قومی زبان

نیم پلیٹ

’’کیانام تھا اس کا؟ اُف بالکل یاد نہیں آرہا ہے۔‘‘ کیدارناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹاکر پھینک دیااور اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ ’’یہ کیاہوگیا ہے مجھے، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آرہی ہے ۔ہوگا کچھ نام وام ،نہیں یادآتا توکیاکروں، لیکن نام تو یادآناہی چاہیے۔ آخروہ میری بیوی ...

مزید پڑھیے

شیشے کی کرچیں

وارڈ کے سب مریض گہری نیند سوتے رہے اوروہ صبح کے انتظارمیں رات بھر کروٹیں بدلتارہا۔ صبح ہوتے ہی مریمؔ اپنی ٹیم کے ساتھ سفید ایپرن پہنے، گلے میں آلہ لٹکائے آہستہ سے آئے گی اورپوچھے گی ۔ ’’کوئی پرابلم ؟‘‘ ’’جی نہیں ڈاکٹر ۔۔۔‘‘وہ ہمیشہ یہی کہتا لیکن مریمؔ اس جواب سے کبھی ...

مزید پڑھیے

بندوق

شیخ سلیم الدین عشاء کی نماز کے بعد حویلی کے دالان میں بیٹھے حقہ پی رہے تھے ۔ان کابیٹا غلام حیدربھی مونڈھا کھینچ کران کے پاس ہی آن بیٹھا۔ ’’ابّاحضوران دنوں فضاٹھیک نہیں ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ بازار میں کچھ مشکوک چہرے آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔ وہ قصبے سے باہر کے لوگ ہیں۔ تیج پالؔ سے ...

مزید پڑھیے

باغ کا دروازہ

گرمیوں کی تاروں بھری رات نے گھر کے بڑے آنگن کوشبنم کے چھڑکائو سے ٹھنڈا کردیاتھا۔ جیسے ہی دادی جان نے تسبیح تکیے کے نیچے رکھی نوروز کود کران کے پلنگ پر جاپہنچا۔ ’’دادی جان جب سبھی شہزادے باغ کی رکھوالی میں ناکام ہوگئے تو چھوٹے شہزادے نے بادشاہ سلامت سے کیا ...

مزید پڑھیے

شرط

بنام بنک آفیسر۔۔۔تمہاری شرط کو پورا کرنے کے لئے پندرہ سال میں نے اس انیکسی میں گزارے ہیں۔ یہاں سے بیٹھ کر اس سر زمین کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے یہ سچ ہے کہ میں نے زمین کی یا انسان کی شکل نہیں دیکھی لیکن تمہاری کتابوں میں ،ہرنوں اور شیروں کا شکار کیا ہے، خوشبو دار شراب پی ہے ، گانے ...

مزید پڑھیے

سیڑھیاں

آنگن میں سائیکل چلاتی تو اس کے سنہری بال ہوا میں لہراتے ، سرخ ہوتے عارض پہ اتراتے تبسم کا پھیلاؤ ، اس کی خوشبو چہار سو پھیلا دیتا۔ ایسے میں بلڈنگ کا دراز قد منیجر , چوڑا چکلا ہڈ کاٹھ ، جھریوں سے بھرپور چہرے پہ خشخشی بال ، بھنویں اڑی اڑی ، سفیدے کا زیرہ تمام بالوں مین نمایاں ، اِس ...

مزید پڑھیے

برف کا صحرا

برف کا یہ صحرا میری کھڑکی سے نکل کر دور جھکتے آسمانوں کو چھونے کی سعی کر رہا تھا۔ کہیں کہیں کوئی برہنہ شجر اس سمندر نما میں سر اٹھائے مجھے یوں تک رہا تھا جیسے مجھے اپنے سے تشبیہہ دینا چاہتا ہو۔ میں نے سوچا کہاں وہ شجر اور کہاں میں ہونہہ، تم میری طرح قیدی تو ہو لیکن تمہارے سر پر ...

مزید پڑھیے

اعترا ف

سرسبز میدان میں کہیں کہیں درخت موجود تھے۔ انہی میں سے چند درختوں کی چھاؤں میں ایک دو لوہے کی میزیں اور دس پندرہ کرسیاں رکھی تھیں۔ کچھ طالبعلم وہاں آن پہنچے تھے اور باقی آتے جا رہے تھے۔ پروفیسر کے آتے ہی سب طالبعلموں کی تیز تیز آوازیں اور شور دھیما پڑ گیا ، وہی موضوعات جن پر وہ ...

مزید پڑھیے

خود اتلاف

نہر کے بہاؤ کے ساتھ میری لاش تیرتی بہت دور نکل آئی۔ یہ لہریں مجھے بہاتی ہوئی جانے کہاں لے جا رھی ہیں۔ اس دریا کے کنارے خوبصورت، خوشبودار ، خوش رنگ پھول اُگے ہوئے ہیں۔ یہ پھول سبز گھاس مین چمکدار ستاروں کی مانند دکھائی دیتے ہیں میرا یہ سفرِ آخر ایک نئی زندگی کی شروعات ہے جو اس ...

مزید پڑھیے

تم کون ہو ؟

ہوائیں سیدھی ہمارے چہرے کو مَس ہوتی ہوئی ہمارے پیچھے کی جانب روانہ تھیں۔ ہمارے بال چند لمحوں کو ہوا کے ہمدم و ساتھی بنتے اور پھر ہوا کے گذر جانے پر ان کی زندگی اتھل پتھل ہو جاتی۔ ہم اپنے کپڑوں کے اڑانے سے لے کر ہوا کی ہر ہر حرکت پر نظر کئے ہوئے تھے۔ کبھی ہم ہوا کے مخالف رخ کھڑے ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5917 سے 6203