا کہ کوئی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے۔ سوٹ بوٹ پہنے کسرتی بدن کا وہ شخص جس کی آنکھوں پر گہرے ہرے گاگلس لگے ہوئے تھے اور کنپٹی پرسفیدی پھیلی ہوئی تھی۔ سیاہ مونچھوں میں مسکراہٹ اور آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

دیوار گیر پینٹنگ

صدف نے اپنی ماں کے گھر کے اِس ایک چھوٹے سے کمرے کو اپنا آشیانہ مستقل طور پر بنا رکھا تھا، وہ تھی اور اس کی تنہائی ، جس میں مخل ہونے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔بس آوارہ سوچیں ہی چپکے سے چلی آتیں اور ہولے ہولے باتیں کرتی ہوئی اس کے دل و دماغ پر چھا جاتیں اور وہ گھنٹوں آنکھیں بند کئے ماضی ...

مزید پڑھیے

اِکنامِکس

دو دنوں کے بخار نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔ تیسرے دن بھی وہ گھر سے باہر نہیں نکلالیکن شام کے وقت اس کے جی میں جانے کیا سمائی کہ بازار سے مٹھائی خرید لی اور اپنے خیر خواہوں سے ملنے چلا گیا۔دراصل عمارت کے اس منزلے پر شہلا کا گھر سب سے آخری تھا۔اختر ان کے پڑوس میں رہتا تھا۔شہلا کی امی ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں کے بادل

ڈاکٹر راحین اپنی ڈسپنسری کا پرانا اسٹاک دیکھ رہی تھیں۔ وہ کچھ مہینوں بعد ایکسپائرہونے والی دوائیاں نکال کر الگ کر رہی تھیں۔ان کے ڈسپنسری کے اوقات صبح نو سے بارہ اور شام چھ سے آٹھ تھے۔اس وقت دوپہر کے بارہ بجے تھے۔شاید آج کا آخری مریض جا چکا تھایا شاید ابھی کوئی باقی ہو!تبھی ایک ...

مزید پڑھیے

پیج ندی کامچھیرا

دھوپ چڑھے پیج ندی کے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دھوپ سے گہرائے گہرے سانولے رنگ کے مرد بارود کو آگ دِکھا کر ندی میں پھینک رہے تھے۔پَھٹ پَھٹ کی آوازیں آس پاس کے گاوؤں میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔جمعرات کا دن تھا۔ مہادوُ آج ذرا دیر سے ندی پر پہنچا تھا۔وہ اپنے گاؤں کی ایک دوکان سے ...

مزید پڑھیے

شیشے کا دروازہ

’’اسٹیشن روڈ کی گلی میں ایک ورائٹی اسٹور میں ایک لڑکی کے لیے جاب ہے ۔‘‘، میری سہیلی شبانہ نے مجھے بتایا،’’ وہاں لڑکیاں بھی کام کرتی ہیں۔‘‘ جا کر دیکھا۔ یہ ایک بیس فٹ چوڑی اور سترہ فٹ لمبی دوکان تھی۔ دائیں طرف دوکان کی مالکن کا انگریزی کے ’ایل‘ کی شکل کا کانچ کا ٹیبل تھا۔ ...

مزید پڑھیے

ٹمٹماتے ہوئے دیے

یہ علاقہ شہر کی ہلچل سے کچھ دور واقع تھا۔اِس ڈِیمڈ یونیورسِٹی میں کئی فیکلٹیز تھیں۔ کینٹین ایک طرف تھا، دوسری طرف ہاسٹل کی دو منزلہ عمارتیں ۔ چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔اُسی کے بیچ کچی پگڈنڈیاں تھیں جو سبھی عمارتوں کو آپس میں جوڑتی تھیں۔ پگڈنڈیوں کی لال مِٹّی پر سپرِنگ ...

مزید پڑھیے

ذوقِ اسیری

جب پہلی بار اس پر میری نظر پڑی تو وہ صوفے پر بیٹھا بہت تحمل سے کسی کی بات سن رہا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ وہ متوجہ تو ہے لیکن سن نہیں رہا۔ یقیناً آپ کو کبھی نہ کبھی اس بات کا تجربہ ضرور ہوا ہو گا۔ وہ کچھ ایسا ترچھا بیٹھا تھا کہ اس کی شکل بھی پوری طرح نظر نہیں آئی لیکن اس ادھورے ...

مزید پڑھیے

دھوپ کی تپش

آج بھی وہ اپنے مقر رہ وقت پر ہی آئے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں تھی۔ بچپن سے ہی میں نے سیکھ لیا تھا کہ وہ جس وقت کا وعدہ کرتے ہیں اسی وقت پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی آمد کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کبھی کبھی ایک خوشگوار حیرانگی کے لئے بغیر اطلاع کے بھی پہنچ جاتے ہیں۔ آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5953 سے 6203