قومی زبان

عقل تھی آگہی نے مار دیا

عقل تھی آگہی نے مار دیا دید کو روشنی نے مار دیا ایک بیکس تھا جس کے خوابوں کو اس کی بے چارگی نے مار دیا ہم نے چاہا کہ بات بن جائے زیست کی بے رخی نے مار دیا دیکھ کر پانی مر گیا پیاسا اس کو سچی خوشی نے مار دیا تھا جو اپنا بنا وہ انجانا پھر اسی اجنبی نے مار دیا کیا تعجب کی کوئی بات ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ جو میرا تھا

اک دن تم نے مجھ سے کہا تھا دھوپ کڑی ہے اپنا سایہ ساتھ ہی رکھنا وقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیں زرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سے جسم کا پنچھی گھایل ہے دھوپ کا جنگل پیاس کا دریا ایسے میں آنسو کی اک اک بوند کو انساں ترسے ہیں تم نے مجھ سے کہا تھا سمے کی بہتی ندی میں لمحے کی پہچان ...

مزید پڑھیے

تم بھی

مدتوں بعد آئی ہو تم اور تمہیں اتنی فرصت کہاں ان کہے حرف بھی سن سکو آرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکو جو ابھی تک لکھی ہی نہیں جا سکی اتنی مہلت کہاں میرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھی ان شگوفوں کی باتیں کرو درد ہی بانٹ لو میرے کن ماہتابوں سے تم مل سکیں کتنی آنکھوں کے خوابوں سے تم مل ...

مزید پڑھیے

تم جو سیانے ہو گن والے ہو

ہیرے موتی لعل جواہر رولے بھر بھر تھالی اپنا کیسہ اپنا دامن اپنی جھولی خالی اپنا کاسہ پارہ پارہ اپنا گریباں چاک چاک گریباں والے لوگو تم کیسے گن والے ہو کانٹوں سے تلوے زخمی ہیں روح تھکن سے چور کوچے کوچے خوشبو بکھری اپنے گھر سے دور اپنا آنگن سونا سونا اپنا دل ویران پھولوں کلیوں کے ...

مزید پڑھیے

میں ساز ڈھونڈتی رہی

احساس اولیں ایک موہوم اضطراب سا ہے اک تلاطم سا پیچ و تاب سا ہے امڈے آتے ہیں خودبخود آنسو دل پہ قابو نہ آنکھ پر قابو دل میں اک درد میٹھا میٹھا سا رنگ چہرے کا پھیکا پھیکا سا زلف بکھری ہوئی پریشاں حال آپ ہی آپ جی ہوا ہے نڈھال سینے میں اک چبھن سی ہوتی ہے آنکھوں میں کیوں جلن سی ہوتی ...

مزید پڑھیے

سنو

جان تم کو خبر تک نہیں لوگ اکثر برا مانتے ہیں کہ میری کہانی کسی موڑ پر بھی اندھیری گلی سے گزرتی نہیں کہ تم نے شعاعوں سے ہر رنگ لے کر مرے ہر نشان قدم کو دھنک سونپ دی نہ گم گشتہ خوابوں کی پرچھائیاں ہیں نہ بے آس لمحوں کی سرگوشیاں ہیں کہ نازک ہری بیل کو اک توانا شجر ان گنت اپنے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

شکست ساز

میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھی مجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملا جگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی میں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیں شدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملا ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملا ہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ...

مزید پڑھیے

یہ بستیاں ویراں نہیں

نہیں یہ بستیاں ویراں نہیں اب بھی یہاں کچھ لوگ رہتے ہیں یہ وہ ہیں جو کبھی زخم وفا بازار تک آنے نہیں دیتے یہاں کچھ خواب ہیں جو سانس لیتے ہیں جوان خوابوں کو تم دیکھو تو ڈر جاؤ فلک آثار بام و در یہاں وقعت نہیں رکھتے کلاہ و زر یہاں قیمت نہیں رکھتے یہ کتنے لوگ ہیں بے نام ہیں بے لاگ ہیں بے ...

مزید پڑھیے

آشوب آگہی

جیسے دریا کنارے کوئی تشنہ لب آج میرے خدا میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب میرے آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے جو فقط لوح جاں پر لکھے رہ گئے

مزید پڑھیے
صفحہ 5720 سے 6203