قومی زبان

روشندان

صغریٰ حیران رہ گئی۔ اپنوں کے رویے حالات کے چاک پر ایسی گھڑتیں بھی تبدیل کر لیتے ہیں کیا؟ابھی ابھی جو اُس کے گرد بیں ڈالتی اور اُسے پلوتے دیتی ہوئی باہر نکلی تھی وہ اُس کی اپنی ماں تھی جو اُسے بیٹوں کی طرح باسی روٹی کے ساتھ کھانے کو دہی کا پاؤ بھر دیتی اور چپڑی ہوئی روٹیوں کے ...

مزید پڑھیے

بوڑھی گنگا

اسٹیمر کے دائیں بائیں چھٹتے جھاگ دار بلبلے دولی کے خیالات کی طرح بوڑھی گنگا کے سینے میں ڈوبتے اُبھرتے تھے۔ دولی کے پراگندہ دِل و دماغ کی طرح چنگھاڑتے کراہتے احتجاج کرتے اور پھر مقدر کی طرح بے بس ہو جاتے۔پرانا روغن اُترا اسٹیمرکنارے چھوڑ رہا تھا۔ جس کے دروازوں کے قبضے، کھڑکیوں ...

مزید پڑھیے

آدھی سیڑھیاں

سعیدہ بیگم اپنے کمرے سے نکل کر دہرے دالان سے ہوتے ہوئے احمد کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’اٹھ گئے بیٹے؟‘‘ ’’جی امی جان۔۔۔‘‘ احمدآنکھیں ملتا ہوابسترسے اترکر کھڑاہوگیا۔ ’’آفتابے میں گرم پانی رکھ دیا ہے ،جائو منہ دھولو۔‘‘ احمدنے منہ دھولیا توسعیدہ بیگم ناشتہ لے کر اس کے ...

مزید پڑھیے

تین سال

علی جان کواپنے ماتھے پربندھے سہرے کی لڑیاں لوہے کی زنجیروں سے بھی زیادہ وزنی اورخوفناک لگ رہی تھیں۔ وہ پھولوں میں منہ چھپائے کچھ اس طرح سہما ہوا بیٹھا تھا جیسے چڑیا کابچہ سرپر باز کواڑتے دیکھ کر سہم جاتا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ مرزامجید اپنے ساتھ گائوں کے پردھان ،داروغہ جی اور ...

مزید پڑھیے

لکیر

آج سورج غروب ہونے سے پہلے بادلوں بھرے آسمان پرعجب طرح کا رنگ چھاگیا تھا۔ یہ رنگ سرخ بھی تھا اور زردبھی۔ ان دونوں رنگوں نے آسمان کودرمیان سے تقسیم کردیاتھا۔ جس مقام پر دونوں رنگ مل رہے تھے، وہاں ایک گہری لکیر دکھائی دیتی تھی۔ دھیان سے دیکھنے پر محسوس ہوتا کہ لکیر کے آس پاس ...

مزید پڑھیے

آن بان

’’کیا؟ہری سنگھ کی شادی ہورہی ہے؟ارے کسی نے یوں ہی اُڑادی ہوگی۔‘‘ ’’اجی نہ چودھری صاحب، بات سولہوآنہ پکی ہے۔‘‘سندر نے کہا۔ ’’مگربھئی ،یہ ہواکیسے؟‘‘ ’’کان میں اُڑتی اُڑتی پڑی ہے کہ گھٹیا والے ننوانے بات لگائی ہے۔‘‘سندرگردن کامیل چھڑاتے ہوئے بولا۔ ’’کس کے ...

مزید پڑھیے

کھوکھلا پہیا

’ہم تو خدا کے بنائے ہوئے پہیّے ہیں، کھوکھلے پہیے ۔۔۔وہ جس طرح چاہتا ہے گھماتا ہے اوراگر ہم گھومنے سے انکار کریں۔۔۔ انکار؟ انکار کیسے کرسکتے ہیں، ہمیں توگھومتے ہی رہنا ہے، کبھی مرضی سے اورکبھی مرضی کے بغیر۔‘ وہ ہرشام دھندے پر نکلنے سے پہلے یہی سوچاکرتا۔ اس نے لونی لگی کچی ...

مزید پڑھیے

پورٹریٹ

’آج وہ اس پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پرجاکر تصویربنائے گا۔ وہ برسوںسے بھٹک رہاہے۔ کبھی نالندہ کے کھنڈروںمیں اورکبھی بودھوںکے پرانے مندرکے اردگرد۔ اس نے راجگیرکے برھما کنڈمیںاشنان کرتی دوشیزائوںکی تصویریںبنائی ہیں توکبھی کشمیرکی پہاڑیوںسے گرتے جھرنوںکی۔ اس کابرش اجنتا کی ...

مزید پڑھیے

نملوس کا گناہ

نملوس آبنوس کا کندہ تھا،اس پر ستارہ زحل کا اثر تھا ۔ حلیمہ چاند کا ٹکڑہ تھی اور جیسے زہرہ کی زائدہ تھی۔ نملوس کے ہونٹ موٹے اور خشک تھے ۔حلیمہ کے ہونٹ ایک ذرا دبیز تھے۔ ان میں شفق کی لالی تھی اور رخسار پر اگتے سورج کا غازہ تھا۔ نملوس کے دانت بے ھنگم تھے، بال چھوٹے اور کھڑے کھڑے سے ...

مزید پڑھیے

باگمتی جب ہنستی ہے

باگمتی جب ہنستی ہے تو علاقے کے لوگ روتے ہیں ۔ اس بار بھی باگمتی بارش میں کھلکھلاکر ہنس پڑی ہے اور لوگ رو پڑے ہیں ۔ ہنستی ہوئی باگمتی مویشی اور جھونپڑیاں بہا لے گئی ہیں۔دور تک جل تھل ہے۔ دراصل یہ علاقہ دو طرف سے باگمتی کی بانہوں سے گھرا ہے ۔ ایک طرف لکھن دئی بھی اس کے پاؤں چھوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5924 سے 6203