قومی زبان

جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہے

جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہے ایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہے رات بھاری تھی تو تھے اس کے ستم سے بے زار صبح آئی ہے تو وہ اور بری لگتی ہے وہ ہو آرائش افکار کہ زیبائش فن آج دونوں کی روش خانہ پری لگتی ہے لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب روشنی اپنے چراغوں کی بری لگتی ...

مزید پڑھیے

غیرت عشق کا یہ ایک سہارا نہ گیا

غیرت عشق کا یہ ایک سہارا نہ گیا لاکھ مجبور ہوئے ان کو پکارا نہ گیا کیا لہو روئے تو آیا ہے بہاروں کا سلام صرف خوابوں سے حقائق کو سنوارا نہ گیا معرکہ عشق کا سر دے کے بھی سر ہو نہ سکا کون راہی تھا جو اس راہ میں مارا نہ گیا وہ بھی وقت آتا ہے ساقی بھی بدل جاتے ہیں مے کدے پر کبھی مستوں ...

مزید پڑھیے

شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئی

شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئی گھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئی حیات تازہ کے خطروں سے دل دھڑکتا تھا ہوا چلی تو کلی پھر بھی مسکرا ہی گئی نقاب میں بھی وہ جلوے نہ قید ہو پائے کرن دلوں کے اندھیرے کو جگمگا ہی گئی تغافل ایک بھرم تھا غرور جاناں کا مری نگاہ محبت کا رمز پا ہی ...

مزید پڑھیے

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی آئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی یاں تشنہ کامیاں تو مقدر ہیں زیست میں ملتی ہے حوصلے کے برابر کبھی کبھی آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی ...

مزید پڑھیے

ایک اک پتا ہواؤں سے ہے لڑنے والا

ایک اک پتا ہواؤں سے ہے لڑنے والا پیڑ اس کا نہیں آندھی سے اکھڑنے والا راہ چلتے ہوئے انگلی بھی کسی کی نہ پکڑ بھیڑ میں ہوتا ہے ہر شخص بچھڑنے والا اک ہمکتے ہوئے بچے کی طرح ضد نہ کر خوش نما جسم کھلونا ہے بگڑنے والا ختم محلوں کی روا داری کا دستور ہوا اب یہاں کون ہے دیوار میں گڑھنے ...

مزید پڑھیے

جتنی تیزی سے آ رہا تھا وہ

جتنی تیزی سے آ رہا تھا وہ لوٹ کر دور جا رہا تھا وہ صرف رشتے کی بات پر یارو عمر اپنی چھپا رہا تھا وہ تتلیاں جتنی سامنے آئیں رنگ سب کے چرا رہا تھا وہ دل کسی سے نہیں ملا اس کا ہاتھ سب سے ملا رہا تھا وہ زخم خوردہ صداؤں کو عاجزؔ خامشی سے اٹھا رہا تھا وہ

مزید پڑھیے

زخموں کے دہن بھر دے خنجر کے نشاں لے جا

زخموں کے دہن بھر دے خنجر کے نشاں لے جا بے سمت صداؤں کی رفعت کا گماں لے جا احساس بصیرت میں عبرت کا سماں لے جا اجڑی ہوئی بستی سے بنیاد مکاں لے جا شہروں کی فضاؤں میں لاشوں کا تعفن ہے جنگل کی ہوا آ جا جسموں کا دھواں لے جا ہے اور ابھی باقی تاریک سفر شب کا اگنے دے نیا سورج پھر چاہے ...

مزید پڑھیے

سینہ لہولہان ہے کالی چٹان کا

سینہ لہولہان ہے کالی چٹان کا پتھر میں بھی گمان سا ہوتا ہے جان کا چھوٹا سا ایک تنکا چڑیا کی چونچ میں شہتیر لگ رہا تھا جو اونچے مکان کا قندیل لے کے خود ہی وہ خندق میں جا گرا نعرہ لگا رہا تھا ابھی ساؤدھان کا ہے سامنے سے آنکھ ملانے کا لطف اور کھیلے گا کیا شکار شکاری مچان کا عاجزؔ ...

مزید پڑھیے

منہ جو دیکھے آئینہ گر کانچ کا

منہ جو دیکھے آئینہ گر کانچ کا مسکرا اٹھے مقدر کانچ کا بھول جاؤں گا میں اپنے آپ کو عکس پہچانے گا جو ہر کانچ کا پتھروں کا ہے نصیبہ اوج پر لے گئی تہذیب جھومر کانچ کا ہاتھ سے بچے کے پتھر چھین لو آدمی ہے میرے اندر کانچ کا وائیپر کے رقص سے عاجزؔ اسے فیض پہنچا زندگی بھر کانچ کا

مزید پڑھیے

آبلہ پائی ہوئی نہ زیست میں حائل کبھی

آبلہ پائی ہوئی نہ زیست میں حائل کبھی پاؤں کب میرے تھکے گر ہو گئے گھائل کبھی پر کشش ہے محفل دنیا بہت اپنی جگہ پر مجھے یہ اپنی جانب کر سکی مائل کبھی ہر عمل کا اجر ہے محفوظ اپنے رب کے پاس کوئی بھی اچھا عمل جاتا نہیں زائل کبھی چھا گئی مستی بدن میں اور دل پر اک سرور ذہن میں جب بج اٹھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5885 سے 6203