قومی زبان

نظم

خوں پتھر پہ سرک آیا گہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیا جل کنیا کے جسم پہ کالے سانپ کا سایہ لہرایا دریا دریا زہر چڑھا گیلی ریت پہ دھوپ نے اپنا نام لکھا مٹھی میں مچھلی کا آنسو سوکھ گیا گھوڑوں کی ٹاپوں سے کمرہ گونج اٹھا خرگوشوں کی آنکھوں سے سورج نکلے پھر دریا کی ناف میں کشتی ڈوب گئی کاغذ ...

مزید پڑھیے

کھڑکی اندھی ہو چکی ہے

کھڑکی اندھی ہو چکی ہے دھول کی چادر میں اپنا منہ چھپائے کالی سڑکیں سو چکی ہیں دھوپ کی ننگی چڑیلوں کے سلگتے قہقہوں سے جا بجا پیڑوں کے سائے جل رہے ہیں میز پر گلدان میں ہنستے ہوئے پھولوں سے میٹھے لمس کی خوشبو کا جھرنا بہہ رہا ہے ایک سایہ آئینے کے کان میں کچھ کہہ رہا ہے عہد رفتہ کی ...

مزید پڑھیے

تنہائی

وہ آنکھوں پر پٹی باندھے پھرتی ہے دیواروں کا چونا چاٹتی رہتی ہے خاموشی کے صحراؤں میں اس کے گھر مرے ہوئے سورج ہیں اس کی چھاتی پر اس کے بدن کو چھو کر لمحے سال بنے سال کئی صدیوں میں پورے ہوتے ہیں وہ آنکھوں پر پٹی باندھے پھرتی ہے

مزید پڑھیے

عینک کے شیشے پر

عینک کے شیشے پر سرکتی چیونٹی آگے کے پاؤں اوپر ہوا میں اٹھا کر پچھلے پاؤں پر کھڑی ہنہناتی ہے گھوڑے کی طرح عینک کے نیچے دبے اخبار میں دو ہوائی جہاز ٹکرا جاتے ہیں مسافروں سے لدی اک کشتی الٹ جاتی ہے ایک بس کھائی میں گر پڑتی ہے پانچ بوڑھے فقیر سردی سے مر جاتے ہیں کوئلہ کان میں پانی بھر ...

مزید پڑھیے

چل نکلو

راہ نہ دیکھو سورج کی کل میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کی لاش جلائی ہے صبح نہ ہوگی اور نہ اجالا پھیلے گا رات ہمیشہ رات رہے گی رات کی تاریکی کو غنیمت جان کے نکلو چل نکلو اپنے شکستہ خواب کے ٹکڑے ساتھ میں لے کر چل نکلو راہ نہ دیکھو سورج کی

مزید پڑھیے

ستارہ سو گیا ہے

جسم کو خواہش کی دیمک کھا رہی ہے نیم وحشی لذتوں کی ٹوٹتی پرچھائیاں آرزو کی آہنی دیوار سے ٹکرا رہی ہیں درد کے دریا کنارے اجنبی یادوں کی جل پریوں کا میلہ سا لگا ہے ان گنت پگھلے ہوئے رنگوں کی چادر تن گئی ہے پربتوں کی چوٹیوں سے ریشمی خوشبو کی کرنیں پھوٹتی ہیں خواب کی دہلیز سونی ہو ...

مزید پڑھیے

تنگ تاریک گلی میں کتا

تنگ تاریک گلی میں کتا میلا میلا سا تھرتھراتا چاند بھینی خاموشی کسمساتی ہوئی تنگ تاریک گلی اور سائے کو نوچتا کتا

مزید پڑھیے

تصورات میں ان کو بلا کے دیکھ لیا

تصورات میں ان کو بلا کے دیکھ لیا زمانے بھر کی نظر سے چھپا کے دیکھ لیا فسانۂ غم فرقت سنا کے دیکھ لیا انہوں نے صرف مجھے مسکرا کے دیکھ لیا کبھی کسی نے سر طور جا کے دیکھ لیا کبھی کسی نے کسی کو بلا کے دیکھ لیا نگاہ پردہ کشا کا کمال کیا کہنا جہاں جہاں وہ چھپے اس نے جا کے دیکھ لیا کہا ...

مزید پڑھیے

اگر میری جبین شوق وقف بندگی ہوتی

اگر میری جبین شوق وقف بندگی ہوتی تو پھر محشور ان کے ساتھ اپنی زندگی ہوتی جو تصویر خیالی نقش دل پر ہو گئی ہوتی تو اپنی ذات میں ہر دم تری جلوہ‌ گری ہوتی رضائے دوست پر قربان جس کی ہر خوشی ہوتی حقیقت میں اسی کی غم سے خالی زندگی ہوتی نگاہ مست ساقی سے جو مے خواروں نے پی ہوتی یقیناً ...

مزید پڑھیے

مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم

مسرور ہو رہے ہیں غم عاشقی سے ہم کیوں تنگ ہوں گے کشمکش زندگی سے ہم کوہ الم اٹھا ہی لیا راہ عشق میں اپنی خوشی کو چھوڑ کے تیری خوشی سے ہم لب ہائے یار نے تو گلستاں پرو لئے خوشبو جو پا رہے ہیں تری پنکھڑی سے ہم اپنی بہار دیکھ کے حیران رہ گئے واقف ہوئے ہیں جب سے رموز خودی سے ہم میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5690 سے 6203