قومی زبان

کاغذی پیراہن

آمنہ جھنجھلا گئی۔ بی بی جی نے پھر بہانہ بنایا تھا ۔ اس بار ان کی چابی گم ہوگئی تھی اور آمنہ سے بن نہیں پڑا کہ پیسے کا تقاضا کرتی۔ وہ نامراد لوٹ گئی۔ آمنہ کو یقین ہونے لگا کہ بی بی جی اس کے پیسے دینا نہیں چاہتیں۔اس کو غصّہ آ گیا۔. وہ کوئی بھیک تو نہیں مانگ رہی تھی ۔۔۔؟اس کے اپنے پیسے ...

مزید پڑھیے

منرل واٹر

اے سی کیبن میں اس کا پہلا سفر تھا ۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ایسا موقع ہاتھ آگیا تھا ورنہ اس کی حیثیت کا آدمی اے سی کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا ۔وہ ایک دواساز کمپنی میں ڈسپیچ کلرک تھا اور اس وقت راجدھانی اکسپریس میں منیجر کی جگہ خود سفر کررہا تھا۔ اصل میں کمپنی کا ایک معاملہ سپریم کورٹ ...

مزید پڑھیے

مر گھٹ

اونٹ کے گھٹنے کی شکل کا وہ آدمی اب بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں اور گال قبر کی طرح اندر دھنسے ہوئے تھے۔ لگتا تھا کسی نے چہرے کی جگہ ہڈیاں رکھ کر چمڑی لپیٹ دی ہو۔ آنکھیں حلقوں میں دھنسی ہوئی تھیں اور کنپٹیوں کے قریب آنکھ کے گوشے کی طرف کوّوں کے پنجوں جیسا ...

مزید پڑھیے

ظہار

’’تو میرے اوپر ایسی ہوئی جیسے میری ماں کی پیٹھ۔۔۔!‘‘ اور نجمہ زار زار روتی تھی۔۔۔ وہ بھی نادم تھا کہ ایسی بیہودہ بات منھ سے نکل گئی اور مسئلہ ظہار کا ہوگیا۔ پہلے اس نے سمجھا تھا نجمہ کو منا لے گا کہ معمولی سی تکرار ہے لیکن وہ چیخ چیخ کر روئی اور اٹھ کر ماموں کے گھرچلی گئی۔ اس ...

مزید پڑھیے

اونٹ

مولانا برکت اللہ وارثی کا اونٹ سرکش تھا اور سکینہ رسی بانٹتی تھی۔ مولانا نادم نہیں تھے کہ ایک نامحرم سے ان کا رشتہ اونٹ اور رسی کا ہے لیکن وہ مسجد کے امام بھی تھے اور یہ بات ان کو اکثر احساس گناہ میں مبتلا کرتی تھی۔ جاننا چاہیے کہ اونٹ کی سرکشی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔۔۔؟ اونٹ کی سر ...

مزید پڑھیے

القمبوس کی گردن

القمبوس پیدا ہواتواس کی گردن پر ہلکا سا سبز نشان تھا ۔نشان دوج کے چاند کی طرح باریک تھا ۔ شروع شروع میں کسی نے توجہ نہ دی کہ نشان کیسا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ پھیلتا گیا اور جب القمبوس کی عمر پانچ سال کی ہوئی تو اس کی شکل تلوار سی ہوگئی۔ تب القمبوس کے باپ کو تجسس ہوا کہ یہ کس بات کی ...

مزید پڑھیے

چھگمانُس

کپور چند ملتانی کی ساڑھے ساتی(ستارہ زحل کی نحس چال) لگی تھی۔اس کو ایک پل چین نہیں تھا ۔ وہ کبھی بھاگ کر مدراس جاتا کبھی جے پور ۔ان دنوں کٹھمنڈو کے ایک ہوٹل میں پڑا تھا اور رات دن کبوتر کی مانند کڑھتا تھا ۔ رہ رہ کر سینے میں ہوک سی اٹھتی ۔ کبھی اپنا خواب یاد آتا ،کبھی جیوتشی کی ...

مزید پڑھیے

لاہور کا ایک واقعہ

یہ بات ۱۹۳۷ء کی ہے۔ میں ان دنوں لاہور میں تھا۔ ایک دن میرے جی میں آئی کہ چلو علامہ اقبال سے مل آئیں۔ اس زمانے میں میرے پاس ہلکے بادامی سفید (Off White) رنگ کی ایمبسیڈر (Ambassador)تھی۔ میں اسی میں بیٹھ کر علامہ صاحب کی قیام گاہ کو چلا۔ ان کی کوٹھی کا نمبر اور وہاں تک پہنچنے کا صحیح راستہ ...

مزید پڑھیے

رات کا دکھتا دن

دن بھر دھوپ کی آنچ میں جلنے والا نیم کا پیڑ لوٹتے پرندوں کو ہاتھوں ہاتھ سمیٹ رہا تھا۔ حوالدار جلال بان کی کھری چارپائی پر چت لیٹا اور آتی جاتی دھوپ اور آتے پرندوں کا کھیل دیکھنے میں مگن تھا۔ صحن میں ایک طرف کچی مٹی کے سلگتے چولہے پر رکھی کیتلی میں پانی کھولنے لگا۔۔۔ بھاپ کے ...

مزید پڑھیے

کوبڑ

اس نے اسٹیشن پہنچنے میں کچھ اور دیر کردی ہوتی تو ٹرین چھوٹ جاتی۔ ا چانک اس کی اماں نے حکم صادر کردیا تھا کہ اسے اپنے چھوٹے بھائی کو دہلی جاکر سی آف کرنا ہوگا۔ وہاں سے آگے اللہ مالک ہے۔ کم سے کم وہاں تک کی خیر و خبر تو اماں کو اس کے ذریعہ مل جائے گی۔ اس طرح اچانک ہزار میل کا سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5925 سے 6203